تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری سے ذہنی تناؤ، نشہ خوری اور جرائم عروج پر

محمد آزاد معذور ہیں، بی ایڈ کر چکے ہیں اور تبھی سے ملازمت کی تلاش میں ہیں۔ جسمانی طور پر معذور محمد آزاد اب بہت ہی مایوس نظر آتے ہیں اور اس مایوسی و تناؤ کا اثر ان کے چہرے سے بھی نمایاں ہوتا ہے

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

آس محمد کیف

امت کمار نے 2013 میں بی ایڈ کیا تھا لیکن کہیں ملازمت نہیں پا سکے۔ آخر کار وہ صفائی کارکن بن گئے۔ ان کی تنخواہ محض 6 ہزار روپے ماہانہ ہے اور نالی صاف کرنا بھی ان کے کاموں میں شامل ہے۔ امت جب نوکری نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے تو انہوں نے اپنی بیوی کو بھی بی ایڈ کرا دیا لیکن نوکری انہیں بھی نہیں مل سکی۔

مکیش کمار تین مضامین سے ایم اے کر چکے ہیں لیکن نوکری انہیں بھی نہیں مل سکی۔ انہوں نے ڈھابے پر ویٹر کی نوکری کی لیکن وہاں کھانا پیش کرنے کے ساتھ مکیش سے برتن بھی صاف کرائے جانے لگے۔ مکیش نے نوکری چھوڑ دی اور اب میرانپور تھانہ کے باہر وہ لوگوں کی درخواست تحریر کرتے ہیں۔ درخواست لکھنے کے عوض لوگ انہیں 20 روپے محنتانہ دے دیتے ہیں۔

ایک اور نوجوان محمد آزاز معذور ہیں اور 2016 میں بی ایڈ کر چکے ہیں اور تبھی سے ملازمت کی تلاش میں ہیں۔ جسمانی طور پر معذور محمد اعزاز اب بہت ہی مایوس نظر آتے ہیں اور اس مایوسی تناؤ ان کے چہرے سے بھی نمایاں ہوتا ہے۔ محمد آزاد نے کہا، ’’میں نے 2017 میں بی ایڈ کیا تھا اور اب تک نوکری کی تلاش میں ہوں۔ سرکار کو کم از کم معذور کو تو نوکری دینی چاہئے۔ اتنے سال ہو گئے بی ایڈ کئے ہوئے میری حالت پر کسی کو ترس نہیں آتا۔‘‘

یہ تینوں نوجوان مظفرنگر ضلع کے رہائشی ہیں اور امت و مکیش دونوں دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ قصبہ میرانپور کا یہ علاقہ یوں تو سر سبز نظر آتا ہے لیکن یہاں کے نوجوانوں کی زندگی میں بہار کا کوئی نام نہیں ہے۔ امت، مکیش اور آزاد الگ الگ طبقہ سے آتے ہیں لیکن سبھی کا درد مشترکہ ہے اور بے روزگاری نے انہیں اندر تک توڑ دیا ہے۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری سے ذہنی تناؤ، نشہ خوری اور جرائم عروج پر

امت (36 سال) کہتے ہیں کہ انہوں نے 2013 میں بی ایڈ کیا تھا، اور تبھی سے وہ نوکری کی تلاش میں ہیں۔ والمیکی طبقہ سے تعلق رکھنے والے امت نے نجی اسکول میں بھی نوکری کے لئے کوشش کی لیکن وہاں بھی کامیابی نہیں مل سکی۔ امت اب صفائی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی ملازمت مستقل نہیں ہے اور المیہ یہ کہ ان کا انچارج محض آٹھویں جماعت پاس ہے۔ امت کے مطابق انہیں اپنے خاندان کی پرورش کرنی ہے اور اس کے علاوہ انہیں اور کچھ نظر نہیں آتا۔ فارغ وقت میں امت مزدور کی حیثیت سے کام پر بھی جاتا ہے۔

مکیش کمار جو میرانپور تھانہ کے باہر بیٹھ کر فریادیوں کی درخواست لکھتے ہیں وہ اب 38 سال کے ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک وقت تھا جب مجھے علاقہ کا ذہین طالب علم قرار دیا جاتا تھا۔ سب کو لگتا تھا کہ میں ضرور افسر بن جاؤں گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مجھے ڈھابہ پر برتن تک مانجنے پڑے۔ اب یہاں تھانہ کے باہر بیٹھ کر میں درخواست لکھتا ہوں۔ دن بھر میں 100 روپے کما لیتا ہوں۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری سے ذہنی تناؤ، نشہ خوری اور جرائم عروج پر

میرانپور کے نزدیک واقع ایک گاؤں سنبھل ہیڑا میں بھی اسی طرح کی اداسیوں کا بسیرا ہے اور نوجوانوں میں مایوسی ہے۔ بیشتر لوگ ملازمت کے لئے گاؤں سے باہر جاتے تھے لیکن جب سے یہاں کے ایک پھیری لگانے کو تریپورہ میں موب لنچنگ کر کے قتل کیا گیا، اس کے بعد سے نوجوانوں نے باہر جانا کم کر دیا۔

بی ایڈ کی ڈگری رکھنے والے بہت سارے نوجان بے روزگار گھوم رہے ہیں۔ گاؤں کے نوجوان خالد سمیر کہتے ہیں کہ اس گاؤں میں پچاس سے زیادہ گریجویٹ لڑکے بے روزگار ہیں۔ سابق بلاک پرمکھ انار سنگھ روی کے مطابق یہاں کے نوجوان ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ پہلے ہر روز کسی نہ کسی کی نوکری لگ جانے کی خبر آتی رہتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری سے ذہنی تناؤ، نشہ خوری اور جرائم عروج پر

گاؤں کے سابق پردھان اخلاق احمد بھی اس سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’تعلیم یافتہ بے روزگاری اپنی جگہ یہاں تو یومیہ مزدوروں کے بھی کھانے کے لالے ہیں۔ پانچ سال پہلے تک جہاں ان کو 300 روپے اجرت مل جاتی تھی، اب وہ 250 روپے میں بھی کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ گریجویٹ لڑکے مزدوری بھی نہیں کر پاتے اور 7-8 ہزار کی نوکری کر کے ہی اپنا کام چلا رہے ہیں۔‘‘

رمیش کا کہنا ہے کہ، ’’گاؤں کے کھیتوں میں لڑکے اکثر بھانگ کا نشہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور آپس میں جھگڑا بھی کرتے ہیں۔ آخر خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے اور یہ سب کچھ بے روزگاری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔‘‘

تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری سے ذہنی تناؤ، نشہ خوری اور جرائم عروج پر

اس گاؤں کی پردھان سلمیٰ راؤ کے شوہر عبد القادر کے مطابق گاؤں کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے، اگر پڑھے لکھے لڑکوں کو روزگار نہیں ملتا اور مزدوری کرتے انہیں شرم آتی ہے اور وہ مزدوری کر بھی نہیں پاتے۔ سماج میں بھی بے روزگار کی کوئی عزت نہیں ہوتی اور اپنا ہی خاندان انہیں بوجھ سمجھتا ہے۔ کچھ ناخواندہ لڑکے ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ لہذا بے تعلیم یافتہ روزگاروں کا ایک بڑا حصہ نشہ کی لت کا شکار ہو جاتا ہے اور کئی تو جرائم کی طرف بھی چلے جاتے ہیں۔