ہم نے گاندھی جی کو فراموش کر دیا، لیکن دنیا آج بھی ان سے حاصل کر رہی سبَق

22 ستمبر کو لندن میں ہوئے کار فری ڈے میں شریک الیکٹریشین جیسپر کارڈویل کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک ستیہ گرہ ہے جس میں لوگ دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ ایک دن گاڑیوں کے نہ چلنے سے آلودگی کتنی کم ہوتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

آشوتوش مشرا

ان دنوں دنیا میں کئی حصوں میں گاندھی جی کو نئے سرے سے یاد کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ یہ گاندھی جی کی 150ویں سالگرہ ہے۔ وجہ یہ بھی ہے کہ کئی ممالک میں کئی لوگ کئی اسباب سے مخالفت کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک ہندوستان میں تو گاندھی کو فراموش کر بیٹھے ہیں لیکن پوری دنیا انھیں اب زیادہ یاد کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی باشندہ نصرت فرزانہ لندن میں لوگوں کو گیس اور بجلی کی فراہمی کرنے والی ایک کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ ان دنوں سویڈن کی گریٹا تھنبرگ کی مہم کو لے کر وہ پرجوش ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گریٹا کی عظمت صرف اس بات میں نہیں ہے کہ وہ اس موضوع پر لوگوں کے درمیان بیداری پھیلا رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ بڑے بڑے ممالک کے اثردار سیاستدانوں کو کلائمیٹ چینج یعنی ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ بھی نہ کرنے پر پھٹکار رہی ہیں۔ فرزانہ اسی سلسلے میں کہتی ہیں کہ ایسی ہر مہم خطروں سے بھری ہوتی ہے لیکن گریٹا کو امن اور تشدد کے گاندھی وادی اصولوں پر پورا یقین ہے۔

فرزانہ اسی رو میں کہتی ہیں کہ جدید دنیا نے مہاتما گاندھی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسے بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ مغربی ایشیا کے کچھ ممالک میں گزشتہ ایک دہائی میں جو پرامن انقلاب ہوئے، ان کی سب سے بڑی حصولیابی یہ تھی کہ اس نے لوگوں کو اپنی لڑائی اپنے آپ لڑنا سکھا دیا۔ لوگوں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی مدد کے بغیر گاندھی جی کے عدم تشدد کو اپنا اسلحہ بنا کر لڑائیاں جیت سکتے ہیں۔ ایسی تحریکوں نے لوگوں کو مہاتما کے ستیہ گرہ کا صحیح معنی بتا دیا ہے۔

فرزانہ کے ساتھ ہی رابرٹ کیمپبل کام کرتے ہیں۔ ان کی پیدائش لندن میں ہی ہوئی ہے۔ پھر بھی ان کی گاندھی میں کافی دلچسپی ہے۔ رابرٹ کہتے ہیں کہ 2009 سے 2012 کے درمیان مصر، ایران اور تیونیشیا جیسے ممالک میں وہاں کے تاناشاہ حکمرانوں کے خلاف جو تحریک ہوئے، ان میں گاندھی کا فلسفہ صاف جھلکتا تھا۔ ایران اور مصر میں عدم تشدد کی راہ پر چلنے والے انقلابیوں نے وہاں کے حکمراں محمود احمدی نژاد اور حسنی مبارک کی مضبوط حکومت اور ان کے ذریعہ خود کو اقتدار میں بنائے رکھنے کے لیے تیار کیے گئے اداروں کے خلاف تحریک چلائی۔

لندن میں بجلی مستری یعنی الیکٹریشین کے طور پر کام کرنے والے جیسپر کارڈویل کا ماننا ہے کہ دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی جیسے برے اثرات سے لڑنے کے لیے جتنی ضرورت گریٹا جیسے لوگوں کی ہے، اتنی ہی گاندھی وادی اصولوں کی۔ کارڈویل نے ابھی 22 ستمبر کو لندن میں ہوئے کار فری ڈے میں حصہ لیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کار فری ڈے جیسے پروگرام ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف لڑائی کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ گاندھی وادی طریقہ بھی ہے جس میں لوگ پرامن طریقے سے دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ ایک دن گاڑیوں کے نہ چلنے سے کتنی آلودگی کم ہوتی ہے اور اس کا ہماری آب و ہوا پر کتنا مثبت اثر پڑتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کا ستیہ گرہ ہے۔ کارڈویل کو گاندھی اور ان کے نظریات کے بارے میں سب سے پہلے اپنے اسکول کے دنوں میں جانکاری ملی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ آج لوگ اپنے ہر مسئلہ کا حل تشدد سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ سچ یہ ہے کہ تشدد سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔

لندن کے ایک ہوٹل میں رسپشنسٹ ایلس اور ان کی دوست مریننے کہتی ہیں کہ آج لوگوں کے لیے یہ سوچنا بہت ضروری ہے کہ ان کی زندگی اتنی ہنگامہ خیز کیوں ہے۔ دراصل اگر ہماری خواہش اور امیدیں پوری نہیں ہوتی ہیں تو ہم غمزدہ اور مشتعل ہو جاتے ہیں۔ گاندھی جی سادہ زندگی گزارنے والے آدمی تھے اسی لیے انھیں کسی چیز کا لالچ نہیں تھا۔ گاندھی جی کے بارے میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے تقریر کرنے سے پہلے خود اس راستے پر چل کر دکھایا جس پر وہ دوسروں کو چلانا چاہتے تھے۔

انگلینڈ کی راجدھانی میں رہ رہے افریقی نژاد لوگوں میں بھی گاندھی جی کی زندگی اور ان کے فلسفے میں کافی دلچسپی ہے۔ حالانکہ ان میں سے زیادہ تر ان کا موازنہ نیلسن منڈیلا سے کرتے ہیں۔ یہاں ایک شاپنگ مال میں میری ملاقات تقریباً 30 سال کے نائیجیریائی نوجوان اڈیبیا سے ہوئی۔ انھوں نے گاندھی جی کے بارے میں باتیں کرنے میں کافی جوش کا مظاہرہ کیا، لیکن وہ ہر بات میں ان کا موازنہ منڈیلا سے کرتے رہے۔ کچھ اس طرح بھی جیسے گاندھی اور منڈیلا ہم عصر رہے ہوں۔ اڈیبیا کے مطابق گاندھی اور منڈیلا دونوں زندگی بھر انسان کی برابری کی لڑائی لڑتے رہے اور اسی کے لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی گزار دی۔ دونوں کو یقین تھا کہ ہر انسان برابر ہے اور انھیں برابر حق اور مواقع ملنے چاہئیں۔ چمڑے کا رنگ الگ ہونے سے کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ گاندھی یہی لڑائی لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور منڈیلا نے بھی اسی کے لیے پوری زندگی گزار دی۔

یہاں مقیم ایشیائی نژاد کے لوگوں، خصوصاً ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں گاندھی جی کے لیے کافی عزت ہے۔ پاکستان کے پیشاور سے آ کر یہاں تجارت کرنے والے حامد شہزاد کے مطابق گاندھی جی کا بڑاپن ان کی سادگی تھی۔ ان کی سادگی اور اپنے کام کے تئیں ان کی ایمانداری سیکھنے کی چیزیں ہیں۔ اگر وہ اپنے کام کے تئیں پوری طرح ایماندار نہ ہوتے تو کبھی بھی اتنے کامیاب نہیں ہوتے۔ ہم نے ہمیشہ ان کا نام قاعد اعظم جناح کے ساتھ لیے جاتے ہوئے سنا ہے۔ ان سے سب سے بڑی چیز سیکھنے لائق یہ ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے مسئلہ کا حل بغیر جنگ کے نکالا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کے باشندہ سہیل احمد لندن کے ایک اسکول میں ریاضی پڑھاتے ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کے بارے میں کافی کچھ پڑھا اور سنا ہے۔ سہیل کا کہنا ہے کہ گاندھی جی صرف ہندوستان کی تحریک آزادی کے عظیم ہیرو نہیں تھے بلکہ وہ عالمی سطح کی ایک ایسی شخصیت تھے جنھوں نے ہمیں ناانصافی، نابرابری اور ذات پات کے خلاف لڑنا سکھایا۔ احمد کہتے ہیں کہ تمام مصیبتیں برداشت کرنے کے بعد بھی وہ کبھی اپنے راستے سے نہیں ہٹے۔ ہمارے لیے ان کی یہ خود سپردگی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ان کا عدم تشدد اور ستیہ گرہ کا فلسفہ۔

گجرات کے احمد آباد شہر کے باشندہ نتن پٹیل لندن میں چھوٹی موٹی تجارت کرتے ہیں، لیکن گاندھی جی سے کافی متاثر ہیں۔ یہاں ایک شاپنگ مال میں گھڑی کی دکان کرنے والے پٹیل کہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی میں یہاں کے لوگ کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ گاندھی جی کے عدم تشدد کی پالیسی آج بھی ہمارے لیے اہم ہے کیونکہ ہر بات کا حل تشدد سے نہیں تلاش کیا جا سکتا۔ ہمیں ابھی مہاتما کے فلسفہ سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔

Published: 8 Oct 2019, 5:08 PM