دوا ساز کی جان کورونا نے نہیں بلکہ اپنی ہی’دوا‘ نے لے لی

ایک بھارتی شخص کی موت اس کیمیائی مرکب کے پینے سے ہو گئی جو کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے اس نے اپنے باس کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔ کمپنی کا مالک بھی اس محلول کو پینے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

دوا ساز کی جان کورونا نے نہیں بلکہ اپنی ہی'دوا‘ نے لے لی
دوا ساز کی جان کورونا نے نہیں بلکہ اپنی ہی'دوا‘ نے لے لی
user

ڈی. ڈبلیو

جنوبی بھارتی شہر چنئی میں جس شخص کی موت ہوئی ہے، اس کی عمر سینتالیس برس تھی۔ اس شخص نے کمپنی کے مالک کے ساتھ مل کر پہلے اپنے طور پر مکمل لیکن ادھورا کیمیائی مرکب بنایا اور اس کا اپنے اوپر ہی تجربہ کیا۔ اس کے پینے کے بعد اس کی طبیعت فوری طور پر بگڑنا شروع ہو گئی۔ اسے ہسپتال پہنچانے کی کوشش ضرور کی گئی لیکن وہ دم توڑ گیا۔ اس کیمیاوی مرکب کو تیار کرنے والے دوا ساز کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح مہلک کورونا وائرس کی نئی قسم کا توڑ نکال سکے۔

مرنے والے شخص کے ساتھ یہ مرکب کمپنی کے مالک نے بھی پیا لیکن وہ بچ گیا اور اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس طرح ان دونوں افراد کا وائرس کو شکست دینے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ ان دونوں افراد کو امید تھی کہ وہ دنیا بھر میں وائرس میں مبتلا چالیس لاکھ سے زائد افراد کے لیے ایک شافی دوا تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

چنئی میں جس کمپنی میں مرنے والا دوا ساز یا فارماسسٹ کام کرتا تھا، اُس کمپنی کا نام سجاتا بائیو ٹیک ہے۔ مرنے والے شخص کا نام 'کے سیوانسن‘ بتایا گیا ہے۔ کمپنی کا مالک اپنے ملازم سیوانسن کے ساتھ مل کر کیمیائی اجزا کو ملا کر کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے لیے ایک مجرب دوا بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنی دوا تیار کرنے کی کوشش میں ان زہریلے کیمیاوی مرکبات کو پی لیا، جن سے پٹرول کو صاف کیا جاتا ہے۔

سجاتا بائیوٹیک کا سربراہ اور ملازم دوا تیار کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں کی آمیزش سے جو دوا بنانے میں مصروف تھے، اس میں وہ طاقتور تیزاب نائٹرک ایسڈ اور ایک کیمیکل مرکب سوڈیم نائٹریٹ کا استعمال بھی کر رہے تھے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اشوک کمار کے مطابق کمپنی کا سینتالیس سالہ ملازم دوا پینے کے بعد جانبر نہیں ہو سکا۔ اشوک کمار نے یہ بھی بتایا کہ ہربل میڈیسن بنانے کے لیے تمام کیمیائی اور دوسری جڑی بوٹیاں یعنی دوا سازی کے دیگر اجزاء ملازم سیوانسن ہی مقامی بازار سے خرید کر لایا تھا۔ ان دونوں نے پہلے ایک فارمولا تخلیق کیا اور پھر فارمولے کے اجزاء کے بارے میں تمام معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کی تھیں۔

یہ امر اہم ہے کہ اس وقت جرمنی، امریکا، سوئٹزرلینڈ، فرانس، برطانیہ، اسرئیل اور چند دوسرے ممالک میں کورونا وائرس کی نئی جان لیوا قسم کے خاتمے کے لیے مدافعتی ویکسین یا دوا تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکا میں محکمہٴ صحت کے حکام فارماسوٹیکل کمپنی جیلیڈ سائنسز کی تیار کردہ ایک دوا ریمڈیسوِر کی مہلک وبا کے خلاف ہنگامی استعمال کی منظوری دے چکے ہیں۔ جاپان میں بھی اسی امریکی دوا کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح جرمنی میں بھی تیار کی گئی دوا کا انسانوں پر آزمائشی ٹیسٹ شروع کیا جا چکا ہے۔