بچوں کا اغوا، چار انتہا پسند یہودی گرفتار

امریکی وفاقی استغاثہ نے بتایا کہ ایک یہودی انتہا پسند فرقے سے وابستہ چار افراد کو دو بچوں کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں سے تین مشتبہ افراد کا تعلق گوئٹے مالا سے بتایا گیا ہے۔

ڈی. ڈبلیو

خبر رساں ادارے اے ایف پی نےامریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ انتہا پسند یہودی فرقے Lev Ahor سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد نے دو بچوں کو اغوا کیا تھا اور وہ انہیں گوئٹے مالا لے جانا چاہتے تھے۔

یو ایس اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق مشتبہ افراد کو نیو یارک شہر سے حراست میں لیا گیا اور بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ ان میں سے ایک چودہ سالہ بچی اور ایک بارہ سالہ لڑکا تھا۔ حکام کے مطابق ان بچوں کو ان کے والدہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان بہن بھائیوں کو آٹھ دسمبر کو نیو یارک سے اغوا کیا گیا اور مغوی انہیں واپس گوئٹے مالا لے جانا چاہتے تھے۔ چھ ماہ قبل ان بچوں کی ماں نے سکیورٹی کی وجہ سے گوئٹے مالا سے فرار ہو کر امریکا میں پناہ لی تھی۔

گرفتار شدگان میں 45 سالہ ایرون روسنر بھی شامل ہے، جو بروکلین کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ اس کے دیگر تین ساتھیوں میں 36 سالہ ناخمان ہالبرن، بالیس سالہ مائر روسنر اور بیس سالہ جیکب روسنر کا تعلق گوئٹے مالا سے ہے۔

اغوا کار ان بچوں کو لے کے میکسیکو لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن جمعرات کے دن انہیں پکڑ کر واپس امریکا ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا، جہاں امریکی پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔ اگر ان پر باقاعدہ طور پر اغوا کے الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

انتہا پسند یہودی فرقے Lev Ahor ماننے والے گوئٹے مالا میں آباد ہیں، جو الٹرا آرتھوڈکس یہودیت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ سخت نظریات کے حامل یہ یہودی خواتین کے پردے کے بھی قائل ہیں۔ اس فرقے کی خواتین پردے کے غرض سے پیروں سے سر تک سیاہ لباس کا چوغہ زیب تن کرتی ہیں۔