پاکستان کی بچیاں تعلیم سے محروم کیوں ہیں؟

ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تین میں سے ایک لڑکی اور ہر پانچ میں سے ایک لڑکا پرائمری اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کر پاتا

ڈی. ڈبلیو

منگل کو جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق حکومت کو لڑکیوں کے لیے مزید اسکول تعمیر کروانا ہوں گے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پچاس میں سے 22.5 ملین بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ اسکول نہ جانے والے زیادہ تر بچوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تعلیم کے شعبے کے لیے وفاقی حکومت کا کم بجٹ، غربت اور سرکاری اسکولوں کی کمی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے وکیل سروپ اعجاز نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’چودہ سال کی صرف تیرہ فیصد بچیاں تعلیم حاصل کر پا رہی ہیں، اس کی بڑی وجہ لڑکیوں کے اسکینڈری اسکولوں کی کمی، جنسی ہراس، کم عمری کی شادیاں اور مار پیٹ کرنے والے استاد ہیں۔‘‘

تجزیہ کار مشرف زیدی نے روئٹرز کو بتایا،’’ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا شدید بحران ہے، اکثر لڑکیوں کو اسکول جانے کے لیے طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے، پاکستان میں بچیوں کے لیے محفوظ اور گھروں سے قریب اسکول فراہم کرنا ابھی ایک خواب جیسا ہے۔‘‘

پاکستان اپنے سالانہ بجٹ کا صرف 2.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا تجویز کردہ بجٹ چار فیصد ہے۔ اس سال اگست میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں گے لیکن ابھی تک ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔ تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ادارہ برائے تعلیم و آگاہی‘ کی سربراہ بیلا رضا جمیل کا کہنا ہے،’’ پرائمری اسکولوں میں سہولیات کا فقدان اور لڑکیوں کے جوان ہونے کے عمل کے باعث کم عمری کی شادیوں کا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 21 فیصد لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اس رپورٹ کے لیے دو سو افراد کے انٹرویو کیے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ بچیاں تھیں جو کبھی اسکول نہیں جا پائیں۔ ان بچیوں کے والدین کا کہنا تھا کہ اسکولوں کی زیادہ فیس، سکیورٹی خدشات اور مالی بدعنوانیاں وہ چند وجوہات ہیں جن کے باعث وہ بچیوں کو اسکول نہیں بھیج پاتے۔