جرمن عوام توانائی کی ممکنہ حد تک بچت کریں، جرمن وزیر اقتصادیات

توانائی کی روسی کمپنی گیس پروم نے جرمنی کو بذریعہ نورڈ اسٹریم ون پائپ لائن گیس کی ترسیل میں کمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ سپلائی کو زیادہ سے زیادہ 67 ملین کیوبک میٹر تک محدود کرنے پر عمل شروع ہو گیا۔

جرمن عوام توانائی کی ممکنہ حد تک بچت کریں، جرمن وزیر اقتصادیات
جرمن عوام توانائی کی ممکنہ حد تک بچت کریں، جرمن وزیر اقتصادیات
user

Dw

روس کی طرف سے جمعرات 16 جون جرمنی کے لیے گیس کی سپلائی میں مزید کمی پر عملدرآمد دراصل منگل کے اُس بیان کے بعد سامنا آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ روس جرمنی کو گیس کی سپلائی میں کمی لاتے ہوئے اسے 100 ملین کیوبک میٹر یومیہ کر دے گا۔ یاد رہے کہ یہ سپلائی 167 ملین کیوبک میٹر یومیہ سے کم کر کے اس سطح پر لائی گئی ہے۔ اس طرح گزشتہ دو روز کے اندر جرمنی کو روسی گیس کی سپلائی میں قریب 60 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اصل وجہ

معروف جرمن کمپنی 'سیمنز انرجی‘ نے منگل کو کہا تھا کہ نورڈ سٹریم 1 گیس ٹربائنز حالیہ دنوں میں مرمت کے لیے کینیڈا بھیجے گئے تھے تاہم روس یوکرین کی جنگ کے تناظر میں روس پر لگی پابندیوں کے سبب وہ ٹربائنز جن کی حال ہی میں کینیڈا میں مرمت ہوئی تھی مونٹریال سے واپس نہیں بھیجے جا سکے۔ واضح رہے کہNord Stream 1 پائپ لائن جرمنی کی مرکزی پائپ لائن ہے، جس کے ذریعے جرمنی تک روسی گیس کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔ اُدھر گیس پروم کمپنی جس کا اکثریتی حصہ روسی ریاست کی ملکیت ہے، نے کہا ہے کہ گیس سپلائی کے حجم میں کمی کی وجہ دراصل گیس کمپریسر یونٹ کی مرمت میں تاخیر ہے۔ دریں اثناء گیس پروم کے اس دعوے کو جرمنی کی وفاقی نیٹ ورک ایجنسی نے مسترد کر دیا ہے۔ جرمن وزیر اقتصادیات رابرٹ ہابک نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر گیس سپلائی کے معاملے کو پیچیدہ بنا رہا ہے اور توانائی سیکٹر میں بیچینی پیدا کر رہا ہے اور اس صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ جرمن وزیر کا مزید کہنا ہے کہ اب بھی متبادل گیس سپلائی کو بروئے کار لانا ممکن ہے۔ ہابک نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اب بھی جرمن گیس اسٹوریج 56 فیصد بھرے ہوئے ہیں۔


توانائی بچانے کی اپیل

وفاقی جرمن وزیر اقتصادیات رابرٹ ہابک نے بُدھ کی شام اپنے ایک ویڈیو پیغام میں جرمن عوام سے توانائی بچانے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا، ''حالات کی سنگینی کے پیش نظر اب یہ وقت آ گیا ہے کہ عوام توانائی بچانے کی ممکنہ کوشش کریں۔ اس وقت ہر کلو واٹ کی بچت اس صورتحال میں مددگار ثابت ہو گی۔‘‘ جرمن وزیر نے تاہم کہا کہ اس سنگین صورتحال کے دوران جرمنی کو توانائی کی فراہمی خطرے سے دوچار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ ہمیں اپنی پوری توجہ اس صورتحال پر مرکوز رکھ کر کام کرنا ہوگا۔ سب سے اہم امر یہ کہ جرمن عوام خود کو تقسیم نہ ہونے دیں کیونکہ روسی صدر پوٹن کا یہی ارادہ ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتوں کے دوران روس پر مغربی ممالک کی پابندیوں کے سبب تنازعات کے درمیان روس نے کئی یورپی ممالک کو گیس کی ترسیل منقطع کر دی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے اور اس کے بعد یورپی ممالک کی طرف سے روس کو گیس کی روبلز میں ادائیگی سے انکار بھی یورپ بھر میں توانائی کے بحران کی وجہ بنی ہے۔ گیس کی کمی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔


روس سے یورپ کی طرف گیس کی سپلائی میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بنی ہے۔ چند ماہرین ایسے خطرات اور خدشات ظاہر کر رہے ہیں اور اس امر سے خائف ہیں کہ روس دباؤ کو بڑھانے ے کے لیے اور حربے کے طور پر یورپ کی طرف گیس سپلائی کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔