’جنسی زندگی میں رکاوٹ‘، برطانوی ماں نے دو بیٹیاں قتل کیں

ایک بیٹی کی عمر سترہ ماہ اور دوسری بیٹی کی عمر تین برس تھی۔ گزشتہ برس قتل ہونے والی دونوں بچیوں کے والد نے آخر کار کل تین ستمبر کے روز دنوں کی آخری رسومات ادا کیں۔

’جنسی زندگی میں رکاوٹ‘، برطانوی ماں نے دو بیٹیاں قتل کیں
’جنسی زندگی میں رکاوٹ‘، برطانوی ماں نے دو بیٹیاں قتل کیں

ڈی. ڈبلیو

تئیس سالہ برطانوی شہری لوئیزا پورٹن کے لیے اس کی جنسی زندگی اپنے بچوں سے زیادہ عزیز تھی۔ لوئیزا کی دو بیٹیاں تھیں، تین سالہ لیکسی اور محض سترہ ماہ عمر کی سکارلیٹ۔

برطانوی ماڈل اور سیکس کی شوقین اس خاتون نے گزشتہ برس پندرہ جنوری کے روز اپنی بڑی بیٹی لیکسی اور پھر دو ہفتے بعد یکم مارچ کو سکارلیٹ کو قتل کیا تھا۔

اس خاتون نے دونوں بچیوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سوچ سمجھ کر قتل کیا تھا۔ لیکسی کے قتل سے چند ماہ قبل وہ اسے دو مرتبہ ہسپتال لے کر گئی، جہاں اس نے بتایا کہ لیکسی کو سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ لیکسی کی سانس روک کر اسے قتل کرنے کے بعد لوئیزا نے ہنگامی امداد کے لیے اس وقت فون کیا، جب لیکسی کی موت یقینی ہو چکی تھی۔

سکارلیٹ کی موت کے بعد پولیس کو شبہ ہوا اور لوئیزا سے ابتدائی تفتیش کی گئی۔ رواں برس کے اوائل میں طبی شواہد سامنے آنے پر اس کے خلاف دونوں بیٹیوں کے قتل کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

برمنگھم کی عدالت نے دو اگست کے روز لوئیزا کو مجرم قرار دے کے اسے کم از کم بتیس برس قید کی سزا سنائی۔ خاتون جج نے فیصلے کے وقت لوئیزا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، ''وہ معصوم بچیاں تھیں جو اپنی پرورش کے لیے اپنی ماں پر انحصار کر رہی تھیں، تم نے انہی کی جان لے لی۔‘‘

عدالت کے مطابق لوئیزا کے کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہونے کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے تھے۔ جج نے کہا، ''یہ کسی نوجوان ماں کی طرف سے کسی لمحاتی طیش میں کیا جانے والا کوئی اقدام نہیں تھا۔ ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوچ سمجھ کر فیصلے کیے گئے۔ دونوں بچوں کے قتل کے درمیانی وقت میں تم نارمل حالت میں تھی۔‘‘

ماں کو سزا دے دی گئی اور آخر کار دونوں بچیوں کے والد کرس ڈریپر کو بھی ان بچیوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت مل گئی۔

ڈریپر نے منگل تین ستمبر کے روز لیکسی اور سکارلیٹ کی تدفین کے بعد فیس بُک پر تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا، ''تمہیں یوں رخصت کیا جس کی تم حق دار تھیں، سب نظریں تم پر ہیں۔ تمہاری یاد آئے گی، تم کبھی نہیں بھولو گی۔ سو جاؤ میرے بچو، تمہارا ڈیڈی تمہارے ساتھ ہے۔‘‘