ایئر لائن ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی ہو گی یا اضافہ؟

اگر آپ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مستقبل قریب میں ایئر لائن کی ٹکٹوں کی قیمتیں گریں گی اور آپ عمدہ سی چھٹی منانے جا سکیں گے، تو یہ ارادہ ترک کر دیں۔ مستقبل میں ٹکٹوں کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایئر لائن ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی ہو گی یا اضافہ؟
ایئر لائن ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی ہو گی یا اضافہ؟
user

Dw

ایوی ایشن کی صنعت سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں فضائی سفر کے ٹکٹوں کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کووڈ کی وبا، بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی اونچی قیمتیں اور مسلح تنازعات کی وجہ سے پائی جانے والی بے یقینی اس صورتحال کی وجوہات میں سرفہرست ہیں۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے کہا کہ اگر چین 2023ء تک کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں میں نرمی نہیں لاتا، تو ایئر لائنز کی معاشی بحالی اور بھی زیادہ تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

آئی اے ٹی اے کے سربراہ اور قطر ایئر ویز کے چیف ایگزیکیٹو اکبر البکر نے بھی انہی خدشات کا اظہار کیا۔ ان کے بقول آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کے مسافر قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کر سکتے ہیں کیوںکہ پچھلے دو سالوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایئر لائن کمپنیوں کے نقصانات بھی بڑھے ہیں۔


والش نے IATA کی ایک میٹنگ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انڈسٹری کو ذرا سی امید تھی لیکن اگر جیٹ ایندھن کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو کمپنیوں کے پاس واحد حل یہی ہو گا کہ ٹکٹ کی قیمتوں یہ اثر انداز ہو۔ آئی اے ٹی اے کے سربراہ اکبر البکر نے کہا کہ قیمتوں کا دباؤ سن 2023 یا اس سے آگے تک برقرار رہے گا۔ IATA کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز کو سن 2020 اور سن 2021 میں قریب 180 بلین ڈالر کا نقصان ہوا اور اس سال مزید 9.7 بلین ڈالر کے نقصان کا امکان ہے۔

اکبر البکر کی کمپنی نے اس سال 1.5 بلین ڈالر کا منافع کمایا۔ انہوں نے حکومتوں پر طنز کیا کہ وہ عوام کو فضائی سفر کے ماحولیاتی نقصانات کے بارے میں 'گمراہ‘ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی یورپی ممالک میں 500 کلومیٹر سے کم فاصلے تک کی پروازیں ختم کرنے جیسے اقدامات بھی لاگت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر نئے ماحول دوست ایندھن کی قیمت اور بھی زیادہ ہوتی ہے تو اس سے ٹکٹ پر دباؤ میں بھی اضافہ ہو گا۔


انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے کہا کہ ہانگ کانگ کا ہوا بازی کا شعبہ کووِڈ پابندیوں کی وجہ سے 'تباہ‘ ہو چکا ہے۔ یہ شہر اب فضائی سفر کا مرکز نہیں رہا اور یہ کہ کیتھے پیسیفک ایئر لائن اپنی سابقہ اہمیت کھو چکی ہے۔بہت سے چینی فٹ بال شائقین اس سال قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں چین کی 'زیرو کورونا وائرس پالیسی‘ کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔