وائٹ ہاؤس کی پہلی ہم جنس پرست، سیاہ فام پریس سیکرٹری کیرین کون ہیں

تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی سیاہ فام خاتون کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے، جن کا تعلق ایل جی بی ٹی کمیونٹی سے ہے۔ پہلی مرتبہ اعلانیہ ہم جنس پرست خاتون امریکی انتظامیہ کا عوامی چہرہ بنی۔

وائٹ ہاؤس کی پہلی ہم جنس پرست، سیاہ فام پریس سیکرٹری کیرین کون ہیں
وائٹ ہاؤس کی پہلی ہم جنس پرست، سیاہ فام پریس سیکرٹری کیرین کون ہیں
user

Dw

امریکی صدر جو بائیڈن نے کیرین ژاں پیئر کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ کیرین کھل کر اپنے آپ کو ایک ہم جنس پرست خاتون اور ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی رکن بتاتی ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دینے والی پہلی سیاہ فام خاتون بھی ہوں گی۔

موجودہ پریس سیکرٹری جین ساکی 13 مئی کو اپنے عہدے سے دستبردار ہوں گی، جس کے بعد کیرین ژاں پیئر یہ عہدہ سنبھال لیں گی۔ 44 سالہ ژاں پیئر جو بائیڈن کی طرف سے صدارتی عہدہ سنبھالے جانے کے بعد سے ہی وائٹ ہاؤس میں نائب پریس سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔


ژاں پیئر نے سن 2020 میں جو بائیڈن کی انتخابی مہم میں بھی بہت محنت کی تھی اور اس سے پہلے وہ صدر باراک اوباما کے دور میں بھی وائٹ ہاؤس میں بعض اہم ذمہ داریاں سنبھال چکی ہیں۔

نئے عہدے کے لیے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے کہا، ’’اس مشکل کام کے لیے کیرین کی ذات میں نہ صرف درکار تجربہ موجود ہے بلکہ وہ ہنر مند اور دیانت دار بھی ہیں اور وہ امریکی عوام کی طرف سے بائیڈن انتظامیہ کے کام کے بارے میں روابط اور کمیونیکیشن کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔‘‘


وائٹ ہاؤس کی موجودہ پریس سیکرٹری جین ساکی نے ابتدا میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں اپنی ملازمت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ انہوں نے اپنی جانشین کی تعریف کرتے ہوئے کیرین ژاں پیئر کو ’سچائی میں اپنی ساتھی‘ قرار دیا۔

جین ساکی نے کہا کہ ژاں پیئر اس عہدے پر فائز ہونے والی ’’پہلی سیاہ فام خاتون ہیں اور وہ اس منصب پر فائز ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت بھی ہیں۔‘‘


ان کا مزید کہنا تھا، ’’نمائندگی کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور وہ بہت سے لوگوں کی آواز بننے کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں کو یہ بھی دکھائیں گی کہ جب آپ محنت کرتے ہیں اور بڑے خواب دیکھتے ہیں، تو حقیقت میں ان کی تعبیر بھی ممکن ہوتی ہے۔‘‘

پانچ مئی کو صدر بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں اوول آفس کی ایک میٹنگ میں ژاں پیئر کو اس اہم عہدے کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ تب تک اپنے اس عہدے کے لیے منتخب کیے جانے کی اہمیت کو ’ہضم کرنے کی کوشش‘ میں تھیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اور ابھی تک یہ لمحہ میری ذات میں ضم نہیں ہو پایا۔ یہ ایک بہت ہی جذباتی نوعیت کا دن ہے۔‘‘


جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ امریکی نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں، تو کیرین ژاں پیئر نے کہا، ’’آپ جو کچھ بھی بننا چاہتے ہیں، اگر اس کے بارے میں آپ کے اندر جذبہ اور ولولہ موجود ہے، آپ اپنی منزل کے حصول کے لیے اگر کافی محنت کرتے ہیں، تو جان لیجیے کہ آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی ضرور ملے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ راستے میں کئی بار ’آپ کو گرا بھی دیا جائے گا اور آپ کے لیے مشکل وقت بھی آئے گا، اور یہ سفر ہر وقت آسان بھی نہیں ہو گا۔ لیکن اس کے انعامات بہت حیرت انگیز ہیں، خاص طور پر اگر آپ اپنے ساتھ سچے رہیں۔‘‘


کیرین ژاں پیئر سے پہلے جوڈی اسمتھ نامی ایک اور سیاہ فام خاتون سن 1991 میں جارج ایچ ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکرٹری رہ چکی ہیں۔ کیرین ژاں پیئر ایک فرانسیسی نژاد امریکی شہری ہیں اور وہ 1977ء میں ہیٹی سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن کے گھرانے میں فرانسیسی علاقے مارٹینیک میں پیدا ہوئی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔