سعودی عرب کی تاریخ میں خواتین ریسلنگ کا پہلا مقابلہ

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کے مابین کُشتیوں کا مقابلہ جمعرات کو کروایا گیا ہے۔ حکومت اس نوعیت کی ’غیر معمولی تقریبات‘ کے ذریعے اپنے قدامت پسندانہ تشخص کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

سعودی دارالحکومت ریاض میں ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) نے کہا ہے کہ ان کی سُپر اسٹار خاتون ریسلرز نتالیا اور لیسی ایونس کے درمیان آج کشتی کا مقابلہ ہو گا۔ ’ڈبلیو ڈبلیو ای‘ کے اس خصوصی ایونٹ میں سابق باکسنگ چیمپیئن ٹائسن فیوری اور براؤن اسٹرومین بھی مد مقابل ہوں گے۔

سعودی عرب کی تاریخ میں خواتین ریسلنگ کا پہلا مقابلہ

شاہ فہد اسٹیڈیم میں ہونے والے خواتین ریسلنگ کے مقابلے سعودی عرب کا ایک مختلف منظر پیش کریں گے کیونکہ سعودی خواتین ملک میں عام طور پر سیاہ ’عبایہ یا برقعہ‘ پہنے نظر آتی ہیں۔ تاہم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے قدامت پسند سعودی عرب میں متعدد امور میں بڑی اصلاحات کرتے ہوئے خواتین پر عائد متعدد پابندیوں کا خاتمہ کیا ہے۔ جیسا کہ خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کا خاتمہ اور خواتین کو ملک سے باہر جانے کے حقوق بھی دیے گئے۔ انہوں نے ملک میں موسیقی کے پروگرام کروانے اور سینما گھروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی ہے۔

محمد بن سلمان اقتصادی بحران کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ سن 2030 تک مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ایک سو ملین تک پہنچ جائے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں رواں برس موسم سرما کے دوران ایک سو سے زائد تفریحی اور آرٹس کی تقریبات کا انعقاد کیا جائےگا۔ یہ ریسلنگ مقابلے بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ع آ / ا ا (نیوز ایجنسیاں)