جرمن میں ایسا کیا ہوا کہ کورونا کے باوجود بے روزگاری میں کمی

جرمنی میں کورونا وبا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود بے روزگاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن ماہرین اومیکرون کو معیشت کے لیے ایک خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔

جرمنی میں کورونا وبا کے باوجود روزگار کی مںڈی میں بہتری
جرمنی میں کورونا وبا کے باوجود روزگار کی مںڈی میں بہتری
user

Dw

جرمنی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس کورونا وبا کی نئی لہر اور وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے لگنے والی پابندیوں کے باوجود شرح بے روزگاری میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پچھلے سال کے آخری دو ماہ میں یہ شرح پانچ اعشاریہ تین سے گر کر پانچ اعشاریہ دو پر آ گئی تھی یعنی دسمبر میں نومبر کے مقابلے میں بے روزگار لوگوں کی تعداد میں 23000 کی کمی ہوئی تھی۔

وفاقی ادارہ برائے روزگار'بی اے‘ کے مطابق 23000 لوگوں کو نوکریاں فراہم کی گئیں۔ بی اے کے سربراہ ڈیٹلیف شیلے نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے بے روزگاری کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی اور بہتری کا یہ رجحان دسمبر تک جاری رہا۔


ان اعداد وشمار کے مطابق دسمبر میں بے روزگار افراد کی تعداد 2,330,000تھی، جو اس سے ایک برس قبل یعنی دسمبر 2020ء کے مقابلے میں قریب 378,000 کم ہے۔جرمنی کا زیادہ تر انحصار ریاستی امداد والے قلیل مدتی اسکیمز ( شارٹ ٹائم ورک) پر رہا ہے تاکہ چھوٹے کاروباروں اور ملازمین کو مدد فراہم کی جا سکے۔ اپریل کے مہینے میں جب کورونا وبا کی تباہ کاریاں عروج پر تھیں، 60 لاکھ جرمن شہریوں کی ملازمت کے اوقات کم کر دیے گئے تھے۔

اکتوبر میں شائع ہونے والے ڈیٹا کے مطابق اس اسکیم سے اب بھی سات لاکھ سے زائد لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ بی اے کے مطابق پچھلے سال کے آخر میں اس قلیل مدتی اسکیم کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں سے اندازہ ہوا کہ ملک میں کورونا وبا کی نئی شکل اومیکرون کی وجہ سے لوگوں میں مستقبل کو لے کر بے یقینی کتنی بڑھ رہی ہے۔ ماہِ دسمبر میں تقریبا‌ 286000 لوگوں نے یہ درخواست جمع کرائی، جو اس سے ایک ماہ قبل نومبر میں ایک لاکھ سے کچھ زائد تھی۔


قرض دینے والے ادارے کے ایف ڈبلیو کے سربراہ اور ماہرِ اقتصادیات فرٹزی کوہلر گائب کے مطابق پچھلے سال ملک میں مجموعی طور پر جاب مارکیٹ کی صورتحال بڑی حوصلہ افزا رہی ہے لیکن کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ جرمنی کی معیشت کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔