کشمیری لڑکیوں کا کھیلوں میں کیرئیر اور درپیش مشکلات

مسلم اکثریتی کشمیر میں خواتین کھلاڑیوں کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ڈی ڈبلیو نے ان خواتین کے ساتھ بات کی، جو ماضی کی روایات کو توڑتے ہوئے لڑکیوں کو کھیلوں سے وابستگی کی قدر سکھا رہی ہیں۔

کشمیری لڑکیوں کا کھیلوں میں کیرئیر اور درپیش مشکلات
کشمیری لڑکیوں کا کھیلوں میں کیرئیر اور درپیش مشکلات
user

Dw

کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں فٹ بال کے گراؤنڈ میں اسکارف اور یونیفارم پہنے لڑکیاں پریکٹس سے پہلے خود کو وارم اپ کر رہی ہیں۔ نادیہ نگہت ان کی کوچ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فٹ بال کھیلنا لڑکیوں کو نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ ان میں سے دو لڑکیاں آج بیس منٹ تاخیر سے پہنچی ہیں۔ نادیہ نگہت کہتی ہیں، ''میں انہیں سخت اور وقت کا پابند بنانا چاہتی ہوں۔ میں انہیں کھیلوں میں وقت پر آنے کی اہمیت سکھانا چاہتی ہوں۔‘‘

کشمیری لڑکیوں کے لیے ایتھلیٹکس میں اپنا کیریئر بنانا ایک مشکل امر ہے۔ نگہت کو بھی اپنے راستے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نگہت بتاتی ہیں کہ گیارہ سال کی عمر میں وہ اپنے شہر میں لڑکوں کے ساتھ فٹ بال کھیلتی تھیں۔ بعض اوقات انہیں ایسا کرنے پر گھر والوں سے مار بھی پڑی اور بعض مرتبہ گلی محلے والوں نے نگہت کے والدین کو طعنے بھی دیے کہ یہ کھیل 'خواتین کے لیے نہیں‘ ہے۔


پچیس سالہ نگہت اب کشمیر میں لڑکیوں کی پہلی فٹ بال کوچ ہیں اور تقریبا تیس لڑکیوں کو اس کھیل کی تربیت فراہم کر رہی ہیں۔ تربیت حاصل کرنے والی لڑکیوں کی عمریں گیارہ سے بیس سال کے درمیان ہیں۔

نگہت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ، ''میرے خاندان کو شروع میں فٹ بال میں کیریئر بنانے کا میرا خیال پسند نہیں تھا۔ گھر والے مجھے اکثر کہتے تھے کہ کچھ اور کر لو۔‘‘ نگہت نے متعدد ٹیموں میں کھیلا اور فٹ بال کوچ بننے سے پہلے کئی ہندوستانی ریاستوں میں تعریفی اسناد حاصل کیں۔ نگہت کے مطابق انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی بار اپنے اس خواب کو ترک کرنے کے بارے میں سوچا۔ وہ مزید بتاتی ہیں، ''ایک مرتبہ میں لڑکوں کی ٹیم کے ساتھ ایک ٹورنامنٹ میں کھیل رہی تھی۔ تین میچوں کے بعد انتظامیہ کو پتا چلا تو مجھے بتایا گیا کہ مجھ پر پابندی لگا دی جائے گی۔ تب میں بہت مایوس ہوئی۔ میں نے سوچا شاید یہ کھیل اب میرے لیے ختم ہو گیا ہے۔ میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور تھی کیونکہ وہاں لڑکیاں نہیں تھیں۔‘‘ لیکن نگہت کے کوچ نے انہیں حوصلہ دیا کہ کھیلتی رہو۔


کشمیری لڑکیوں کے لیے رول ماڈل

نگہت چھ سال سے تربیتی مرکز چلا رہی ہیں اور لڑکیوں کو ایتھلیٹکس میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے، ''میں صرف نوجوانوں اور زیادہ تر نوجوان لڑکیوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ مقامی فٹ بال ایسوسی ایشن میری مدد کر رہی ہے۔ کشمیر میں مجھے لگتا ہے کہ کوچ بننا ضروری ہے کیونکہ لڑکیوں کو تربیت حاصل کرنا مشکل لگتا ہے۔‘‘ نگہت کے مطابق ان کے پاس لڑکیاں اچھا خاصا سفر کر کے تربیت حاصل کرنے آتی ہیں۔ کچھ لڑکیاں تو یہاں سے چالیس کلومیٹر دور رہتی ہیں۔

ہانیہ مظفر کی عمر 14 برس ہے اور وہ بس کے ذریعے سفر کرتے ہوئے ٹریننگ لینے آتی ہے۔ ہانیہ کا کہنا تھا، ''وسطی کشمیر کے میرے گاؤں میں، میں اپنے بھائی کے ساتھ کھیلنے جاتی تھی لیکن وہاں لڑکیاں نہیں تھیں۔ میں وہاں اکیلی کھیلتی تھی۔ پھر سوشل میڈیا پر مجھے اس کیڈمی کا پتا چلا تو میں یہاں آ گئی۔‘‘


شاہنہ ایک ماں ہیں اور وہ اپنی بیٹی کو خود ٹریننگ اکیڈمی تک لے کر آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''میں جانتی ہوں کہ زیادہ تر مائیں نہیں چاہتیں کہ ان کی بیٹیاں کھیلوں میں اپنا کیرئیر بنائیں۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی فٹ بالر بننے کے تمام امکانات کو تلاش کرے۔‘‘

پلاسٹک کے سینڈل سے لے کر بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم تک

تاہم کشمیری خواتین کی یہ جد وجہد صرف فٹ بال تک ہی محدود نہیں ہے۔ جسیا اختر کا تعلق کمشیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے اور اس نے کرکٹ کھیل کر اپنا نام کمایا ہے۔ وہ اس قدر غریب تھیں کہ انہوں کرکٹ بھی پلاسٹک کے سینڈلز میں کھیلی کیوں کہ وہ مہنگے جوتے نہیں خرید سکتی تھیں۔


جسیا اختر کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، '' میں گھر سے جلدی نکل جاتی تھی اور ایک مقامی بس کے ذریعے وہاں جاتی تھی، جہاں ہمارے ضلع میں مرد پریکٹس کرتے تھے۔ خواتین کے کرکٹ کھیلنے کا تو دور دور کوئی خیال نہیں تھا۔ ہر کوئی مجھ پر ہنستا تھا۔‘‘

لیکن جسیا اختر کی ثابت قدمی کا نتیجہ نکلا اور وہ انڈیا کی جونیئر ویمن کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتی رہی اور انڈیا کی پریمیئر لیگ میں بھی کھیل چکی ہیں۔ وہ فی الحال بھارت کی شمالی ریاست راجستھان میں ایک ٹیم کے لیے کھیلتی ہیں۔ وہ مزید بتاتی ہیں، ''میں کشمیر سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کرکٹر بن گئی ہوں، جس کو انڈین ویمن قومی کرکٹ ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔‘‘ تاہم اب وہ بھی جنوبی کشمیر کے اپنے آبائی علاقے میں لڑکیوں کے لیے ایک کرکٹ اکیڈمی کھولنے کی خواہش مند ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ''میں جانتی ہوں کہ ایسی ہزاروں خواتین ہیں، جنہیں کرکٹ کھیلنے کا جنون ہے۔ لیکن کچھ خوف سے، کچھ خاندانی اور معاشرتی دباؤ سے اور ان میں سے بیشتر مواقع کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔