تین سو برس بعد شاہ جہاں اور ممتاز کی قبروں کی صفائی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت آمد کے موقع پر تاج محل کی صفائی ستھرائی کا کام کیا گيا ۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور ان کی چہیتی ملکہ ممتاز محل کی قبروں کو بھی پہلی مرتبہ اس انداز میں صاف کیا گيا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دو روزہ دورے پرگجرات پہنچے وہاں سے آگرہ ، جہاں انہوں نے تاج محل دیکھا۔ ان کی آمد کے موقع پر تاج محل کے آس پاس مرمت اور صفائی ستھرائی کا کام کیا گيا ۔ اس موقع پر مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور ان کی چہیتی ملکہ ممتاز محل کی قبروں کو بھی ملتانی مٹّی سے صاف کیا گيا ہے۔ ان قبروں کی اس انداز سے صفائی پہلی بار کی گئی ہے۔

مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز محل تاج محل کے نیچے دفن ہیں، جن کی حقیقی قبریں آج بھی کچّی ہیں لیکن انہی قبروں کے عین اوپر نشاندہی کے لیے پھول و بوٹوں سے منقش ماربل کی دو خوبصورت قبریں تعمیر ہیں۔ عام زائرین کو انہی قبروں کی زیارت کی اجازت ہوتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ بھی انہی قبروں کو دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً تین سو برس قبل تعمیر ہونے والی ان قبروں کو ملتانی مٹی سے پہلی بار صاف کیا گيا ہے۔

تاج محل کو صاف کرنے کے لیے عام طور پر ملتانی مٹی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے ماربل پر مٹّی کی تہہ لگائی جاتی ہے اور پھر اسے صاف پانی سے دھویا جاتا ہے۔ اس سے صفائی کے ساتھ ساتھ اس میں چمک بھی پیدا ہوتی ہے۔ تاج محل کو اس طرح اب تک پانچ بار صاف کیا جا چکا ہے، لیکن شاہ جہاں اور ممتاز کی قبروں کو ابھی تک صاف نہیں کیا گيا تھا۔

امریکی صدر کے ساتھ ان کی بیٹی ایوانکا اور ان کے داماد جیرڈ کشنرنے بھی تاج محل کا دورہ کیا۔ عام طور پر تاج محل کا دورہ کرنے والی کسی بھی بڑی شخصیت کو شاہ جہاں اور ممتاز کی اصل قبروں کی زیارت کروائی جاتی ہے۔ لیکن اس کا داخلی دروازہ صرف پانچ فٹ ہی لمبا ہے یعنی اس سے زیاد قد و قامت والے شخص کو مزار تک پہنچنے کے لیے جھک کر گزرنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں جب امریکی صدر کی سکیورٹی ٹیم نے تاج محل کا دورہ کیا تو اس نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس میں داخلے کے لیے جھکنا پسند نہیں کریں گے اس لیے انہیں اصل قبروں کے اوپر زیر تعمیر ماربل کی قبریں دکھائی جائیں گی۔

شاہ جہاں کی موت کے دن عرس منایا جاتا ہے اور تبھی حقیقی قبروں کو سال میں صرف تین دن کے لیے کھولا جاتا ہے۔ بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں مقیم یعقوب حبیب الدین طوسی کا دعوی ہے کہ وہ مغل حکمرانوں کی نسل سے ہیں۔ انہوں نے عرس کے موقع پر شاہ جہاں کی قبر کی زیارت کی تصدیق کی ہے۔

تاج محل بھارتی آثار قدیمہ کے ماتحت ہے اور ٹرمپ کی آمد کی موقع پر محمکے نے تاج محل پر لگنے والے تمام دھبوں کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ قبر کے اوپر لگے فانوسوں کو بھی صاف کرنے کے لیے املی کے پانی سے دھویا گيا ہے۔

تاج محل آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے تعمیر ہے اور دریا کا بہتا ہوا پانی اس کے حسن و جمال کو نکھارنے کا کام کرتا ہے۔ لیکن کافی مدت سے دریا کا پانی جہاں بہت گندہ ہے وہیں کمی کے سبب ٹھہرا ہوا رہتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے چند روز قبل ہی تقریبا پونے دو کروڑ لیٹر تازہ پانی جمنا میں چھوڑا گیا ہے۔

آگرہ ایئر پورٹ پر امریکی صدر کا استقبال رقاصائیں کریں گی اور وہاں سے وہ سیدھے تاج محل جائیں گے۔ چوبیس فروری پیر کے روز ان کی آمد کی وجہ سے سیاحوں کے لیے تاج محل کو بند رکھا گيا ہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے زبردست انتظامات کیے گئے ہیں۔ اور صدر ٹرمپ کو بندروں سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑے لنگور بندروں کو تعینات کیا گيا ہے۔