روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر یو این رپورٹ، اقلیتوں کے دشمنوں کیلئے نشان عبرت!

انسانی حقوق کونسل مشن نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ جس طرح 7 لاکھ روہنگیا اقلیتوں کو بھاگ کر ہندوستان اور بنگلہ دیش میں پناہ لینی پڑی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب نسلی تطہیر کا ایک نمونہ ہے۔

میانمارمیں روہنگیا اقلیتوں کے خلاف جو کچھ ہوا، اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اسے مذہبی یا نسلی تشدد کی جگہ نسل کشی قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں واضح طورپرسفارش کی ہے کہ میانمار فوج کے موجودہ سربراہ من آنگ ہیانگ اور دوسرے پانچ جنرلوں کے خلاف اس گھناؤنے قتل عام کے لئے عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ اس قتل عام کی وجہ سے تقریباً 7 لاکھ روہنگیائی مسلمان ’میانمار سے فرار ہوکر‘ ہندوستان سمیت دوسرے کئی ممالک میں پناہ گزیں ہوچکے ہیں۔

میانمارمیں ہوئے اس قتل عام کی تحقیق وتفتیش کے لئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے باقاعدہ ایک ’’کمیشن‘‘ کی تشکیل کی تھی جس نے تفتیش کے دوران واضح طورپر دیکھا کہ یہاں کس طرح انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیاں کرکے حکومتی سطح پر روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل مشن کے لفظوں میں۔ ’’بلاشبہ عالمی قوانین کے ہوتے ہوئے سنگین نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور جرائم کا یہ ارتکاب نہ صرف وہاں کی فوج نے کیا ہے بلکہ دوسری سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس میں برابر کی شریک رہی ہیں۔‘‘ انسانی حقوق کونسل مشن نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ جس طرح 7لاکھ روہنگیا اقلیتوں کو بھاگ کر ہندوستان اور بنگلہ دیش میں پناہ لینی پڑی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب نسلی تطہیر کا ایک نمونہ ہے۔

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی اس رپورٹ میں اس بات کے لئے آن سانگ سوچی کی بھی شدید تنقید کی ہے کہ انہوں نے اس قتل عام کو روکنے کی کوئی مثبت کوشش نہیں کی۔ جہاں تک سوچی کا تعلق ہے انہیں جمہوریت کا علمبردار بھی کہا جاتا ہے اور میانمار میں جمہوریت کے قیام کے لئے انہوں نے جو کوششیں کیں، اس کے لئے پوری دنیا میں انہیں نہ صرف احترام کی نظر سے دیکھا گیا بلکہ ان کوششوں کے لئے انہیں نوبل کا امن انعام بھی مل چکا ہے۔ اگرچہ میانمار میں روہنگیائی باشندوں پر فوجی حکومت کے دور میں بھی تشدد ہوتا رہا، یہاں تک کہ اسی دوران ان کی شہریت بھی چھین لی گئی لیکن ان کی نسلی کشی کا خطرناک سلسلہ سوچی کی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوا یعنی تب جب میانمار میں ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی جس کی سربراہی سوچی کررہی ہیں۔

رپورٹ میں سوچی کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ حکومت کی سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے اس طرح کے افسوسناک واقعات کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی، یہاں تک کہ روہنگیائی باشندوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے والوں میں سول انتظامیہ کے لوگ بھی شامل رہے۔ اس نسل کشی اور جنگی جرائم کے لئے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے میانمار کے فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ (Min Aung Hlaing) کے ساتھ جن پانچ دیگر لوگوں کو براہ راست قصوروار ٹھہرایا ان میں ڈپٹی کمانڈر ان چیف وائس سینئر جنرل سوون (Soe Win) بیورو آف اسپیشل آپریشن۔3کمانڈر لیفٹننٹ جنرل آنگ کیاژا (Aung Kyan Zaw) ریجنل ملٹری کمانڈر چیف میجر جنرل مانگ مانگ سو (Maung Maung Soe)۔33ویں لائٹ انفینٹری ڈیویژن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل آنگ آنگ (Aung Aung) اور 99 ویں لائٹ انفینٹری ڈیویژن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل تھان او (Than-Oo) شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا، میانمار کی پوری فوج روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی میں ملوث رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ میں اس کے لئے کلی طورپر میانمار فوج کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ بلا امتیاز قتل، خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری، بچوں پر کئے گئے تشدد اور آبادیوں کو جلا کر راکھ کر دینے کو فوجی جواز کا نام دے کر قتل عام کوکسی طوردرست ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔

رپورٹ کے مطابق فوج کی ان حرکتوں سے وہاں انسانی زندگی سالمیت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ عالمی قوانین کی افادیت اور اس کے جواز کو بھی ٹھوکروں پر رکھا گیا اور یہ عمل وہاں کی پوری آبادی کے لئے باعث تشویش بات ہے۔

اقوام متحدہ تحقیقاتی مشن کے سربراہ مرزوقی داروسمان نے جنیوا میں اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان کے تحقیق کاروں نے متاثرین اور گواہوں کے 875 انٹرویوز لئے، سیٹلائٹ سے تصاویر لی گئیں اور مصدقہ تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر کافی بنیادی معلومات جمع کیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی داستان اب تک کا سب سے اندوہناک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سانحہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روہنگیائی مسلمان اپنی پیدائش سے موت تک منظم طریقہ سے سخت ترین مظالم کا سامنا کررہے ہیں۔

یہ رپورٹ بعض ایسے گھناؤنے حقائق بھی سامنے لائی ہے جو اس سے پہلے کبھی ’عالمی میڈیا‘ میں نہیں آئے۔ رپورٹ کے مطابق 2017 میاںمار فوج کی بربریت کے نتیجہ میں تقریباً 7لاکھ روہنگیا اپنی جان بچاکر اور اپنا مال واسباب چھوڑ کر ہندوستان اور بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جو اب کیمپوں میں عبرت انگیز زندگی گزار رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اگست میں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی کئی جوان اور نوعمر روہنگیا لڑکیوں کو ناپسندیدہ حمل کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

اس تحقیقاتی مشن نے متعدد اہم سفارشات بھی کی ہیں۔ مثال کے طورپر اس نے کہا ہے کہ میانمار میں جو کچھ ہوا اس کے لئے سلامتی کونسل عالمی قوانین کی روشنی میں جواب دہی کو یقینی بنائے اور بہتر یہ ہوگا کہ اس معاملے کو وہ یا تو ایک ایڈہاک انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل تشکیل دے کر اس کے حوالہ کردے یا پھر اسے عالمی عدالت کے سپرد کردے تاکہ خاطیوں کو ان کے کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔ یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ پناہ گزینوں کی واپسی سے پہلے ان کے تحفظ اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے کی کوشش کرے اور ان کی شہریت کی بحالی کے لئے بھی اقدامات کرے۔ تحقیقاتی مشن نے واضح طورپر کہاہے کہ سردست جو حالات وہاں ہیں اس میں پناہ گزینوں کی واپسی ممکن نہیں ہوسکتی۔

اس رپورٹ نے عالمی سطح پر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، امریکہ نے بھی اس رپورٹ کی صداقت پر یہ کہہ کر اپنی مہر لگادی ہے کہ میانمار میں روہنگیائی باشندوں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیاگیا ہے، وہیں فیس بک نے وہاں کے فوجی سربراہ سمیت دیگر فوجی حکام کے اکاؤنٹ بند کردیئے ہیں، ایسا اس نے میانمار میں نفرت انگیز تقریر اور غلط معلومات پھیلانے سے روکنے کے لئے کیا ہے۔

فیس بک نے گزشتہ 28اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج ہم میانمار فوج سے تعلق رکھنے والے 18اکاؤنٹس، 52 پیجز اور ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ کو غیر فعال کررہے ہیں۔ ان اکاؤنٹس اور پیجز کو ایک کروڑ 20لاکھ افراد فالو کررہے تھے۔ درحقیقت میانمار میں وہاں کی حکومت کی شہ اور معاونت سے فوج نے جس غیر انسانی افعال کا ارتکاب کیا اس کے نتیجہ میں ایک انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ جیساکہ اوپر آچکا ہے اور تحقیقاتی مشن نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تقریباً 7لاکھ لوگوں کو وہاں سے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی۔ ایک بڑی تعداد جہاں بنگلہ دیش میں مقیم ہے وہیں ہزاروں کی تعداد میں وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں۔ ان کا گزربسر غیر سرکاری تنظیموں اور ملی اداروں کی مالی اعانت پر ہورہا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ نے انہیں اب تک پناہ گزیں تسلیم نہیں کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو ملنے والی مراعات سے بھی محروم ہیں۔

امید کی جانی چاہئے کہ اس رپورٹ کے بعد منظر نامہ تبدیل ہوگا اور عالمی سطح پر روہنگیائی پناہ گزینوں کے تعلق سے لوگوں کے رویہ میں تبدیلی آئے گی۔ میانمار حکومت پر بھی اب عالمی دباؤ بڑھ جائے گا۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کی یہ رپورٹ اس سچائی کو بھی اجاگر کردیتی ہے کہ اگر کوئی ملک اس خوش فہمی میں ہے کہ وہ اپنے یہاں آباد مذہبی اقلیتوں کو محکوم بناکر رکھ سکتا ہے اور اس کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرے کوئی اس سے باز پرس نہیں کرسکتا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ یہ رپورٹ صاف صاف بتاتی ہے کہ آپ حقائق کو زیادہ عرصہ تک چھپا کر نہیں رکھ سکتے، ایک نہ ایک دن وہ باہر آجائیں گے اور جب باہر آئیں گے تو آپ کو بھی اسی طرح کی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جیساکہ آج سوچی اور ان کی حکومت کو کرنا پڑرہا ہے۔ آپ کتنے بھی طاقتور ہوجائیں، انسانی حقوق کے اس چارٹر کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے جو دنیا کے تمام ممالک نے متفقہ طورپر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے تیار کیا ہے اور جس کا احترام اور نفاذ ہر ملک کا اخلاقی فرض ہے۔

سب سے زیادہ مقبول