کشمیری المیہ سے دنیا نے بھی منھ موڑ لیا!... ظفر آغا

دہشت کی سیاست ایک عذاب ہے جس میں مبتلا ہونے والا کچھ دن تو ضرور دنیا کو اپنا وجود جتا سکتا ہے لیکن آخر میں وہ خود دہشت کا شکار ہو جاتا ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا اس وقت کشمیر کر رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

کشمیر میں جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ کشمیر اب پوری طرح ہندوستان کے قبضے میں ہے۔ کشمیری ہندوستانی فوج اور سیکورٹی کے رحم و کرم پر ہیں۔ اس مضمون کے لکھے جاتے وقت وادی میں ٹیلی فون سروس بحال ہو چکا تھا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پابندی جاری تھی۔ اگلے ہفتے سے اسکول اور تعلیمی ادارے کھلنے کا اعلان ہو چکا تھا۔ کہیں سے کسی قسم کے بڑے احتجاج کی خبریں بھی نہیں موصول ہوئی تھیں۔ فوج کی ناکہ بندی کے بالکل ابتدائی دور میں بی بی سی ریڈیو نے جس احتجاج کی خبر دی تھی، اس کے بعد سے ایسی کوئی خبر نہیں موصول ہوئی کہ جس کو بڑا احتجاج کہا جا سکے۔ چار افراد پر مشتمل دہلی کا ایک وفد وادی کشمیر کے دورے کے بعد واپس لوٹا تھا جس کے مطابق کشمیر میں غم و غصے کی لہر تھی۔ وہ ایک فطری اور انسانی بات ہے جو ہونی تھی اور ہوگی۔ لیکن قومیں محض جذبات پر ہمیشہ نہ تو چلتی ہیں اور نہ چل سکتی ہیں۔ اس لیے کشمیری بھی آہستہ آہستہ اپنے غم و غصے کو خون کے گھونٹ کی طرح پی کر آہستہ آہستہ روز مرہ کی تگ و دو میں کھو جائے گا۔ گاہے بہ گاہے فلسطینیوں کی طرح نوجوان کشمیری پتھروں سے فوج کے مقابلے پر کھڑے ہوں گے اور جان گنوائیں گے۔ اور جیسے فلسطینیوں پر آج کی دنیا میں آنسو بہانے والا کوئی نہیں، ویسے ہی کشمیری المیہ پر بھی کوئی آنسو نہیں بہائے گا۔

تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا نے ابھی ہی کشمیر سے منھ موڑ لیا۔ اس کی مثال جمعہ کے روز نیو یارک میں ہونے والی یو این سیکورٹی کونسل کی میٹنگ ہے۔ پاکستان اور چین یہ میٹنگ بلانے میں تو کامیاب ہو گئے، لیکن سیکورٹی کونسل کے ممبران نے اس میٹنگ میں کشمیر کے تئیں ہندوستانی عمل کی کوئی باقاعدہ مذمت نہیں ہوئی۔ حد تو یہ ہوئی کہ ایک ریزولوشن بھی پاس نہیں ہوا۔ بس کچھ ممبران نے اس سلسلے میں اپنی تشویش کا ویسے ہی اظہار کیا جیسا کہ وہ کبھی کبھی فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہاں، پاکستان ضرور شور مچا رہا ہے کہ اس نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو عالمی رنگ دے دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پورے عالم اسلام میں بھی کہیں کوئی حکومت چوں نہیں کر رہی ہے۔ دوبئی اور سعودی عرب کے حکمراں پہلے ہی مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے حامی ہو چکے ہیں۔ لب و لباب یہ کہ مسئلہ کشمیر عالمی رڈار سے باہر ہے۔ صرف پاکستان تھوڑی بہت چوں چاں کر رہا ہے۔ جلد ہی وہ بھی ہاتھ کھینچ لے گا۔ اور امکان اس بات کے ہیں کہ دو چار برس کے بعد ہند و پاک مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا آپس میں حل نکال لیں۔ حل یہی ہوگا کہ کشمیر کا جو حصہ جس کے قبضے میں ہے اب وہ اس کے پاس رہے گا اور اس طرح ایک حل بھی نکل آئے گا۔ ادھر کشمیر میں تیزی سے نئی ہندو بستیوں کا قیام اسی طرح شروع ہو جائے گا۔ جیسے فلسطین اسرائیل میں یہودی بستیاں بساتا ہے۔ جیسا کہ عرض کیا کبھی کبھی کشمیری احتجاج کرے گا اور مارا جائے گا اور اس پر آنسو بہانے والا کوئی نہیں ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اس کشمیری المیہ کا ذمہ دار کون ہے! یوں تو ابھی کشمیر میں جو کچھ ہوا اس کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور جس بے دردی سے ابھی آپریشن کشمیر ہوا اس کی ذمہ دار مودی حکومت ہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر پچھلے تیس برس میں فوج کے سائے میں ہی چل رہا ہے، اور کشمیری مارا بھی جا رہا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف اور صرف پاکستان کی ہے جس نے کشمیریوں کے ہاتھوں میں آزادی کے نام پر بندوق تھما دی۔ جذباتی کشمیری یہ سمجھا کہ اس کو آزادی مل جائے گی۔ ادھر پاکستان کا کھیل یہ تھا کہ کشمیر میں اتنی دہشت پھیلاؤ کہ ہندوستانی فوج وادی میں پھنسی رہے اورپاکستان کی طرف نگاہ نہ اٹھا سکے۔ جب کشمیر میں جنرل ضیاء الحق کی ایما پر پاکستان نے دہشت کا یہ کھیل شروع کیا تھا تو اس وقت افغانستان میں سوویت فوج کی موجودگی کی وجہ سے امریکہ اور اس کے حامیوں کو پاکستان کی ضرورت تھی، اس لیے پاکستان کشمیر کو دہشت میں جھونکتا رہا اور دنیا خاموش رہی۔ لیکن اب عالمی صورت حال بدل چکی ہے۔ سوویت یونین دنیا سے نیست و نابود ہو گیا۔ مسئلہ افغانستان اور وہاں سے دہشت گردی ختم کرنا اب امریکہ کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس کو اب پاکستان کی وہ ضرورت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ اس کے بدلے عالمی سیاست میں چین کے بڑھتے اثرات کو روکنے کے لیے امریکہ کو ہندوستان کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہی سبب ہے کہ جمعہ کو ہونے والی سیکورٹی کونسل میٹنگ میں ایک چین کے سوا پاکستان کا کوئی ہم نوا نہ تھا۔

الغرض، کشمیر اور کشمیری کی کہانی ختم ہونے کو آئی۔ جیسا عرض کیا کہ کچھ احتجاج ہوں گے لیکن وہ بھی کچل دیے جائیں گے۔ لیکن اس کشمیری المیہ سے ایک تاریخی سبق دنیا کی ہر قوم اور بالخصوص مسلمانوں کو حاصل کرنا چاہیے۔ اولاً، یہ کہ سیاست میں جذبات کا مقام نہیں ہوتا۔ جذباتی سیاست کا انجام ہمیشہ المیہ ہی ہوتا ہے جو کشمیریوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کشمیری نے جذبات میں بہہ کر بندوق تھام لی۔ پاکستان نے اپنی دفاع میں اس کا استعمال کیا اور آخر اس کو ہندوستانی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اب کشمیری ایک المیہ کا شکار ہے۔ دوسری بات جو کشمیریوں کی حالت زار سے گرہ باندھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی سیاست کسی مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتی ہے۔ اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے امریکہ کو دہشت گردی کے ذریعہ سبق سکھانے کی جرأت کی اور اب وہ موت کی نیند سو رہے ہیں۔ البغدادی نے دہشت کے زور پر اسلامی خلافت کا قیام کیا، آج نہ تو اس خلافت کا کہیں نام و نشان ہے اور نہ ہی البغدادی کا اب کوئی نام لیوا ہے۔ اسی طرح کشمیری نوجوان نے پاکستان کے اکسانے پر بندوق اٹھائی اور دہشت کے زور پر آزادی کا خواب دیکھا، اس کا حشر ان کے سامنے ہے۔

دہشت کی سیاست ایک عذاب ہے۔ اس عذاب میں مبتلا ہونے والی قومیں کچھ دن تو ضرور اپنا وجود دنیا کو جتا سکتی ہیں، لیکن آخر میں دہشت کا کھیل شروع کرنے والا خود دہشت کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا اب کشمیری کر رہا ہے۔ جب کہ باقی سارا ہندوستان ہندو جذبات کے کاندھوں پر سوار ہندو راشٹر کے راستے پر گامزن ہے۔ بلاشبہ کشمیر ایک المیہ ہے، لیکن افسوس کہ فلسطین کی طرح اب اس المیہ سے دنیا نے منھ موڑ لیا ہے۔ بے چارہ کشمیری، پاکستان نے اس کو مروا دیا۔

Published: 18 Aug 2019, 9:10 AM