امریکا میں کورونا وبا سے قبل کا سماجی جائزہ: ایک تجزیہ

کورونا وبا کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کی غلط بیانیوں کو اقتصادی گراوٹ اور جانی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ وبائی حالات میں ریاستی ڈھانچے کی غیر تسلی بخش صورت حال پر میلینڈا کرین کا تجزیہ:۔

امریکا میں کورونا وبا سے قبل کا سماجی جائزہ: ایک تجزیہ
امریکا میں کورونا وبا سے قبل کا سماجی جائزہ: ایک تجزیہ
user

ڈی. ڈبلیو

امریکی ریاستی ڈھانچے کی عدم تسلی بخش صورتِ حال کی تصویر کا ایک پریشان کن پہلو یہ ہے کہ وبا کے دوران ایک فوڈ بینک سے ایک فوجی کی بے روزگار بیوہ مرکز سے اپنے تین بچوں کی خوراک لینے کے لیے ایک کار میں بیٹھی اپنی باری کی منتظر تھی۔ کاروں کی قطار ایک میل سے زائد طویل تھی۔ اس فوجی کی بیوہ کو خوراک کے حصول کا انتظار اس لیے تھا کیونکہ اُس کو ملنے والی پینشن اتنی کم ہے کہ اس میں پورے خاندان کا گزر بسر مشکل ہے۔

کمزور ہوتی معیشت

کورونا وائرس کی وبا کی شدت نے امریکی معاشرے کی ڈھکی چھپی خامیوں کو پوری طرح عام کر دیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وبائی ایام سے قبل بھی ایسے ہی حالات تھے لیکن وہ ظاہر نہیں تھے۔ کئی امریکی سماجی ماہرین کے نزدیک ریاستی ڈھانچے کی غیر تسلی بخش صورت حال، جس کے عدم مساوات، سرمایہ دارنہ نظام کے محدود افراد پر ثمرات کی بارش اور دولت تلے دبی سیاست وغیرہ کھلے نشانات ہیں۔

اس عدم اطمینان بخش صورت حال پر کئی سیاستدانوں اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے حالیہ صدارتی امیدوار نے توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان کا ممکنہ حل بھی تجویز کیا ہے۔ امریکا میں متوسط طبقے کو ٹیکس میں رعایتی کٹوتی اور سماجی مراعات میں کمی کے بعد خطرناک حالات کا سامنا ہے۔ اس باعث متوسط طبقہ مزید زوال کا شکار ہو چکا ہے۔

کیا جرمنی رول ماڈل ہے؟

معتبر امریکی صحافی ہیڈریک اسمتھ نے ٹیلی وژن کے لیے بنائی جانے والی ایک دستاویزی پروگرام میں بیان کیا کہ سن 1993 میں ایک نوجوان صحافی کے طور پر وہ جرمنی کی سوشل مارکیٹ اکانومی کا مہینوں قریب سے جائزہ لیتے رہے کہ آیا یہ امریکا کے لیے ماڈل بن سکتا ہے۔ اس ٹی وی پروڈکشن ٹیم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے آلات و پرزے بنانے والے ایک بڑے جرمن ادارے ٹرُومپف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برٹولڈ لائیبنگر نے واضح کیا کہ جرمن ریاستی ڈھانچے میں معاشرتی اور کارپوریٹ سیکٹر کی مشترکہ جد و جہد امریکی عوام کی اکثریت کے لیے سوشلسٹ اقدار کا حامل ہو سکتی ہے۔ اس دستاویزی پروگرام کا نام ' چیلنج ٹو امریکا‘ تھا۔ اس میں نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ امریکا جرمن ریاستی ڈھانچے سے سبق حاصل کرتے ہوئے پائیدار سماجی اقدار پر مستحکم نظام متعارف کرا سکتا ہے۔ یہ اتفاق ہے جب یہ پروگرام امریکا میں نشر ہوا تب جرمنی انضمام کے بعد اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہو گیا تھا۔

امریکی اور جرمن سرمایہ دارانہ اپروچ

جرمن اور امریکی سرمایہ دارانہ نظام میں تفاوت اور تفریق ناگزیر ثقافتی صورت حال پر مبنی نہیں بلکہ یہ سیاسی ہے۔ امریکا میں فرینکلن ڈی روزویلٹ کا ' حقوق کا اقتصادی قانون‘ امریکا میں سوشل مارکیٹ اکانومی کے لیے ایک ایسی بنیاد فراہم کر سکتا تھا جو اقوام کے لیے مثال بن جاتا۔ اس تناظر میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل مارکیٹ اکانومی کا مقبول امریکی بیانیہ اب اپنی شناخت سے محروم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ 'نیو لبرل ایجنڈا‘ سامنے آ چکا ہے جو صرف طاقتور طبقے کے مفاد کا محافظ ہے۔

چیلنج کا سامنا

امریکا کو پھر سے وبا کے بعد پیدا ہونے والے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب درپیش چیلنج کوئی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کا انحصار امریکی معاشرے میں بڑھتی تفریق میں واضح کمی سے ہی ممکن ہے۔ سن 2008 میں پیدا ہونے والے عالمی اقتصادی بحران سے پیدا ہونے والی 'ویک اپ کال‘ کے نتیجے میں اُسی سال ہونے والے صدارتی الیکشن میں باراک اوباما کی کامیابی سامنے آئی تھی۔ انہوں نے اپنے دور میں کلیدی سیاسی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا لیکن ان کا اطلاق جزوی طور پر ہی ہو سکا۔ جانبدار میڈیا بھی اس سیاسی اصلاحاتی عمل کے راستے کی رکاوٹ ثابت ہوا۔

کورونا وائرس ایک ٹیسٹ

جرمنی اور امریکا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے دونوں ملکوں کے ریاستی ڈھانچے میں پائی جانے والی تفریق اور واضح ہو گئی ہے۔ اس وبا نے دونوں ڈھانچوں پر عوامی اعتماد کو بھی پوری طرح آشکار کر دیا ہے۔ جرمن عوام کی ایک بڑی تعداد نے اپنی حکومت کے وبا سے نمٹنے کے اقدامات کو بڑھ کر تسلیم کیا۔ دوسری جانب رنگ و نسل والے جانبدارانہ سوچ کے امریکی معاشرے میں وبا کو قابو میں لانے کے ہر پہلو کو بغیر سوچے سمجھے اعتراض سے لیا گیا اور اختلافی صورت کو ہوا ملی۔ ایسا ظاہر ہوا کہ وفاقی امداد نالائق ضرورت مندوں کو حاصل ہوئی۔ ایسے رویوں نے امریکی جمہوری روح کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی۔