آفت زدہ پہاڑ میں تباہی کی برسات

1973 میں جب رینی، رام پور پھاٹا اوربھونس کے جنگلوں مین درختوں کی شامت آئی تو 200 درخت کٹنے پر گورا دیوی کی چپکو تحریک شروع ہو گئی تھی لیکن آل ویدر روڈ کے لیے 40 ہزار درختوں کی قربانی دی جا رہی ہے۔

برست کا موسم ہے اور ان دو ڈھائی مہینوں میں اتراکھنڈ کے پہاڑوں میں تباہی برستی ہے جس سے یہ ریاست آفت نشان بن جاتی ہے۔ ہر سال آفت زدہ اور کھنڈر گاؤوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ سفر کے لیے یہاں آنے والے لوگ ہی نہیں یہاں کے اصل باشندہ بھی ان دنوں پہاڑ چڑھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ کچے پیدل چلنے والے راستے بھی ٹوٹ جانے سے مریضوں کو اسپتال تک لے جانا مشکل ہے۔ کوئی خاتون کئی میل چل کر اسپتال کے راستے میں بچے کو جنم دے رہی ہے تو کئی زخمی اور بیمار وہاں تک جانے کے لیے سانسیں نہیں بچا پا رہے ہیں۔ خطرے کی زد میں آنے کے بعد لوگ گھر گاؤں چھوڑ کر راحت کیمپوں میں رہ رہے ہیں تو کئی ہزار کی آبادی سڑکیں ٹوٹ جانے سے اپنے علاقے میں بندھی سی ہے۔ کل ملا کر کبھی جس پہاڑ کی ہریالی برسات میں دیکھتے ہی بنتی تھی اب برسات میں یہاں تباہی کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

دہرہ دون کے میدان میں موجود اتراکھنڈ حکومت چَین سے ہے کہ اس بار ریاست میں برسات سے ہونے والے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 2 مہینے میں 50 بھی نہیں پہنچی (سڑک حادثے اس میں شامل نہیں)۔ چار دھام کے مسافروں کی تعداد بھی 14 لاکھ سے اوپر ہو چکی ہے جب کہ گزشتہ سال پورے سیزن میں 15 لاکھ ہی لوگ آئے تھے۔ اب جون-جولائی کی بارش ہے تو بادل بھی پھٹیں گے اور زمین بھی دھنسے گی ہی۔ 2013 کے کیدار ناتھ حادثے کے بعد چار دھام سفر کا ٹرینڈ بدل گیا۔ زیادہ تر لوگ 14-13 جون تک یہاں سے لوٹ جا رہے ہیں۔ گزشتہ تیس دن میں 32 ہزار سے بھی کم مسافر بدری-کیدار گئے۔ سروبگڑ، لامبگڑ کے علاوہ بھی درجنوں ایسے مقامات ہیں جہاں آج ملبہ صاف کرو اور کل پھر سڑک بند ہو جاتی ہے۔ کبھی تھرنگ تو کبھی ڈابرکوٹ میں سڑک دھنس جا رہی ہے۔ جس طرح سے گڈگری جی کی آل بیدر روڈ بن رہی ہے اس حساب سے کئی اور ایسے پوائنٹ تیار ہو رہے ہیں۔

سڑک سے 22 کلو میٹر دور پتھورا گڑھ کے سرحدی کٹی گاؤں کا پل، پھولوں کی وادی کا زیر تعمیر 22 کروڑ کا 130 میٹر طویل پل ہی نہیں دہرہ دون کے ٹپکیشور مندر میں بھی ایک پل بہہ گیا۔ اس سال سول حلقہ کے 16 گاؤں بھی تباہی زدہ علاقے میں آ گئے۔ گاؤں کے گاؤں خالی ہو رہے ہیں۔ 2011 کی مردم شماری میں یہاں 1053 بھوتیا گاؤں (جہاں اب انسان نہیں رہتے) تھے۔ اب ان کی تعداد 16793 ہو چکی ہے۔ آفت زدہ گاؤوں کا سرکاری اعداد و شمار کچھ سو میں ہی ہوگا لیکن 2013 کے بعد ان کی تعداد بازآبادکاری کام کے بعد بھی تین ہزار سے تو اوپر ہوگی ہی۔ 2011 میں حکومت نے پہلے 395 ایسے گاؤں چنے تھے بعد میں 250 کے بازآبادکاری کا فیصلہ لیا گیا۔ کیدارناتھ حادثے کے وقت ہی 4200 کے قریب گاؤں تباہ ہوئے تھے۔ پرانی فہرست میں گاؤوں کے سینکڑوں خاندانوں میں سے 188 کی ہی باز آبادکاری ہو پائی ہے۔ 2013 میں متاثر چکراتا کے موساسا گاؤں میں تو اب تک گھروں میں ملبہ بھرا پڑا ہے۔

کیسے جیتے ہیں، کیسے مرتے ہیں؟

پہاڑ کے لوگ برسات میں کس طرح جیتے ہیں اس کے لیے کچھ خبریں جو حال میں شائع ہوئی ہیں اس پر نظر ڈالیں...

باگیشور کے کنواری گاؤں میں دردِ زہ ہونے پر گاؤں کے لوگ لکڑی کا اسٹریچر بنا کر 26 سال کی امیتا کو پہلے دن 12 کلو میٹر دور دوسرے گاؤں اس کی بوا کے گھر لائے۔ اگلے دن پانچ کلو میٹر مزید چل کر اسے دوسرے ضلع میں تھرالی اسپتال لایا گیا۔ دو دن دردِ زہ میں رہی امیتا خوش نصیب ہے کہ بخیر و عافیت اپنے گاؤں لوٹ گئی ہے۔

جوشی مٹھ کے ٹھیک سامنے ہے تھینگ گاؤں۔ اسپتال یہاں سے 13 کلو میٹر دور ہے۔ ملبہ آنے سے راستہ کئی جگہ سے بند ہو گیا ہے۔ ایک پل تھا وہ بھی گیا۔ یہاں کے لوگ جس طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مریض کو اسپتال تک لائے اس کا ویڈیو رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ دیو گرام کی خاتون کو گاؤں والے کسی طرح جوشی مٹھ لا رہے تھے۔ راستے میں ہی بچے کی پیدائش ہو گئی۔ سڑک پر پیدائش کے واقعات یہاں عام ہیں اور وہ بھی تباہی والی برسات میں۔

پتھورا گڑھ کی گھارچولا تحصیل تاجم گاؤں میں ایک شخص بیمار پڑتا ہے۔ ڈیڑھ مہینے سے یہاں کا پیدل راستہ بھی کئی جگہ سےٹوٹ گیا ہے۔ کہیں پر ڈولی میں بیٹھ کر تو کہیں پر کندھے پر لاد کر کسی طرح مریض کو سات کلو میٹر دور اسپتال تک لایا گیا۔

پہاڑ کی اس پہاڑ جیسی زندگی کی ایسی تصویریں آج کل مقامی اخبارات اور سوشل میڈیا پر خوب نظر آتی ہیں۔ یوں اتراکھنڈ میں آفت کے لیے ہیلی کاپٹر خدمات سمیت کئی سرکاری انتظامات ہیں لیکن ہیلی کاپٹر بھی تبھی اڑتا ہے جب کوئی بڑا آدمی ہو یا بڑا حادثہ ہو۔ معروف گلوکارہ کبوتری دیوی کو سنگین حالات میں پتھورا گڑھ سے نینی سینی ہیلی پیڈ تک لایا تو گیا لیکن تین گھنٹے تک ہیلی کاپٹر نہیں اڑا اور انھیں واپس پتھورا گڑھ لے جا کر مردہ قرار دے دیا گیا۔

آل ویدر روڈ...

مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ کو آل ویدر روڈ کا تحفہ دیا ہے۔ چار دھام یاترا کو آسان بنانے کی اس مہم کا خاکہ جب ظاہر ہوا تو صحافی سشیل بہوگنا نے جغرافیہ داں اور سائنسداں کی رائے کے ساتھ ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اس سڑک کو بنانے میں کتنی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ کچے پہاڑوں کو بے دردی سے چھیلنی کرنے کا مطلب بڑی آفت کو دعوت دینے جیسا ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ بھی ایک بار اس سڑک کے بارے میں ’آ...چھیں‘ کہہ کر خاموش ہو گئے۔ ان کے اعتراض پر انھیں دہلی سے زکام ختم کرنے کی دوا دے دی گئی۔ حال ہی میں رودر پریاگ کے ضلع مجسٹریٹ منگیش کمار ایک پیچ پر تعمیری کام کا جائزہ لینے پہنچے تو یہاں کام کر رہی کمپنی آر جے بی کے لوگ انھیں اپنا پیمانہ تک نہیں بتا پائے۔ این ایچ کے افسران جو کچھ ہو رہا ہے اس کی طرف سے منھ پھیرے کھڑے ہوئے ہیں۔ غلط کٹائی پر ضلع مجسٹریٹ تو ڈانٹ ڈپٹ کر چلے آئے لیکن ہر جگہ کام ایسے ہی ہو رہا ہے۔ دیو پریاگ، تین دھارا سمیت متعدد مقامات پر زمین دھنسنے والے نئے زون تیار ہو رہے ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ آل ویدر روڈ تو بن رہی ہے لیکن پرانی سڑک کے گڈھے بھرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ دھماکوٹ میں حال ہی میں بس کھائی میں گرنے سے 48 لوگوں کی موت ہو گئی۔ گزشتہ 18 سال میں پہاڑوں میں اس طرح کے حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد 15821 تک پہنچ گئی ہے۔

اور یہ درخت...

درخت اور پودے اپنی جڑوں سے پہاڑ کو پکڑ کر دھنسنے سے روکتے ہیں۔ یہاں کے لوگ درختوں کی اہمیت جانتے ہیں۔ 1973 میں جب رینی، رام پور پھاٹا اور بھونس کے جنگلوں میں درختوں کی شامت آئی تو 200 درخت کٹنے پر گورا دیوی کی چپکو تحریک شروع ہو گئی تھی۔ اِدھر آل ویدر روڈ کے لیے 40 ہزار درختوں کو قربان کیا جا رہا ہے اور تمام ’وکاس پُرش‘ تالی بجا رہے ہیں۔

تباہی کے منظر...

پہاڑ کا حال جاننا ہے تو کسی بھی سرحدی ضلع پر ایک سرسری نظر ڈال لیجیے۔ 20 جولائی کو نیتی وادی میں آفت کی بارش ہوئی جس میں چار زندگیاں چلی گئیں۔ چمولی کے گھاٹ علاقہ میں موکھ ملّا، کنڈی جھلیا، ڈھاڈھربگڑ وغیرہ گاؤں میں تقریباً 50 سے زیادہ گھر ملبے میں دبے ہیں۔ بگڑ میں دس دکانیں اور 6 گاڑیاں بہہ گئیں۔ ضلع کے 9 بڑے پل اور 22 پلیا برباد ہو چکی ہیں۔ 2013 میں بہے 7 پل ابھی تک نہیں بنے۔ بانجھ گڑ اور وان کے لوگوں نے و ہاں خود ہی اپنے لیے کام چلاؤ پل بنا لیے ہیں۔ ملاری روڈ پر فوج اور آئی ٹی بی پی کی گاڑیوں کے لیے سڑک نہیں ہے۔

کماؤں ڈویژن میں 15 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، کئی زخمی ہیں۔ 2 جولائی کو پتھورا گڑھ کے دھارچولا، منسیاری میں تباہی ہوئی، موتی گھاٹ آبی بجلی پروجیکٹ کا نام و نشان نہیں رہا۔ درجنوں جانور مارے گئے اورکئی گاؤں کا رابطہ کٹا ہے۔ منسیاری کے 22 اور دھارچولا کے 17 گاؤں خطرے کی زد میں ہیں۔ 324 لوگ 18 راحتی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ کپکوٹ میں چھ سڑکیں بند ہیں، 30 ہزار لوگ کہیں نہیں جا پا رہے ہیں۔ اتر کاشی کے موری حلقہ میں تباہی ہوئی ہے۔ 10 لوگوں کی موت تو دہرہ دون میں ہی ہو چکی ہے۔

ملن بستی بنام تباہ حال گاؤں...

ہائی کورٹ کے حکم پر آج کل دہرہ دون میں تجاوزات کو ہٹانے کا کام چل رہا ہے۔ ایک بڑے تعلیمی ادارہ کی اربوں کی زمین پر غیر قانونی قبضہ ایک بار نشان زد کرنے کے بعد لال نشان ہٹا دیے گئے اور اس پر میڈیا نے بھی نظر پھیر لی۔ لیکن ندی نالوں کے کنارے بسی ووٹ بینک والی بستیوں کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے ناطے کھل کر میدان میں آ گئے۔ وزیر اعلیٰ نے بھی فوری اعلان کر دیا کہ پہلے انھیں بسائیں گے پھر ہٹائیں گے۔ ایک صحافی نے چٹکی لے لی کہ دہرہ دون کے چار ممبر اسمبلی پہاڑ کے 35 ممبران اسمبلی پر بھاری پڑ گئے۔ پہاڑ کے سینکڑوں تباہ حال گاؤں کی بازآبادکاری پر سب خاموش ہیں۔ اس پہاڑ کے کچھ ممبران اسمبلی نے بھی بیان دے دیا کہ وزیر اعلیٰ کا جواب ہے کہ اس کے لیے پہلے لینڈ بینک بنایا جائے گا پھر بسانے کا منصوبہ بنے گا۔ جب 2011 سے کچھ نہیں ہو پایا تو کب ہوگا۔ ہر سال نئے آفاتی علاقے سامنے آ رہے ہیں، کس کس کو اور کہاں بسائیں گے۔ اور ہاں، ابھی تو پنچیشور باندھ کی زد میں آنے والے 42 گاؤں بھی ہیں، انھیں بھی تو بسانا ہے۔ سچ یہ ہے کہ یہ سب ٹھنڈے بستے کے ایشوز ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول