سماج

سیاسی بدزبانی سے بدمزہ ہوتے پارلیمانی انتخابات

بھارتی پارلیمانی انتخابات میں سیاسی رہنماؤں کی بدزبانی اس حد تک بڑھ گئی کہ سپریم کورٹ کو سختی اختیار کرنا پڑی۔

سیاسی بدزبانی سے بدمزہ ہوتے پارلیمانی انتخابات

ڈی. ڈبلیو

بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما اور سینیئر وکیل میناکشی لیکھی کی توہین عدالت کی ایک رِٹ پر سماعت کے دوران بھارتی سپریم کورٹ نے ملکی الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔

بھارت کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس سختی کے بعد الیکشن کمیشن نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے ’فائر برانڈ‘ نیتا یوگی آدتیہ ناتھ پرآج صبح چھ بجے سے اگلے بہتر گھنٹوں تک انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی۔ الیکشن کمیشن نے بی ایس پی کی صدر مایاوتی پر بھی آج صبح چھ بجے سے اگلے اڑتالیس گھنٹوں تک انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی۔

بدزبانی یا بدکلامی کہا جائے یا سیاسی مفاد حاصل کرنے کے ہتھ کنڈے کہ اسلامی درس و تدریس کے مشہور مرکز دیوبند میں حال ہی میں ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے انتخابی اتحاد کی پہلی ریلی میں بی ایس پی صدر مایاوتی نے اپنی تقریر میں مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ بی جے پی کے خلاف ان کا ووٹ بٹنے نہ پائے۔

یہیں سے تنازع شروع ہو گیا کہ اور اس کے جواب میں یوپی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’انہیں صرف مسلمانوں کے ووٹ چاہییں تو ہمیں سب کے ووٹ حاصل کرنا ہیں‘۔ اس کے بعد انہوں نے ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ ’انہیں علی چاہیے تو ہمیں بجرنگ بلی چاہیے‘۔

اس کے جواب میں مایاوتی نے بدایوں میں ایس پی، بی ایس پی اتحاد کی دوسری ریلی میں کہا کہ اُنہیں ’علی کے بھی ووٹ حاصل کرنا ہیں اور بجرنگ بلی کے بھی‘۔ وضاحت یوں کی کہ ’بجرنگ بلی تو دلت، یعنی انہیں کی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں اور یہ تحقیق یوگی جی کی ہی ہے‘۔ علی والے معاملہ پر لکھنو کے کئی شیعہ علماء نے بھی اعتراض کیا تھا۔حالانکہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے یوپی اسمبلی کے رکن بُقّل نواب اپنے آپ کو بجرنگ بلی کے بھکت بتاتے ہیں۔ یوپی حکومت کے ایک وزیر محسن رضا بھی بجرنگ بلی کی حمایت میں بولتے رہے ہیں اور یہ دونوں رہنما شیعہ عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔

’علی اور بجرنگ بلی‘ والا یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ رام پور میں ایس پی کے تیز طرار لیڈر اعظم خاں اپنی حریف بی جے پی سے الیکشن لڑنے والی ایک زمانے کی مشہور بالی ووڈ اداکارہ جیا پردا کے لیے نازیبا کلمات کہہ گئے۔ اعظم کے خاتون مخالفت کلمات کی چہارجانب مذمت ہو رہی ہے اور ان کی الیکشن کمیشن میں شکایت کے ساتھ ہی ان کے خلاف رامپور میں ایف آئی آر بھی درج ہو گئی ہے۔

’قومی خاتون کمیشن آف انڈیا‘ نے بھی ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اعظم خان کے الیکشن لڑنے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اس معاملہ پر جیا پردا بری طرح سے بپھر گئی ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اب وہ ہر حال میں اعظم خاں کو ہرائیں گی۔ اعظم خان بھی اپنے متنازع بیانات کے لیے بھارت کے مشہور ’سیاسی اسٹار‘ ہیں۔

سیاسی بدزبانی کے معاملات اور بھی ہیں۔ جب سے الیکشن شروع ہوئے ہیں، روز ہی کوئی نہ کوئی لیڈر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کہہ دیتا ہے کہ سرخیاں بن جاتی ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے وقت یوپی کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ، جو فی الحال ہندوستان کی ریاست راجستھان کے گورنر ہیں، نے وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ووٹ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ بذات خود بی جے پی کے رکن ہیں۔

ان کے اس بیان پر ان کے خلاف کارروائی کے لیے ملکی صدر نے وزارت داخلہ سے رجوع کیا ہے۔ یوپی میں اناؤ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر میدان میں اترے ساکشی مہاراج مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ انہیں ووٹ نہیں دیں گے، انہیں پاپ لگے گا کیونکہ وہ سادھو ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انہیں بددعا کا حق حاصل ہے۔

بی جے پی کی رہنما اور مرکزی وزیر مینکا گااندھی سلطانپور سے الیکشن کے میدان میں ہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ مسلمانوں کے ووٹ کے بنا وہ کامیاب ہوئیں تو اچھا نہیں ہوگا۔ ان کی شکایت ہوئی تب بھی وہ اپنے موقف پر قائم رہیں اور پھر کہا کہ جو لوگ انہیں ووٹ دیں گے وہ انہیں کے کام کریں گی۔ اس کے لیے انہوں نے ووٹروں کی درجہ بندی بھی کر دی۔

بہار میں بھی بی جے پی کے رہنما کم بدزبانی سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ مرکزی وزیر اشونی چوبے نے لالو یادو کی اہلیہ اور بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کے لیے کہا کہ انہیں گھونگھٹ میں ہی رہنا چاہیے۔ بہار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور متنازع بیانوں کے باعث بدنام گری راج سنگھ نے ’علی اور بجرنگ بلی‘ کے بیان پر کہا کہ وہ رامپور جاکر اعظم خاں کو بتائیں گے کہ بجرنگ بلی کیا ہیں یعنی ان کا عتاب ان پر نازل ہوگا۔