شیر کی صبح خیزی، لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی

نیروبی میں ایک شیر اچانک مصروف رہائشی علاقے پہنچ گیا، جسے دیکھتے ہی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ صبح کی بھیڑ میں شیر کو شامل پا کر لوگوں نے جان بچانے کی خاطر بے اختیار دوڑ لگا دی۔

شیر کی صبح خیزی، لوگوں کی دوڑیں لگ گئیں
شیر کی صبح خیزی، لوگوں کی دوڑیں لگ گئیں
user

Dw

افریقی ملک کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے نواحی علاقے کی ایک مارکیٹ ایریا میں نکل آنے والے شیر کا تعلق شہر کے جنوب میں واقع نیشنل پارک سے بتایا گیا ہے۔

نوجوان شیر کو دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہو کر جان بچانے کی فکر میں مبتلا ہو گئے۔ نیروبی نیشنل پارک کینیا کے دارالحکومت کی ایک نواحی رہائشی بستی اونگاٹا رونگئی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔


شیر کو تحویل میں لے لیا گیا

خوفزدہ افراد نے پولیس اور کینین وائلڈ لائف سروس کو ہنگامی نمبر پر فون کر کے مطلع کیا۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے انتظامی حکام نے فوری طور پر رینجرز کی تعیناتی بھی کر دی۔ شیر کو زخم آنے کی صورت میں خصوصی ویٹرنری یا ڈنگر ڈاکٹر کو بھی موقع پر روانہ کر دیا گیا۔ شیر کو دیکھنے کے لیے خوفزدہ افراد کا ہجوم بھی فاصلے پر کھڑا ہو گیا تھا۔

وائلڈ سروس کے اہلکاروں نے شیر کو دور سے انجیکشن ڈارٹ سے بے ہوش کر کے اپنے کنٹرول میں لیا۔ اس شیر کو کامیابی اور بغیر نقصان پہنچائے ایک ڈنگر ڈاکٹر کی نگرانی میں نیشنل پارک منتقل کیا گیا۔ نیشنل پارک کے حکام کے مطابق ہوش آنے پر شیر کو واپس جنگلاتی علاقے میں چھوڑ دیا جائے گا۔


خوف کا وقت

ایک یونیورسٹی اسٹوڈنٹ روزلین وینگارے نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شیر کی آمد نے ایک خوف کی کیفیت پیدا کر دی تھی کیونکہ صبح کے وقت بچے اسکولوں کو جا رہے تھے اور لوگ شاپنگ اور روزگار یا دفاتر کے لیے گھروں سے باہر اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ تھے۔

اونگاٹا رونگئی کے شہریوں نے حکام سے کہا ہے کہ نیشنل پارک کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ایک دفعہ جنگلی جانور نے کسی انسان پر حملہ نہیں کیا تو ہو سکتا ہے کہ اگلی مرتبہ حملے سے انسانوں کو زخمی یا ہلاک کر دے۔ نیشنل پارک دارالحکومت نیروبی کے مرکزی علاقے سے صرف سات کلو میٹر کی دوری پر ہے۔


جانوروں کے پارک سے نکلنے کے واقعات

لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت نیشنل پارک کی سکیورٹی پر توجہ نہیں دے رہی اور ان کا دیرینہ مطالبہ ابھی تک حکام نے شاید مناسب انداز میں سنا ہی نہیں۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ نیروبی چالیس لاکھ نفوس کا ایک بڑا شہر ہے اور اس میں ایک یا ایک سے زیادہ خطرناک جانوروں کا اچانک نکل آنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے اور ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

دسمبر سن 2019 میں ایک شیر نے باہر نکل کر ایک انسان پر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا تھا۔ مارچ سن 2016 میں نیشنل پارک سے نکلنے والے شیر کو اس وقت گولی مار دی گئی جب اُس نے ایک شہری کو حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔ گولی لگنے سے شیر کی موت ہو گئی تھی۔ سن 2016 کے مہینے فروری میں دو شیر نیروبی کی ایک کچی بستی کیبارا میں پھرتے رہے اور پھر واپس جنگل میں لوٹ گئے۔ کیبارا کی بستی انتہائی گنجان آباد ہے۔


نیروبی نیشنل پارک

کینیا کے اس نیشنل پارک کو جانوروں کے تحفظ کی بڑی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے کیونکہ شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے انتہائی قرب میں جنگلی حیات کی کئی اقسام بھی سرسبز اور گھنے جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔

اس نیشنل پارک کے وسیع و عریض رقبے پر ناپید ہونے کے خطرے سے لاحق جنگلی حیات کو مناسب اور بھرپور تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس جنگلی حیات میں شیر، چیتے، گینڈے، زرافے، زیبرا اور جنگلی بھینسیں شامل ہیں۔ اس پارک کے منتظمین کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں پارک بنایا گیا ہے، وہاں انسانی آبادیوں کے نمودار ہونے سے پہلے، کئی صدیوں سے یہ شیروں ہی کی نشو و نما کا علاقہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔