حمل کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے بچاؤ

حمل ضائع ہونے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ان میں خواتین  تناؤ اور طبی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ آگاہی کی کمی بھی شامل ہے۔ 

حمل کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے بچاؤ
حمل کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے بچاؤ
user

Dw

’’اب کی بار امید نہیں میں خود ٹوٹ چکی ہوں ‘‘ صائمہ کے لہجے میں اداسی تھی۔بولی ''شادی کے ان آٹھ سالوں کے دوران کئی بار میرا حمل ضائع ہوا، اب کی بار حمل ٹھہرنے پر ہم بہت پر امید اور خوش تھے لیکن ساتویں ماہ میں پہنچ کر میں نے اپنا بچہ کھو دیا۔‘‘

اس معاشرے میں صائمہ جیسی لاکھوں خواتین ہیں، جو اپنی زندگی کے بہترین ایام جسمانی اور ذہنی اذیت میں گزارتی ہیں۔ شادی کے بعد بہت سی خواتین میں کچھ پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں، جس وجہ سےحمل مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔کچھ خواتین حاملہ ہوتی بھی ہیں، لیکن کچھ ہی دنوں میں ان کا حمل ضائع ہوجاتا ہے اور بعض خواتین پہلے بچے کی پیدائش کے بعد سے دوسرا مرتبہ حاملہ نہیں ہو پاتیں۔ لوگ اسقاط حمل کی وجہ اور علاج جانے بغیر مختلف غلط تصورات کو ذہن میں بیٹھا لیتے ہیں۔


حمل کےضائع ہونے کی وجوہات

حمل کےضائع ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ اس بارے میں ماہر امراضِ نسواں پروفیسر ڈاکٹر فریسہ وقار نے ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمل کو 3 ٹرائی مسٹرز میں تقسیم کیا جاتا ہے،''عام طور پر فرسٹ ٹرائی مسٹر میں بچے کے ضائع ہونے کی وجہ Congenital chromosomal abnormalities ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مریضہ کو تھائیرایڈ یا ذیابطیس ہو، کچھ خواتین کا اپنا ہی خون جمنے لگتا ہے اس صورت میں بھی حمل ضائع ہوجاتا ہے۔‘‘

کرن بھی ان خواتین میں سے ایک ہیں، جو اپنےجڑواں بچے کھو چکی ہیں۔ 24 سالہ کرن نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا،''میرا پانچواں ماہ تھا کہ اچانک مجھے پیٹ میں ناقابل برداشت درد ہوا۔ ہسپتال جا کر معلوم ہوا کہ میرے دونوں بچے مر چکے ہیں۔ ایک بچہ تو ختم ہوئے زیادہ وقت گزر چکا تھا کہ اس کا نشان تک باقی نہیں تھا جب کہ دوسرے کے کچھ حصے پیٹ میں موجود تھے۔‘‘


ڈاکٹر فریسہ وقار کہتی ہیں کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سیکنڈ ٹرائی مسٹر، یعنی چوتھے، پانچوں یا چھٹے ماہ میں حمل کو ضائع ہونے سے بچایا بھی جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فریسہ کہتی ہیں،''ہم ان کو ایک ٹانکا لگاتے ہیں جسے Cervical Cerclage یا Mcdonalds stitch بھی کہتے ہیں۔ اگر یہ ٹانکا لگا لیا جائے تو حمل ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔‘‘

سٹل برتھ کیا ہے؟

سٹل برتھ یہ ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں پورے دنوں کا ہو لیکن جب پیدا ہو تو سانس نہ لے۔ پروفیسر ڈاکٹر فریسہ وقار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سٹل برتھ کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک یہ کہ بچے کو صحیح طرح آکسیجن کا نہ مل پانا بھی ہے،''بہت شدید لیبر پین کے دوران بچے کا آکسیجن لیول گر جاتا ہے، پیٹ میں بچہ زندہ ہوتا ہے لیکن جب پیدا ہوتا ہے تو وہ سانس نہیں لیتا۔ اس کے علاوہ ماں کو ہائی بلڈ پریشر اور ذیابطیس بھی بچے کی سٹل برتھ کی وجہ بن سکتی ہے اور اگر عامل ( Placenta) بھی الگ ہو جائے یا پھٹ جائے تو اس صورت میں بھی سٹل برتھ ہو جاتی ہے۔‘‘


انہوں نے بتایا کہ سیدھا لیٹنے سے سٹل برتھ نہیں ہوتی، لیکن کروٹ لے کر لیٹنے سے بچے کو خون زیادہ ملتا ہے اور سیدھا لیٹنے سے خون کم ملتا ہے۔ اگر کوئی بچہ جس کا سانس پہلے سے اکھڑ رہا ہو ایسے میں ماں سیدھی لیٹے گی تو تھوڑا ممکن ہےکہ اس وجہ سے سٹل برتھ ہو جائے۔

آئی وی ایف ایکسی (IVF ICSI) کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟

یہی سوال جب ڈی ڈبلیو اردو نے ڈاکٹر فریسہ وقار سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا، جن خواتین کا حمل پیدائشی نقص کی وجہ ضائع ہوتا ہے ان خواتین میں آئی وی ایف کیا جا سکتا ہے۔ آئی وی ایف میں شوہر کے سپرم اور عورت کے انڈے کو ملا کر جسم سے باہر ایمبریو (یعنی ابتدائی حمل) کو بنایا جاتا ہے،''اس طریقہ کار سے دو بچے بنائے جاتے ہیں اگر ان ایمبریوز کو چیک(PGD) کر لیا جائے کہ وہ بچہ نارمل ہے یا اس میں پیدائشی نقص ہے، تو صرف ہم وہ بچے ماں کے یوٹریس میں ڈالتے ہیں، جن کا حمل ضائع ہونے کا چانس کم ہوتا ہے۔‘‘


ڈاکٹر فریسہ وقار نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ اب آئی وی ایف ایکسی کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں جراثیم کو انڈے میں براہ راست انجیکٹ کیا جاتا ہے اس سے حمل ٹھہرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ آئی وی ایف ایکسی خاص طور پر ان خواتین کے لیے ہے، جن کی ٹیوبز بند ہوں یا جن کی شادی کو تین سال ہو جائیں اور بچے پیدا نہ ہو رہے ہوں، وجہ بھی پتہ نہ چل رہی ہو، علاج کے باوجود بچہ نہیں ہو رہا یا وہ خواتین جن کے شوہر کے سپرمز بہت کم ہوں تو اس کیس میں آئی وی ایف ایکسی کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر فریسہ بتاتی ہیں کہ یہ کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ مہنگا علاج ہے، جس پر کم از کم 6 سے 7 لاکھ کا خرچہ آتا بعض ہسپتالوں میں خرچ اس بھی ذیادہ ہے۔


خوراک، احتیاط اور غلط تصورات

ایسی خواتین جو حاملہ ہوں انہیں کھانے پینے میں احتیاط رکھنی چاہیے۔ بہت زیادہ میٹھی اور چکنی چیزوں سے پرہیز کریں۔ خشک میوہ جات اور ایک موسمی پھل روزانہ ضرور کھائیں۔ سیب حاملہ خواتین کے لیے بہترین غذا ہے، ''چھوٹا بڑا گوشت، دودھ، دہی، لسی، انڈے یہ بہترین خوراک ہیں۔‘‘

صحت مند حمل کے لیے ورزش بہت اچھی ہے۔ جن خواتین کا دو یا دو سے زیادہ مرتبہ اسقاط حمل ہوا ہے ڈاکٹر فریسہ ان کو پیغام دیتی ہیں،''یہ نہ سمجھیں کے آپ پر کوئی اثر وغیرہ ہے ایساکچھ بھی نہیں ہوتا۔کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حمل کے ابتدائی دنوں میں ہیل کی جوتی پہن کے بازار جانے، سیڑھیاں زیادہ اترنے سے یا بہت زیادہ وزن اٹھانے سے حمل ضائع ہو جاتا ہے یہ غلط تصورات ہیں اور سائنس ان کی تصدیق نہیں کرتی‘‘۔


ڈاکٹر فریسہ کہتی ہیں کہ حمل بار بار ضائع ہونے پر کچھ ٹیسٹس کروا لینے چاہییں جیسا کہ، ذیابطیس، تھائیرایڈ ، اینٹی باڈیز، پروٹین سی اور ایس، اینٹی تھراومبن تھری وغیرہ۔ ان کے بقول ان ٹیسٹس سے 25 سے 50 فیصد خواتین کے اسقاط حمل کی وجہ معلوم ہو جاتی ہے اور جن کی وجوہات پھر بھی معلوم نہ ہو سکیں تو عمومی طور پر ان کے ایمبریو میں پیدائشی نقص ہوتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔