جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر دیکھنے والوں کی تعداد دوگنا

جرمنی میں جرائم کے وفاقی ادارے کے سربراہ ہولگر میونش کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ایک سال کے اندر ایسے افراد کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے، جو بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کی تصاویر دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر دیکھنے والے دوگنا
جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر دیکھنے والے دوگنا
user

Dw

جرمن کرمنل پولیس کے سربراہ ہولگر میونش کا کہنا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافے نے پولیس وسائل محدود کر دیے ہیں۔ ہولگر میونش نے یہ بات اخبار بِلٹ اَم زونٹاگ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات میں اضافے کی رپورٹس بھی بڑھ گئی ہیں اور اس باعث فوجداری تفتیش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بی کے اے کے سربراہ نے اس اضافے کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔

جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ

ہولگر میونش کے مطابق سن 2020 میں بچوں کے جنسی استحصال کے اٹھارہ ہزار سات سو اکسٹھ واقعات کا اندراج کیا گیا اور رواں برس کے دوران ایسے واقعات میں اب تک ترپن فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔


دوسری جانب پولیس ایجنسی کے مطابق جرمنی میں دو ہزار چھ سو بچوں کے جنسی استحصال کے اضافی واقعات ایک امریکی تنظیم نے رپورٹ کیے ہیں۔ یہ تنظیم چائلڈ پروٹیکشن کا سرگرم گروپ ہے۔

بی کے اے کے مطابق سن 2020 میں پولیس کو مختلف ذرائع سے بچوں کے ممکنہ جنسی استحصال کے واقعات اور ان کی تصاویر کی تقسیم کے پچپن ہزار چھ سو واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔


کیتھولک پادری کی تفتیش

بی کے اے کے سربراہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جرمنی کے شمال مغربی شہر اوسنا برُوک کے ایک پادری کو شامل تفتیش کیا گیا ہے کیونکہ ان پر بچوں کے جنسی استحصال کے امیجز بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اوسنابرُوک کے نگران چرچ نے بتایا ہے کہ اس الزام کے بعد پادری کو ان کے منصب سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ شامل تفتیش پادری نے انچارج بشپ کو اس بارے خود مطلع کیا تھا۔

ڈارک نیٹ بند کر دیا گیا

جرمن پولیس نے رواں برس مئی میں تصدیق کی تھی کہ ایک طویل تفتیشی عمل کے بعد ماہ اپریل کے وسط میں بچوں کی فحش فلموں کے اس نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا، جو دنیا بھر میں اس غیر قانونی کاروبار کا سب سے بڑا پلیٹ فارم تھا۔ ڈارک نیٹ کے اس پلیٹ فارم کا نام 'بوائز ٹاؤن‘ تھا۔ اس کارروائی کے دوران چند مشتبہ ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔


بچوں کی فحش فلموں کا گھناؤنا کاروبار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا پلٹ فارم 'بوائز ٹاؤن‘ سن 2019 سے فعال تھا۔ اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد تھی۔ اس آن لائن پلیٹ فارم تک رسائی کا واحد ذریعہ ڈارک نیٹ تھا۔ پولیس کی تفتیش کا دائرہ جرمنی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔