سماجی

طلاق ثلاثہ: مسلم خواتین پر کوئی ظلم نہیں ہو رہا

سبھی مذاہب میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے انسان اپنی بیوی کو کبھی طلاق ثلاثہ نہیں دیں گے۔ غلط ذہنیت والے لوگ ہی ایسا قدم اٹھائیں گے۔ طلاق دینے والوں پر اللہ کی طرف سے لعنت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ثنا سلطان

15 اگست 2018، یومِ آزدی کے موقع پر ہمارے وزیر اعظم نے پھر سے اپنی تقریر میں بار بار دہرایا کہ بی جے پی مسلم خواتین کے لیے آگے آئی اور تین طلاق کو ختم کرنے کے لیے وہ مسلم خواتین کے ساتھ ہیں۔ 19 ستمبر کو وزیر اعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تین طلاق پر آرڈیننس لانے کا فیصلہ کر لیا۔ کیا مسلم خواتین وک اس ہمدردی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین نے ہمیں حق دیا ہے کہ ہم اپنے مذہب پر عمل کریں۔ یہ حق ہمیں بنیادی حقوق کی دفعہ 25 سے ملا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تین طلاق بند ہو جانا چاہیے؟ ذکیہ ثومان (بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن) بتاتی ہیں کہ یہ تحریک چلانے کی ضرورت کیوں پڑی۔ 2002 میں گجرات میں فسادات ہوئے تھے جس میں مسلم طبقے کی حالت بد سے بدتر ہو گئی۔ لیکن حکومت یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی۔ اس وقت خواتین کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے یہ تحریک چلائی گئی جس میں مسلم خواتین کو تعلیم، باز آبادکاری، صحت، تحفظ، قانونی اصلاح پر کام وغیرہ شامل تھا۔ ان سب پر کام کرتے وقت ان کے پاس الگ الگ ریاست سے کچھ طلاق کے معاملے بھی سامنے آئے۔ اس وقت ذکیہ جی نے تین طلاق، حلالہ، ایک سے زیادہ شادی کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔

تین طلاق کیا ہے؟

تین طلاق ایک طریقہ ہے جو مسلمانوں میں عام ہے۔ اس میں ایک شادی شدہ آدمی اپنی بیوی کو تین بار طلاق طلاق طلاق بول کر چھوڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے، طلاق مسلم طبقے میں مقبول عام ہے اسی وجہ سے آج یہ ایشو بہت زیادہ گرمایا ہوا ہے۔

ہمارے ملک کے ’پردھان سیوک‘ نریندر مودی نے خود اس بارے میں کئی بار بولا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں بی جے پی حکومت نے گزشتہ سال یعنی اگست 2017 کو یہ ایشو ٹیلی ویژن پر اچھالا۔ اس ایشو پر بی جے پی حکومت نے ہی کیوں سوچا، کیوں بی جے پی حکومت اس میں بڑھ چڑھ کر آگے دکھائی دے رہی ہے، کیوں بی جے پی اپنا نام اس ایشو میں لا رہی ہے؟ حالانکہ بی جے پی خواتین کی آزادی کے خلاف ہے۔ جو وزراء عصمت دری کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، وہ خواتین کی آزادی کی بات کیسے کر سکتے ہیں، اور وہ بھی مسلم خواتین! جب کہ ہمیں پتہ ہے کہ بی جے پی کا نظریہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔ کشمکش ابھی بھی برقرار ہے۔ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اگر واعقی بی جے پی مسلمانوں کے بارے میں سوچ رہی ہے تو محترم مودی جی مسلمانوں کی اصل پریشانیاں، مثلاً معاشی، سماجی، تجارتی حالات پر دھیان کیوں نہیں دیتے؟ مسلم بچوں کی تعلیم کا سطح،سرکاری ملازمتوں میں مسلم خواتین کی شراکت داری کہاں ہے؟ ملک میں ایسے قانون بنائے جائیں جس سے مسلم بچیاں آگے آئیں۔ اس ملک کو آزاد کرانے میں مسلمانوں کی بھی برابر کی شراکت داری رہی۔ پھر کیوں ہندوستانی معیشت میں مسلمان پیچھے ہیں؟ آج تک پارلیمنٹ میں مسلم نمائندہ نہ کے برابر ہیں۔ یہ سب اصل ایشوز ہیں جن پر کام ہونا ضروری ہے۔ جس طرح سے تین طاق کو پیش کیا گیا، آپ لوگوں نے اس ملک کے شہریوں سے متعلق قانون کو بھی ایک مجرمانہ قانون بنا ڈالا۔ اپنی تقریر میں تو آپ نے اسپر بہت بولا، لیکن ان ایشوز اور سوالوں پر نہیں بولا جو آج ایک سنگین سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہو رہے ہیں۔ آج کوئی کسی کو بھی شک کی بنیاد پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالتا ہے۔ اس پر آپ خاموش کیوں ہیں؟ کیوں نہیں بولتے اس غیر انسانی روش پر؟ جو مارا گیا وہ بھی تو صرف اور صرف مسلمان ہے اور کسی کا بھائی، کسی کا والد، کسی کا بیٹا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی مسلم خواتین پر حملہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں آپ مسلم خواتین کے لیے انصاف کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ چاہے آپ ہوں یا آپ کی حکومت کے وزیر یا آر ایس ایس، جو اُدھار کے لوگوں سے غیر انسانی کام کرا رہی ہے، وہ اس پورے ملک میں پوری طرح سے غیر آئینی ہے۔

بہت سے سوال اب بھی باقی ہیں جن کے جواب دینے کے لیے کوئی سامنے نہیں آ رہا، اور نہ ہی کوئی سننے والا ہے۔ کیا اس لیے کہ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں! میں بتانا چاہتی ہوں کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور کوئی بھی حکومت کسی مذہب سے متعلق تفریق نہیں کر سکتی۔ یہ ہمارا مسئلہ ہے، اسے ہم پر چھوڑ دیجیے اور اپنی تقریروں میں ہمدردی ظاہر کرنا بند کریں۔ کیونکہ تین طلاق پر کام کرنے کے لیے لوگ بیٹھے ہیں۔

تین طلاق کو قرآن کے نظریے سے دیکھتے ہیں...

قرآن کے مطابق طلاق ایک بہت ہی بڑا اور اہم شرعی معاملہ ہے۔ اگر کوئی ایک وقت میں تین بار طلاق بولتا ہے تو وہ تین طلاق نہیں مانا جائے گا۔ یہ جاننا مسلم خواتین کے لیے ضروری ہے ہی، ان سے زیادہ ضروری ہے ان مسلم اشخاص کو جاننا جو یہ سوچتے ہیں کہ میں نے 3 بار طلاق بول دیا ہے اور اب یہ عورت میرے گھر سے اور میری زندگی سے باہر ہو گئی۔ اسے طلاق بدعت کہا جاتا ہے، جو کہ طلاق کا مناسب طریقہ نہیں۔ لوگ بولتے ہیں کہ طلاق بدعت حدیث ہے۔ ہاں! یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ طریقہ حضرت عمر کے دور میں اپنایا گیا تھا اور ان کے دور میں صحابہ نے بھی اس پر اپنا کوئی احتجاج درج نہیں کرایا تھا۔ لیکن اس وقت اس کے ساتھ ایسے طلاق دینے والے کے لیے 50 کوڑے مارے جانے کی سزا بھی طے کی گئی تھی۔

طلاق کا صحیح طریقہ طلاق احسن ہے۔ اگر کسی کی شادی ٹھیک نہیں رہی تو ایک شوہر اپنی بیوی سے الگ ہونے کے لیے طلاق احسن کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس طریقہ میں طلاق تین مہینے کے اندر ایک بار کہا اور طلاق ہو گئی۔ دو مہینے میں رجوع کر لیں گے یا طلاق دے دیں گے، لتین مہینے میں رجوع نہیں کرتے تو طلاق دینے کی بھی ضرورت نہیں، وہ طلاق ہی مانی جاتی ہے۔ ان تین مہینوں میں دونوں طرف کے لوگ بھی گواہ کے طور پر موجود رہتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے نکاح کے وقت ہوتے ہیں۔ لوگ آج بھی یہ سوچتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف مرد کے لیے ہے جو کہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے۔ یہ طریقہ عورتوں کے لیے بھی جسے خلاء بولا جاتا ہے۔ قرآن یہ حق دونوں کو دیتا ہے۔

آج لوگ اسلام کو خاتون مخالف مذہب بتا رہے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ اسلام جیسے جدید مذہب میں ایسی کوئی روایت نہیں جہاں شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اسلام میں خواتین کو یہ حق ہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد اپنے بچوں کے لیے وہ دوسری شادی کر سکتی ہے۔ آج بھی لوگ اپنی سے بڑی عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتے، لیکن حضرت محمد نے اپنی پہلی شادی اپنی عمر سے بڑی عورت سے کی اور وہ بھی بیوہ تھیں۔ خلاء کا اختیار بھی خواتین کو آج سے نہیں بلکہ اسلام میں پہلے دن سے ہی ہے۔ یہ اختیار کسی دیگر مذاہب کی عورتوں کو 70-1960 سے قبل نہیں تھا۔ لوگوں سے گزارش ہے کہ اسلام کو بدنام نہ کریں۔ ہماری میڈیا کے ذریعہ اس سے ایک غلط پیغام جا رہا ہے۔ اسلام کا پیغام پوری دنیا کے لیے ہے۔ اسلام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب، ذات اور زبان کا کیوں نہ ہو۔ اسلام ہمیشہ انصاف کی بات کرتا ہے۔

تین طلاق بند ہونا چاہیے یا نہیں، اس سلسلے میں ہم نے کچھ مسلم نوجوانوں سے بات کی۔ تین طلاق کا جو عمل ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ آج عام لوگ اور اسکالرس اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر بات ہی نہیں کرتے۔ سبھی اپنا اپنا فلسفہ بیان کرنے لگتے ہیں۔اگر طلاق دینا بہت ضروری ہو رہا ہے تو کوئی پختہ ثبوت ہونا چاہیے۔ لیکن آج کے دور میں طلاق لفظ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جس طرح مردوں کو طلاق کااختیار حاصل ہے، اسی طرح عورتوں کو خلاء کا اختیار بھی اسلام نے دیا ہے۔

تین طلاق اسی صور ت میں ٹھیک ہے جب مناسب طریقے سے دی جائے۔ طلاق دیتے وقت گواہ موجود ہوں، علیحدگی کی وجہ ہو، بیوی-بچوں کے خرچ پر بات ہو۔ جس طرح نکاح نامہ ہوتا ہے اسی طرح طلاق نامہ اور لوگوں کی موجودگی ہو۔ شریعہ عدالت کی بھی مداخلت ہونی چاہیے، تاکہ طلاق کی وجہ عدالت کو بھی معلوم رہے۔

لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ آرڈیننس خواتین کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ تین سال کی سزا دینے سے خواتین کو مزید پریشانیاں اٹھانی پڑ سکتی ہیں۔ سبھی مذاہب میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ اچھے اور کچھ برے۔ اچھے انسان اپنی بیوی کو اس طرح طلاق نہیں دیں گے۔ غلط ذہنیت والے لوگ ہی ایسا قدم اٹھائیں گے۔ طلاق دینے والوں پر اللہ کی طرف سے لعنت ہے۔

تین طلاق ایک ساتھ دینا قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا کرنے والے لوگ طلاق کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ طلاق کا ایک اپنا طریقہ ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ طلاق کو بند کرنا خواتین کے سبھی مسائل کا حل نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے ایک ماحول پیدا کر دیا ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ مسلم خواتین کو کوئی اختیار نہیں ملا ہے۔

خیر، میں ایک ہندوستانی مسلمان ہوں اور مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔