حمل میں ہی بچّوں کو ’مہذب‘ بنائے گا آر ایس ایس، ملک بھر میں کھلیں گے ’مہذب حمل مرکز‘

اگر آپ کو تہذیب والا اور عقلمند بچہ چاہیے تو آپ کو حمل ٹھہرنے سے پہلے ہی آر ایس ایس کے ذریعہ قائم ’مہذب حمل مرکز‘ جانا ہوگا جہاں آپ کے لیے پورے 9 مہینے کا کورس طے کیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

بشواجیت بنرجی

آر ایس ایس نے ایک بار پھر ’سنسکار‘ یعنی تہذیب کا سبق پڑھانا شروع کر دیا ہے۔ آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ہونے والا بچہ مہذب اور عقلمند ہو تو اس کے لیے ’تہذیب حمل‘ کا عمل اختیار کرنا ہوگا، وہ بھی خاتون کے حاملہ ہونے سے پہلے۔

اس سلسلے میں آر ایس ایس کے اتر پردیش دفتر کی طرف سے ایک ویڈیو لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں پرچارک اور سنچالک دو لڑکیوں کا ویڈیو دکھاتے ہیں۔ ان میں سے ایک 8 سالہ راشی ہے جب کہ دوسری لڑکی 4 سالہ کریا ہے۔ یہ دونوں لڑکیاں سنسکرت کے شلوک اور منتروں کا وِرد کرتی ہیں۔ بچیوں کی ماں بتاتی ہیں کہ ان کی دونوں بچیاں سنسکاری یعنی مہذب ہیں کیونکہ انھوں نے اور ان کے شوہر نے ’گربھ سنسکار پرکریا‘ یعنی مہذب حمل کا عمل اختیار کیا۔

آر ایس ایس کے ایک لیڈر مہیش شرما اس سلسلے میں بتاتے ہیں کہ ’’آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نئی نسل کتنی غیر مہذب ہے۔ وہاٹس اپ پر آنے والے ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا یوتھ ہندوستان، تاریخ اور تہذیب سے کتنا بے خبر ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں اچھی تہذیب نہیں ڈالی گئی۔ اب آر ایس ایس نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ بچوں میں اچھی تہذیب کی بنیاد ڈالی جائے۔‘‘

مہیش شرما کہتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں نیا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تو سائنس ہے جو ویدک دور سے ہندوستان میں ہے۔ ہندو صحائف میں بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی جہاں مائیں اپنی خواہش کے مطابق بچے حاصل کرتی ہیں اور اس کے لیے وہ سنتوں کے علم کا سہارا لیتی ہیں۔

آر ایس ایس کارکن ونود بھارتی اور ڈاکٹر نیرج سنگھل، جو ایک آیورویداچاریہ ہیں، انھوں نے ویدانت گربھ وگیان اور سنسکار کیندر کا میرٹھ میں قیام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے اتر پردیش میں یہ اپنی طرح کا پہلا ادارہ ہے جس کے سنٹر کے باہر لکھا ہے کہ ’بے بی بائے چوائس، ناٹ بائے چانس‘ یعنی خواہش سے اولاد کا حصول، اتفاق سے نہیں۔

ان دونوں آر ایس ایس لیڈروں نے گجرات واقع ’ایمبریولوجی ریسرچ سنٹر‘ سے تربیت حاصل کی ہے۔ آیوروید پر مبنی ان مراکز میں شادی شدہ جوڑوں کو بالکل ’پرفیکٹ‘ حمل کی گارنٹی دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس طرح کے کورس میں جنس پر مبنی بیماریوں یا خامیوں کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ جنسی خامیاں یا بیماریاں وہ ہوتی ہیں جو نسل در نسل کسی خاندان میں چلتی ہیں۔

ڈاکٹر نیرج سنگھل اس تعلق سے بتاتے ہیں کہ شادی شدہ جوڑوں کو حمل ٹھہرنے سے پہلے اور حمل ٹھہرنے کے بعد کئی قسم کے ’گربھ سنسکار‘ (حمل تہذیب) پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ان سنسکاروں میں کچھ عمل ایسے ہوتے ہیں جن میں خاص قسم کی غذا اور کچھ یوگا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سنگھل کہتے ہیں کہ ’’اس سنسکار کے طریقہ کا سب سے اہم مرحلہ وہ خاص ’ہَون‘ ہوتا ہے جو 9 مہینے کے حمل کے دوران تین بار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماں کو خاص قسم کی غذا کھانے کو دی جاتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر سنگھل اس کے علاوہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’اگلے مرحلے میں حاملہ خاتون کو مختلف طرح کے یوگا تکنیک کی تربیت دی جاتی ہے، اور یہ ان کی خواہش کے مطابق طے حمل کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ضابطہ کے مطابق ہنومان چالیسا اور درگا چالیسا کا وِرد کرنے کے ساتھ ہی شیواجی اور مہارانہ پرتاپ جیسے بہادروں کی کہانیاں سنتی ہیں۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل سے کم از کم دو درجن جوڑوں کو فائدہ ہوا ہے۔

لکھنؤ واقع آر ایم ایل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے آیورویداچاریہ ڈاکٹر ایس کے پانڈے بتاتے ہیں کہ یہ تو تاریخ میں درج ہے کہ اچھی غذا اور وقت مقررہ پر ورزش سے لوگوں کے نظریے بدل سکتے ہیں۔ اس سے جسم شفاف ہو جاتا ہے اور یہ سب ایک اچھی روح کو حمل میں آنے میں مدد کرتا ہے۔

Published: 30 Sep 2019, 11:10 PM