روسی ایندھن نے جرمن گاڑیوں کی رفتار دھیمی کی

جرمن آٹوموبیل ایسوسی ایشن نے اپنے ممبران اور عام شہریوں سے تیل کی کھپت میں کمی لانے کے لیے گاڑیاں آہستہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تنظیم جرمنی کا روسی ایندھن پر انحصار کم کرنا چاہتی ہے۔

جرمن آٹو کلب: روسی ایندھن پر انحصار ختم کرنے کے لیے گاڑیاں دھیمی رفتار میں ڈرائیو کریں
جرمن آٹو کلب: روسی ایندھن پر انحصار ختم کرنے کے لیے گاڑیاں دھیمی رفتار میں ڈرائیو کریں
user

Dw

جرمن اے ڈی اے سی، یورپ میں موٹر گاڑیوں کی سب سے بڑی تنظیم نے اپنے اکیس ملین ممبران سے کہا ہے کہ روسی تیل پر ملکی درآمدات کا انحصار روکنے کے لیے وہ گاڑیوں کا استعمال کم کریں۔

اس ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک خط میں اپنے ممبران سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ ایندھن کی کھپت کو بیس فیصد تک کم کرنے میں مدد کے لیے گاڑیاں دھیمی رفتار میں ڈرائیو کریں۔


اس کے علاوہ اے ڈی اے سی نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی نجی گاڑیوں کے بجائے، پیدل چلنے، سائکلنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے متبادل کے استعمال پر غور کریں کیونکہ یوکرین میں روسی حملوں کے نتیجے میں توانائی پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یوکرین میں جنگ

کرسٹیان رائنیکے جرمن آٹوموبیل کی ایسوسی ایشن اے ڈی اے سی کے صدر ہیں اور گیرہارڈ ہیلیبرانڈ ٹریفک صدر کے عہدے پر فائض ہیں۔ ان دونوں سربراہان نے بھی کلب میمبرز سے ایندھن کم خرچ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ خام تیل کی درآمدات کے انحصار کو روکا جاسکے۔


جرمن تنظیم کے بیان کے مطابق، '' یوکرین میں جنگ اور یوکرینی عوام کی ناقابل فہم تکلیف دیکھ کر سب کی طرح ہم بھی بہت افسردہ ہیں۔ یہ سب کچھ بے بسی کے ساتھ دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔‘‘ حالیہ ہفتوں کے دوران جرمنی کا روس پر توانائی کے شعبے میں درآمدات کا انحصار واضح ہوچکا ہے۔ ''اس وجہ سے ان درآمدات کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے تاکہ ہر کوئی اس معاملے میں انفرادی حصہ ڈال سکے۔‘‘

اے ڈی اے سی کے مطابق آہستہ ڈرائیونگ کرنے کے ذریعے تیل کی کھپت کم ہو سکے گی۔ اس ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر صارفین کو تیل کی کھپت میں کمی کے حوالے سے تجاویز دینے کا بھی کہا ہے۔


پیدل چلنے اور سائیکل کا استعال

جرمن آٹوموبیل کلب نے اپنے ارکان سے مزید کہا، ''آپ گاڑیوں کی جگہ قریبی پبلک ٹرانسپورٹ، سائیکل یا پھر پیدل سفر کرنے کو بھی ترجیح دے سکتے ہیں۔‘‘ دوسری جانب جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین تنازعے کے تناظر میں وہ رواں سال کے آخر تک روس سے ایندھن کے درآمدات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اس جرمن تنظیم کا اعلامیہ اسی روز جاری کیا گیا جب روسی ملٹی نیشنل انرجی کوآپریشن گازپروم نے اعلان کیا کہ وہ بلغاریہ اور پولینڈ کے لیے اپنی گیس سپلائی روک رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد جرمنی میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔


یوکرین کی جنگ چھڑنے سے قبل ہی اے ڈی اے سی نے گاڑیاں استعمال کرنے والے صارفین کو پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے خبردار کیا تھا۔ تین ماہ سے جاری اس تنازعے کے بعد قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ابھی بھی برقرار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔