کچرے سے غذائی اشیا نکال کر کھانےکی اجازت، کیا فوڈ ویسٹ میں کوئی کمی آئے گی؟

جرمنی میں کوڑا دانوں سے کھانا تلاش کرنا موجودہ قانون کے مطابق ایک جرم ہے تاہم اس جرم کی قانونی حیثیت کے حوالے سے مختلف ترامیمی پہلوؤں پر غور و فکر کیا جا رہا ہے۔

کچرے سے غذائی اشیا نکال کر کھانےکی اجازت، کیا فوڈ ویسٹ میں کوئی کمی آئے گی؟
کچرے سے غذائی اشیا نکال کر کھانےکی اجازت، کیا فوڈ ویسٹ میں کوئی کمی آئے گی؟
user

Dw

جرمنی میں 'ڈمپسٹر ڈائیوِنگ' یعنی کچرے اور کوڑا دانوں سے کھانا تلاش کرنا موجودہ قانون کے مطابق ایک جرم ہے۔ تاہم اس جرم کی قانونی حیثیت کے حوالے سے مختلف ترامیمی پہلوؤں پر غور و فکر کیا جا رہا ہے۔ کچرا دانوں سے غذائی اشیا نکال کر استعمال کرنے پر لگی پابندی کے خاتمے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے جرمن حکومت میں شامل فری لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ انصاف مارکو بُشمن اور گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ زراعت چیم ازدیمیر نے ڈمپسٹر ڈائیونگ پر سے پابندیاں ہٹانے سے متعلق چند تجاویز پیش کی ہیں۔ ان تجاویز کے تحت سپر مارکیٹ کے کوڑا دانوں سے کھانا تلاش کرنا اور استعمال میں لانے کے عمل پر جرمانہ نہیں ہوگا۔


اس بارے میں ازدیمیر کا کہنا ہے، ''کوڑا دانوں سے کھانا نکالنے والوں کے خلاف مزید کوئی قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔'' اس سے قبل جرمن سٹی اسٹیٹ ہیمبرگ نے بھی اسی حوالے سے انتظامی جرمانے اور موجودہ ضوابط میں نرمی کے تناظر میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا۔

کوڑا دانوں سےکھانےکے بارے میں پیش کی جانے والی ان قانونی ترامیم پر وہ طالبِ علم خاصے پرجوش اور خوش نظر آتے ہیں جو تنگ دستی کے سبب کبھی کبھار اپنا خالی فریج ٹریش سے نکالے گئے کین فوڈ سے ہی بھرتے ہیں۔


خوراک کے تاجر اس تجویز سے ناخوش

تاہم جرمن فوڈ ٹریڈ کی وفاقی تنظیم کے ترجمان کرسٹیان بؤچر نے اس حکومتی منصوبے پر تنقید کی ہے ۔ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ''اس معاملے میں قانونی نقطہ نظر سے کسی اقدام کی کوئی منطق نہیں بنتی کیونکہ لوگ عموماﹰ جن کوڑا دانوں سے خوارک اٹھاتے ہیں، وہ کوڑا دان پہلے سے ہی عام عوام کی دسترس میں ہوتے ہیں۔ یعنی ان پر تالے نہیں لگے ہوتے یا وہ کسی خاردار جگہ پر نہیں ہوتے، اس معاملے میں روک ٹوک کے خاتمے سے متعلق وزراء کے اقدامات غیرضروری ہیں۔

جرمنی میں سالانہ گیارہ ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو غذائی ضیاعکے اعتبار سے ایک بڑی مقدار ہے۔ بؤچرکا ماننا ہےکہ حکومتی اقدامات کابنیادی مقصد غذائی ضیاع سے بچنا ہونا چاہیے جب کہ وزراء کے پیش کردہ اقدام سے فوڈ ویسٹ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس بارے میں انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ '' سالانہ گیارہ ملین ٹن فوڈ ویسٹ میں سے خوراک کی صنعت صرف سات فیصد نقصان کی ذمہ دار ہے جبکہ ان ترامیم کے زریعے اسکو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کے امکانات موجود ہیں۔''


مثلا" بہت سے اشیا فروش تاجر اپنی اشیا کی ایکسپائری ڈیٹ کے بعد انکو بھی کچرا دانوں میں پھینک دیتے ہیں اور ایسے میں اگر ڈمپسٹر ڈائونگ قانونی ہو جائے تو یہ کمپنیاں ممکنہ طور پر ان اشیا سے پیدا ہونے والے مضر صحت نقصانات کے لیے ذمہ دار ٹھہرائی جا سکتی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ایگریکلچر اینڈ لینڈ یوز کے سربراہ رالف سومر کے مطابق اس بات کا حل یہ ہے کہ "اگر کوئی کھانے پینے کی اشیا کی رسید نہ پیش کر سکے تو وہ ان اشیا بنانے والی کمپنی کو ممکنہ طور پر اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتا۔ جو بھی ویسٹ فوڈ استعمال کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کا ذمہ دار خود ہے۔"


اقوامِ متحدہ کے فوڈ ویسٹ انڈیکس 2021 ء کے مطابق گھریلو ویسٹ میں ضائع ہونے والی غذا کے معاملے میں جرمنی یورپین ممالک میں اس وقت سرِ فہرست ہے۔ جرمنی کی نسبت خوراک کا زیادہ ضیاع دنیا کے صرف چند ہی دیگر ممالک مثلاﹰ چین، بھارت، امریکہ اور جاپان میں ہو رہا ہے۔

اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک طرف 931 ملین ٹن خوراک کچرے کے ڈبوں میںضائع ہو جاتی ہے جبکہ دوسری طرف روِ زمین پر 800 ملین سے زائد افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار رہتے ہیں۔


البتہ، جرمن حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنے لیے یہ ہدف طے کیا ہے کہ 2030 ء تک خوراک کے مجموعی ضیاع کو کم از کم آدھا کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ خوراک کچرے کے ڈبوں کی بجائے ملک بھر میں موجود 960 فوڈ بینکوں میں پہنچائی جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔