سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت ہر ہندوستانی پر لازم، جانیں کیوں؟

حکومت حامی قوتیں بارہا یہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ قانون کسی کے خلاف نہیں ہے اور اس کا این آر سی سے کوئی ناطہ نہیں ہے لیکن حقیقت ہے یہ کہ یہ قانون بدنیتی سے لایا گیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

عمران خان میواتی

عمران خان

ہندوستان کے اقتدار پر جب سے آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے تخریبی نظریہ والی بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کا قبضہ ہوا ہے تبھی سے ملک میں فرقہ پرستی کو فروغ دینے والے فیصلے، بل اور قانون منظر عام پر آ رہے ہیں۔ کہنے کو تو بی جے پی کی ہر پالسی مسلم مخالف ہی نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرقہ پرستوں کے دشمن نمبر ایک مسلمان ضرور ہیں لیکن یہ لوگ دلت، قبائلی، خاتون اور غریب کے بھی مخالف ہیں۔ حکومت اعلانیہ یہ کہہ رہی ہے کہ ملک بھر میں آسام کی طرز پر این آر سی کو نافذ کیا جائے گا اور اس سے پہلے سی اے بی (شہریت ترمیمی بل) لایا گیا جو پارلیمان اور صدر کی منظوری کے بعد اب قانون (شہریت ترمیمی ایکٹ) بن چکا ہے۔ حکومت سی اے اے اور این آر سی کا ملن اس ملک کے لئے کتنا خطرناک ہے یہ بات ہر کسی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سی اے اے پر بات کرنے سے پہلے ہم این آر سی کو سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ این آر سی کسی بھی طرح سے صرف مسلم مخالف نہیں ہے، تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ این آر سی خاتون، دلت، قبائلی، زمین سے محروم اور غریب مخالف ہے۔ دراصل این آر سی شہریت کا وہ رجسٹر ہے جس میں جس کا نام آ جائے گا اسے ہندوستانی شہری مانا جائے گا اور جو اس سے باہر رہ جائے گا اسے غیر قانونی مہاجر قرار دے دیا جائے گا۔ آسام میں این آر سی کا نفاذ ہوا تھا اور 3 کروڑ افراد کے لئے 50 ہزار ملازمین نے 6 سال تک لگاتار محنت کر کے اسے تیار کیا۔ اس کے لئے ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے یہ بتایا گیا تھا کہ کون کون سے دستاویزات کی انہیں ضرورت ہے۔

آسام میں این آر سی کا اعلان ہونے کی دیر تھی کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ہر کوئی اپنے ضلع صدر دفتر کی طرف اور باہر کام کرنے والے اپنے آبائی شہروں کی طرف بھاگنے لگا۔ اپنے دستاویزات حاصل کرنے کے لئے لوگ روزانہ قطاروں میں لگنے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق آسام کے شہریوں نے اپنے دستاویزات تیار کرانے میں تقریباً 8 ہزار کروڑ روپے خرچ کر ڈالے۔ آخر کار چھ سال کے بعد این آر سی جاری ہوئی اور اس کے ساتھ ہی وہ سوالوں کے گھیرے میں آ گئی۔ لاکھوں معاملات ایسے ہیں جن میں خاندان کے ایک یا دو فرد این آر سی سے باہر کر دیئے گئے۔ تمام دستاویزات میں یکساں نام نہ ہونے کی وجہ سے بھی این آر سی سے نام باہر ہوگئے۔ سابق فوجی ثناء اللہ کا معاملہ عالمی سطح پر سرخیوں میں چھایا رہا کہ ہندوستانی فوج میں اپنی خدمات انجام دے چکے سابق فوجی کی شہریت کو ہی ختم کر دیا گیا!

آسام این آر سی سے تقریباً 19 لاکھ لوگ باہر ہوئے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں 12 سے 13 لاکھ ہندو ہیں اور محض 5 لاکھ مسلمان ہیں۔ انہیں بھی ابھی اپیل کرنے کا موقع دیا گیا ہے اور اب سالوں تک پھر سے دستاویزات لانے اور جمع کرنے کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

یہ بات حقیقت ہے کہ این آر سی کو بی جے پی نہیں بلکہ کانگریس کے زمانہ میں لایا گیا تھا لیکن بی جے پی نے دراندازوں کے مسئلہ کو اپنا انتخابی ایجنڈا بنایا اور اسے اس کا فائدہ بھی ملا۔ جب 12 لاکھ ہندو این آر سی سے باہر ہو گئے تو بی جے پی کو شدید جھٹکا لگا اور اسے یہ محسوس ہونے لگا کہ اس کے ووٹر اس سے ناراض ہو جائیں گے تو بی جے پی نے ایک چال چلی اور یہ کہنا شروع کیا کہ دراندازوں کا مسئلہ صرف آسام کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کا ہے اور ہم پورے ملک میں این آر سی کو لاگو کریں گے لیکن اس سے پہلے شہریت ترمیمی بل لے کر آئیں گے۔ بس یہیں سے شہریت کے معاملہ میں بی جے پی کی مسلم مخالف سیاست کھل کر سامنے آئی۔

دراصل کاغذات بنوانے کے لئے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور غریب کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ قبائلی اور زمین سے محروم افراد کے پاس وہ کاغذات ہی نہیں ہوتے کہ وہ اپنی مستقل رہائش کو ثابت کر سکیں۔ دلتوں کے ایک بڑے طبقہ کا بھی حال ایسا ہی ہے۔ رہی بات خواتین کی تو ان کا مسئلہ تو اور بھی پیچیدہ ہے۔ ہمارے ملک میں خاتون کی شناخت کسی کی بیٹی یا پھر کسی کی بیوی کے طور پر ہوتی ہے۔ یعنی شادی کر کے جب وہ اپنے شوہر کے گھر چلی جاتی ہے تو اس کی شناخت کے تمام تر کاغذات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگ 50-50 سال پرانے کاغذات بھلا کہاں سے لے کر آئیں گے۔

این آر سی میں ایک بہت بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں ہر ایک شخص کو اپنی شہریت ثابت کرنی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اس عمل میں وقت بھی بہت زیادہ لگتا ہے، لوگوں میں خوف کا ماحول بھی پیدا ہوتا ہے اور دولت خرچ ہوتی ہے سو الگ۔ این آر سی خاتون، زمین سے محروم افراد، قبائلی، دلت، ناخواندہ اور غریب مخالف کیوں ہے یہ بھی سمجھ لیتے ہیں۔

یہ ملک نوٹ بندی کے وقت جس طرح کے حالات سے دو پار ہو چکا ہے ویسے ہی حالات این آر سی کے بعد بھی پیدا ہوں گے اور اس کی زد میں کسی ایک مذہب یا فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں آئیں گے بلکہ ملک کا ہر شخص اس سے متاثر ہوگا۔ لوگوں کو حکومت سے یہ کہنا ہوگا کہ اگر آپ کو اس ملک سے دراندازوں کو باہر نکالنا ہے تو انہیں تلاش کرو اور نکال دو۔ ہر ایک شخص کی شہریت کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے! نوٹ بندی کرتے وقت بھی حکومت نے کہا تھا کہ اس سے کالا دھن ختم ہو جائے گا لیکن ہوا کچھ اور ہی۔ ہوا یہ کہ نوٹ بندی سے وہ پیسہ حکومت کے پاس پہنچا جو لوگوں نے کمایا تو جائز طریقہ سے تھا لیکن اس کا کہیں ریکارڈ نہیں تھا۔ نتیجہ یہ کہ حکومت کے اس وار سے نہ تو کالا دھن حاصل ہوا اور نہ ہی امیروں کو کوئی نقصان ہوا، بس غیر منظم شعبہ پوری طرح تباہ ہو گیا اور غریبوں پر اس کی زبردست مار پڑی۔

اب بات کرتے ہیں سی اے اے کی۔ حکومت نے آسام میں وعدہ کیا تھا کہ وہ این آر سی سے پہلے سی اے بی لے کر آئے گی اور اس نے ایسا کیا بھی۔ سی اے بی میں تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائی لوگوں کو ہر حال میں شہریت دے دی جائے گی۔ مطلب صاف ہے کہ جو لوگ این آر سی سے باہر ہوں گے اور اگر وہ غیر مسلم ہیں تو انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن کیا یہ اتنا آسان ہے؟ فرض کریں کہ کوئی ان تین ممالک سے ہندوستان نہیں آیا اور اس کے پاس خود کو شہری ثابت کرنے کے حوالہ سے کوئی دستاویز نہیں ہے تو کیا وہ یہ ثابت کر پائے گا کہ وہ مہاجر ہے؟ جب وہ کہیں سے آیا ہی نہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے گا۔ ایسے لوگوں کا بعد میں کیا ہوگا یہ حکومت کو بھی نہیں معلوم۔

Published: 18 Dec 2019, 6:30 PM
next