دبئی ميں پبلک ٹرانسپورٹ پر ’فيشل ريکگنيشن‘ سسٹم

متحدہ عرب امارات نے دبئی ميں سلامتی کی صورت حال بہتر بنانے کے ليے شہر ميں چلنے والی تمام تر پبلک ٹراسپورٹ پر ’فيشل ريکگنيشن‘ يا چہرے سے شناخت کا سسٹم متعارف کرانے کا فيصلہ کر ليا ہے۔

فائل تصویر سوشل میڈیا
فائل تصویر سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

دبئی ٹرانسپورٹ سکيورٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈائريکٹر عبيد الحثبور نے بتايا کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر 'فيشل ريکگنيشن‘ سسٹم متعارف کرانے کا فيصلہ کر ليا گيا ہے، جس کا مقصد سلامتی کی صورت حال کو مزيد بہتر بنانا ہے۔ عبيد الحثبور کے مطابق يہ ٹيکنالوجی مشکوک اور مطلوب افراد کی شناخت ميں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

دبئی کے حکمران چاہتے ہيں کہ مستقبل ميں اس شہر کی شناخت مشرق وسطی ميں ايک 'اسمارٹ سٹی‘ کے طور پر ہو۔ يہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ٹيکنالوجی کے فروغ کے ليے بھاری سرمايہ کاری کی جا رہی ہے۔ دبئی ميں گلوبل ايکسپو فيئر کی تيارياں بھی جاری ہيں۔ اس نمائش کی تياری ميں کئی بلين ڈالر خرچ کيے جا رہے ہيں۔ ايکسپو فيئر کو اس سال منعقد ہونا تھا تاہم کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے اب يہ تاخير کے ساتھ آئندہ برس اکتوبر ميں منعقد ہو گا۔ شہر کی 'اسمارٹ سٹی‘ کے طور پر پہچان بنانے کے ليے اس نمائش ميں مصنوعی ذہانت و ٹيکنالوجی پر خاصی توجہ دی جائے گی۔

دبئی ٹرانسپورٹ سکيورٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈائريکٹر عبيد الحثبور کے مطابق ميٹرو اسٹيشنوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر انتہائی اعلٰی درجے کی سکيورٹی فراہم کرنے کے ليے موجودہ صلاحيتوں ميں اضافہ کيا جا رہا ہے اور 'فيشل ريکگنيشن‘ سسٹم کی تنصيب اسی کی ايک کڑی ہو گی۔

'فيشل ريکگنيشن‘ سسٹم کی آزمائش کے ليے ولی عہد شہزادہ شيخ حماد بن محمد کی سربراہی ميں اسی ہفتے ايک مشق کی گئی، جس ميں ايک ميٹرو اسٹيشن پر حملے کرنے والے حملہ آوروں کی شناخت کی گئی اور ان تک پہنچا گيا۔ يہ تمام تر عمل فرضی تھا اور اس کا مقصد صرف سسٹم کی آزمائش تھا۔ اس سلسلے ميں امريکا سے تربيت يافتہ خصوصی پوليس يونٹ کے اہلکاروں نے فرضی صورت حال ميں مسافروں کو نکالا اور پھر وہ کنٹرول سينٹر کی مدد سے حملہ آوروں تک پہنچے۔

دبئی ٹرانسپورٹ سکيورٹی ڈپارٹمنٹ سے وابستہ جمال راشد نے بتايا کہ چہرے سے شناخت کا سسٹم آئندہ چند ماہ ميں متعارف کرا ديا جائے گا۔ انہوں نے کہا، کسی مشکوک شخص کی شناخت ميں اس سے پہلے تک پانچ گھنٹے لگتے تھے مگر چہرے کی شناخت کے سسٹم سے يہ کام ايک منٹ کے اندر اندر ہو سکتا ہے۔

گو اس ٹيکنالوجی سے کئی شعبوں اور محکموں کا کام آسان ہوا ہے، چند حلقے اس پر تحفظات بھی رکھتے ہيں۔ بالخصوص پرائيويسی کے حوالے سے۔ برلن ميں قائم ايڈوکيسی گروپ 'ايلگوردِم واچ‘ کے مطابق اس وقت دس يورپی ممالک ميں حکام 'فيشل ريکگنيشن‘ ٹيکنالوجی استعمال کر رہے ہيں۔ انسانی حقوق کے ليے سرگرم گروپ اس حقيقت سے نالاں ہيں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔