عرب ممالک میں سائبر کرائم قوانین کے ذریعے مخالفین کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری

سائبر حملے پوری دنیا کی حکومتوں، لوگوں اور اداروں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ کے مطابق دنیا کے تقریباً 80 فیصد ممالک نے سائبر کرائم کے انسداد کے لیے قانون سازی کر رکھی ہے۔

عرب ممالک میں سائبر کرائم قوانین کے ذریعے مخالفین کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری
عرب ممالک میں سائبر کرائم قوانین کے ذریعے مخالفین کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری
user

Dw

کچھ عرب ممالک میں حکومتیں اختلاف رائے کو دبانے اور آزادی اظہار رائے کو روکنے کے لیے ان قوانین کا تیزی سے غلط استعمال کر رہی ہیں۔ تازہ ترین مثال شام ہے، جہاں صدر بشار الاسد کی حکومت نے اپریل میں اپنے سائبر کرائم قوانین کو اپ ڈیٹ کیا۔ نیا ترمیم شدہ قانون 20/2022 صدر، ریاست اور آئین پر آن لائن اور آف لائن تنقید کو ہدف بناتا ہے۔

لندن میں مقیم اٹارنی اور کنگز کالج میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر برن ہارڈ مائیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''شام نے آن لائن تقریر یا اظہار خیال کو مجرمانہ فعل قرار دے دیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ریاست کے 'وقار' کو نقصان پہنچا کر حکومت کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔‘‘


قانون صرف مبہم طور پر سائبر کرائم کے جرائم کی تعریف کرتا ہے، لیکن سزاؤں اور سزا میں زبردست اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شام کی خبر رساں ایجنسی SANA کی رپورٹ کے مطابق ایسے جرائم کی سزا اب 15 سال تک قید سے لے کر 15 ملین شامی پاؤنڈ تک جرمانہ ہے، جو تقریباً 5,900 ڈالر بنتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں نالاں

خلیجی مرکز برائے انسانی حقوق (GCHR) نے ایک بیان میں لکھا ہے، ''اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شق مکمل طور پر غیر واضح عنوانات کے تحت مختلف آراء کو خاموش کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اب کسی بھی ڈیجیٹل مواد پر نظریاتی طور پر حکومت کا تختہ الٹنے یا تبدیلی کا باعث بننے یا اس کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔‘‘


شام کے عوام کے لیے اس کا مطلب ہے کہ مستقبل کے کریک ڈاؤن اب پہلے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ہوں گے اور وہ بھی قانونی کے تحت۔

اسی طرح کے حربے مصر میں بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سال مارچ میں اسکندریہ کی اقتصادی عدالت نے گلوکاروں ہامو بیکا اور عمر کمال کو یو ٹیوب ویڈیو میں گانے اور رقص کرنے پر سائبر کرائم قوانین کے تحت 'خاندانی اقدار کی خلاف ورزی‘ کے مبہم الزامات پر جرمانے اور قید کی سزا سنائی۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس فیصلے کو 'اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔


قانون کے پروفیسر مائیر نے کہا، ''سائبر کرائم قوانین کا اطلاق کرنے سے ریاستیں قانون کی حکمرانی کی آڑ میں آزادانہ اظہار رائے کی مذمت کر سکتی ہیں، جیسا کہ ہم نے سن 2011 میں عرب بہار میں دیکھا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے ٹویٹر اور فیس بک کو مظاہرین اور 'انقلابیوں‘ کو متحرک کرنے کے لیے بڑے اثر کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘

صدر عبد الفتاح السیسی کی جانب سے سن 2018 میں ملک میں انسداد سائبر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کرائمز قوانین کی توثیق کے بعد مصری حکام کے پاس پہلے سے ہی آزادی اظہار اور اختلاف رائے کو روکنے کے لیے تقریباً لامحدود اختیارات تھے۔ تاہم جب جنوری سن 2022 میں نام نہاد 'این جی او قانون‘ نافذ ہوا، تو ان کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا۔


کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق، پچھلے سال جیل میں بند صحافیوں کی عالمی درجہ بندی میں مصر تیسرے نمبر پر تھا۔ سلاخوں کے پیچھے 25 رپورٹرز کے ساتھ، مصر صرف چین (50) اور میانمار (26) سے پیچھے ہے۔

سعودی عرب کی حکمت عملی

مصر کے پڑوسی سعودی عرب نے اس علاقے میں کچھ بہتری دکھائی ہے۔سن 2021 میں دس صحافیوں کو رہا کیا گیا، جب کہ کسی کو سزا نہیں ملی۔ سعودی عرب سرکاری طور پر اپنے "وژن 2030" اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے پروگرام کے فریم ورک کے تحت ملک کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے باوجود اس نے آزاد رپورٹنگ کو خاموش کرنے اور تنقیدی آراء کی اشاعت کو روکنے کے لیے طریقے تلاش کیے۔ مخالفوں کو جیل بھیجنے کے لیے ان کے سن 2007 کے سعودی انفارمیشن ٹیکنالوجی کرائمز ایکٹ پر انحصار کرنے کے بجائے، CPJ رپورٹ کرتا ہے کہ حکام انٹرنیٹ بند کرنے اور ہائی ٹیک اسپائی ویئر کے ذریعے نگرانی میں اضافہ کر رہے ہیں۔


تنظیم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ صحافی جمال خاشقجی کے سن 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہونے والے قتل کا اثر اب بھی اختلاف رائے کو خاموش کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں پیش رفت؟

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی مشرق وسطیٰ میں مخالفین کے خلاف سائبر کرائمز قوانین کے استعمال میں آگے ہے۔ آئی ٹی کرائمز ایکٹ میں متحدہ عرب امارات میں ہیکنگ، شناخت کی چوری، الیکٹرانک آرمیز اور کریپٹو کرنسیوں کے ساتھ ساتھ رضامندی کے بغیر تصاویر لینے اور افواہیں پھیلانے کے جرمانے شامل ہیں۔


بین الاقوامی معیار کی تلاش

سائبر کرائم قانون سازی کے لیے پہلا بین الاقوامی معاہدہ، "بوڈاپیسٹ کنونشن"، سن 2004 میں آیا اور صرف 65 ریاستوں نے اس کی توثیق کی۔ ایک تازہ معاہدہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ نئی قانون سازی پر زور دے رہی ہے۔ اس معاہدے پر بات چیت جون میں ہو گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔