کبوتر بازوں کا سب سے بڑا عالمی تجارتی میلہ جرمن شہر ڈورٹمنڈ میں

کبوتر بازوں کا سب سے بڑا عالمی میلہ کہلانے والی تجارتی نمائش چار اور پانچ جنوری کو جرمن شہر ڈورٹمنڈ میں منعقد ہو گی، جس میں مختلف براعظموں سے آنے والے بارہ ہزار سے زائد نمائش کنندگان شرکت کریں گے۔

کبوتر بازوں کا سب سے بڑا عالمی تجارتی میلہ جرمن شہر ڈورٹمنڈ میں
کبوتر بازوں کا سب سے بڑا عالمی تجارتی میلہ جرمن شہر ڈورٹمنڈ میں
user

ڈی. ڈبلیو

جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ڈورٹمنڈ سے جمعرات دو جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پالتو یا شوقیہ پالے جانے والے کبوتروں کی یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی بین الاقوامی نمائش اسی جرمن شہر میں نئے سال کے پہلے ویک اینڈ پر چار اور پانچ جنوری کو منعقد ہو گی۔

یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک سے آنے والے 200 سے زائد نمائش کنندگان اپنے پالتو اور پرواز کے مقابلوں کے لیے استعمال ہونے والے کبوتروں اور ان سے متعلق مختلف مصنوعات کے ساتھ اس دو روزہ تجارتی میلے میں شرکت کریں گے۔ اس 'ٹریڈ فیئر‘ کی منتظم اور جرمنی میں کبوتر پالنے والوں کی نمائندہ ملکی تنظیم وی ڈی بی (VDB) کے مطابق یہ تجارتی نمائش دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اجتماع ہوتی ہے۔

اس تنظیم کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا کہ اس عالمی میلے میں اس سال پہلی بار ایسے پالتو پرندوں کی بہت متنوع اقسام کی نمائش بھی کی جا رہی ہے، جنہیں عام طور پر ان کے دلکش ہونے کی وجہ سے گھروں میں پنجروں میں رکھا جاتا ہے۔

جرمنی کی 'پَیٹ پیجن بریڈرز ایسوسی ایشن‘ کے مطابق ماضی میں جب جرمنی میں کبوتر بازی کا شوق کبھی عروج پر تھا، تو کبوتر پالنے والے شہریوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ اب یہ تعداد کم ہو کر 30 ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔ تاہم جرمنی کے کئی دیہی علاقوں میں کبوتر بازی اب پھر سے ایک پسندیدہ عوامی مشغلہ بنتی جا رہی ہے۔

ایشیا میں کبوتر بازی ایک دیرینہ روایت

مشرقی یورپی ممالک میں سے پولینڈ اور بلغاریہ میں کبوتر پالنا ایک پسندیدہ عوامی مشغلہ ہے جبکہ یہی عوامی شوق کئی مشرقی ایشیائی ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہاں تک جنوبی ایشیائی ممالک کی بات ہے، تو پاکستان اور بھارت جیسی ریاستوں میں تو یہ دیرینہ شوق عام ہے اور بہت سے شہریوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر کبوتر پال رکھے ہوتے ہیں، جن کے درمیان پرواز کے باقاعدہ مقابلوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

جرمنی میں کبوتر بازی کے اسی شوق پر جانوروں کے تحفظ کی ملکی تنظیم کی طرف سے کڑی تنقید بھی کی جاتی ہے۔ اس تنظیم کا الزام ہے کہ جرمن کبوتر باز آپس میں ان پرندوں کے جن مقابلوں کا اہتمام کرتے ہیں، ان میں ہر سال ہزاروں کبوتر ہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں۔

next