ماحول دوست حج کا انعقاد

ماحولیاتی حلقوں نے سن 2020 کے حج کو ایک ‘ماحول دوست’ یا ایک ‘گرین حج’ قرار دیا ہے۔

تصویر سعودی وزارت ٹویٹر
تصویر سعودی وزارت ٹویٹر
user

ڈی. ڈبلیو

عرب دنیا کی مشہور ماحول پسند خاتون نُوہاد عود نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ رواں برس کے محدود اجتماع سے ماحول کو کتنا فائدہ ہوا لیکن اس سے ہمارے مجموعی رویے کی عکاسی ضرور ہوئی ہے۔ نُوہاد عود کے مطابق یہ ضرور محسوس ہوا کہ ماحول دوست حج کی صورت یہی ہے، جس کا پہلے تصور بھی نہیں تھا۔

ماحولیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال حج کے موقع پر لاکھوں افراد کا اجتماع تحفظ ماحولیات کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ایک محدود علاقے میں کچھ ایام کے دوران لاکھوں افراد کی موجودگی اور مناسکِ حج کے لیے ان کی نقل و حرکت فضائی ماحول کے لیے ایک مسئلہ ہوتی ہے۔

اس دوران ہزاروں بسوں اور موٹر گاڑیوں کے چلنے سے انتہائی بڑی مقدار میں دھوئیں اخراج اور پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہوتا ہے۔

رواں برس کے حج سے پہلے سعودی عرب کو کورونا وائرس کی وبا کا سامنا تھا اور دو لاکھ پچھتر ہزار سے زائد افراد وائرس کی لپیٹ میں آئے۔ ان مریضوں میں سے دو ہزار آٹھ سو چھیاسٹھ کی زندگیاں ختم ہو گئیں۔

اسی لیے اس سال صرف دس ہزار زائرین حج کے لیے حرمِ کعبہ پہنچے۔ گزشتہ برس دنیا بھر سے تقریباً پچیس لاکھ افراد نےاسلامی فریضےکی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔

مکہ میں بدھ کو جب مناسک حج کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا تو سابقہ سالوں جیسی صورت حال نہیں تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں خاموشی تھی، قریبی مذہبی مقامات تک نقل و حرکت اور افعال میں نظم و ضبط تھا۔

حتیٰ کہ حج کے دوران ایک مقام ہر شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، اس مرتبہ یہ کنکریاں بھی جراثیم سے محفوظ یعنی سنیٹائزڈ تھیں۔ تمام حاجیوں کو ایک خصوصی کِٹ دی گئی تھی اور اس میں ماسک اور ڈِس انفیکنٹ بھی رکھا گیا تھا۔

افغانستان سے آئی ہوئی خاتون زائرہ عظیم اللہ فرح کا کہنا تھا کہ ہر شے صاف ستھری تھی اور بلدیہ کے کارکن کوڑا کرکٹ اکھٹا کرنے کے لیے تعینات تھے۔

ان ورکرز میں ایک رحیم فجر الدین کا کہنا تھا کہ حالیہ حج کے مقابلے میں ماضی میں ٹنوں کے حساب سے کوڑا جمع کیا جاتا تھا۔

next