پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیے مفت دودھ

پاکستانی حکام نے پہلی مرتبہ ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پرائمری اسکولوں کے بچوں کو اسکولوں میں مفت دودھ فراہم کیا جائے گا۔ اس کا ایک مقصد بچوں کی نشوونما میں بہتری لانا بھی ہے۔

پاکستان میں پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیے مفت دودھ
پاکستان میں پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیے مفت دودھ
user

Dw

اپنی نوعیت کے اس اولین اقدام کو اسکول مِلک پروگرام کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت صوبہ پنجاب کے 90 پرائمری اسکولوں کے بچوں کو ہر روز پینے کے لیے دودھ فراہم کیا جائے گا۔

صوبہ پنجاب کے محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار کے مطابق جن طلبہ کو اسکولوں میں روزانہ دودھ فراہم کیا جائے گا، ان کی کارکردگی پر بھی نظر رکھی جائے گی اور چھ ماہ کے وقفے کے بعد ان کی کارکردگی اور نشوونما کا جائزہ لیا جائے گا۔


لاہور کی یونیورسٹی آف ایجوکیش کے وائس چانسلر طلعت نصیر پاشاکے مطابق، ''ہمارے بچوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے یہ ایک زبردست خیال ہے۔‘‘ پاشا کے بقول اس پروگرام کا مقصد لاکھوں ایسے غریب خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کے حصول کی طرف راغب کرنا اور ان کی صحت بہتر بنانا ہے، جو عام طور پر دودھ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

طلعت نصیر پاشا کے مطابق اس پروگرام میں پرائیویٹ پارٹنرز بھی شامل ہیں اور اس کا دائرہ بتدریج پہلے پورے صوبہ پنجاب اور پھر پورے پاکستان تک پھیلا دیا جائے گا۔


پاکستان ایسے ٹاپ پانچ ممالک میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اندازوں کے مطابق پانچ سے لے کر 16 برس تک کی عمر کے 22 ملین پاکستانی بچے اسکول نہیں جاتے۔

ساتھ ہی پاکستان پانچواں ایسا ملک ہے جہاں بچے سب سے زیادہ کم خوراکی کا شکار بھی ہیں۔ حکومتی اندازوں کے مطابق کم خوراکی کے سبب ہر سال 177,000 بچے پانچ برس کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔


کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے بعد خدشات ہیں کہ ایسے بچوں کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے جو اب اسکول نہیں جاتے۔ اس وبا کے سبب پاکستان کی معیشت کو بھی دھچکا پہنچا ہے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔