انگکور واٹ سے بڑے پیمانے پر بے دخلی،یونیسکو کے رویے پر تنقید

ایمنسٹی نےعالمی ثقافتی ورثے میں شامل کمبوڈیا کے انگکور واٹ مندر کے تحفظ کے نام پر اس مندر کے احاطے میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کی جبراً بے دخلی کے باوجود یونیسکو کے مایوس کن رویے پر سخت تنقید کی ہے۔

انگکور واٹ سے بڑے پیمانے پر بے دخلی،یونیسکو کے رویے پر تنقید
انگکور واٹ سے بڑے پیمانے پر بے دخلی،یونیسکو کے رویے پر تنقید
user

Dw

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو اور اس کے عالمی ثقافتی ورثے پروگرام پر سخت تنقید کی ہے کہ وہ کمبوڈیا کے تاریخی انگکور واٹ مندر کے احاطے میں جاری بڑے پیمانے پر بے دخلی کو چیلنج کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ بے دخلی کی وجہ سے تقریباً دس ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ خاندان رضاکارانہ طورپر منتقل ہورہے ہیں لیکن ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی رہائش گاہیں خالی کرنے اور دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے"براہ راست اور درپردہ دونوں طرح کی دھمکیاں" مل رہی ہیں۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ صدیوں پرانے مندر،جو کہ ملک میں سیاحوں کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے، کے احاطے کے اطراف میں رہنے والے ہزاروں خاندان گزشتہ سال تک کسی روک ٹوک کے بغیر وہاں رہ رہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمبوڈیا کی حکومت کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس جگہ کو مزید پرکشش بنانے کی خواہش مند تھی اور اس پروگرام کے تحت اس نے گزشتہ سال کے اواخر میں تقریباً دس ہزار خاندانوں کو یہاں سے زبردستی بے دخل کرنا شروع کردیا۔


رپورٹ کے مطابق ان میں سے بہت سے خاندانوں کو آباد کاری کے نام پر دو ایسی جگہوں پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہیں یا تو بہت معمولی معاوضہ دیا گیا یا بہت سے لوگوں کو دیا بھی نہیں گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کی یہ تحقیقاتی رپورٹ 100سے زائد افراد کے انٹرویوز، نو افراد کے انگکور واٹ مندر کمپلکس کے ذاتی دورے اور آبادکاری کے دو مقامات کے جائزوں پر مبنی ہے۔

'بے دخلی بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے'

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا کے حکام کی طرف سے ہزاروں خاندانوں کی بے دخلی بین الاقوامی اور قومی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے،"بے دخلی اور آبادکاری کی جگہ کے حالات سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود یونیسکونے بے دخلی کے واقعات کی عوامی طور پر مذمت نہیں کی ہے۔"


رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یونیسکو نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے تحقیقات کے نتائج پر بھی کوئی غور وخوض نہیں کیا۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ یونیسکو کو اس سلسلے میں واضح موقف اختیار کرنا چاہئے تھا کیونکہ کمبوڈیا کی حکومت نے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام سے لوگوں کو دور رکھنے کا جواز فراہم کرنے کے لیے یونیسکو کا نام استعمال کیا۔

ایمنسٹی نے واضح طور پر کہا کہ "یونیسکو کو اپنے نام پر جبری بے دخلی کی عوامی سطح پر مذمت کرنی چاہئے۔" یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مرکز نے ایمنسٹی کو بتایا کہ اس کے پاس "حقوق پر مبنی معیارات اور پالیسی سفارشات کو نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے کیونکہ ہمارا کردار پالیسی مشورے، صلاحیت سازی اور بیداری پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔"


خیال رہے کہ انگکور واٹ مندر کو 1992 میں عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ اس بات کا خدشہ تھا کہ اس علاقے میں انسانی بستیاں اس کے تحفظ کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتی ہیں۔ انگکور آثار قدیمہ پارک نویں سے پندرہویں صدی پر محیط خمیر سلطنت کے مختلف دارالحکومتوں کا مرکز رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔