رَحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقی تعلیمات اور ماحولیات

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ کی ذات بابرکات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع آفاقی تعلیمات انسانی عروج کا وسیلہ اور ارتقاء کا اولین زینہ ثابت ہوئیں۔

تصویر سوشل میدیا بشکریہ ڈی این اے
تصویر سوشل میدیا بشکریہ ڈی این اے
user

قومی آوازبیورو

مولانا احمد حسین قاسمی، معاون ناظم امارت شرعیہ، پٹنہ

اس دنیا میں ابنیاء کرام اور مصلحین و مفکرین کی ایک غیرمعمولی تعداد آئی، جنہوں نے اپنی تعلیمات و نظریات کی روشنی سے دنیا کو منور کرنے کی بھر پور سعی کی، ان میں ابنیاء کرام کی ایک ایسی منفرد اور پاکیزہ جماعت ہے، جو سب سے زیادہ خوبیوں کی مالک اور اعلیٰ و ارفع مقام ومنزلت کی حامل ہے، ابتدائے آفرینش سے آج تک انسانی دنیا کی تمام کامیابیاں اور حصولیابیاں براہ راست یا بالواسطہ انہیں حضرات کی رہین منت ہیں، خصوصاً نبوت و رسالت کے اس روحانی نظام کے سب سے بڑے آفتاب جس کی تابندگی و درخشندگی سے پوری کائنات انسانی بقعۂ نور بنی، وہ محسن انسانیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ کی ذات بابرکات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع آفاقی تعلیمات انسانی عروج کا وسیلہ اور ارتقاء کا اولین زینہ ثابت ہوئیں، اگرانسان کے ارتقائی سفر اور اس کے آسمان پر کمنڈ ڈالنے کی تاریخ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے، تو موجودہ ہمہ جہت ترقی کانقطۂ آغاز وحی ربانی ’’قرآن مجید‘‘ اور صاحب قرآن، سرچشمۂ ہدایت حضرت ’’محمد‘‘عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، ساتویں صدی سے تہذیب و ارتقاء کا جو عالم گیر سلسلہ شروع ہوا اس کی روشنی گزشتہ صدیوں میں ایک پل کے لئے نہیں رکی، اس کے تسلسل نے انسانی معاشرت وتمدن کو مختلف جہتوں سے اور اس کے جملہ شعبہ ہائے حیات و ماحولیات کو مختلف عنوان سے دیکھتے دیکھتے منور کردیا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عالم انسانیت میں آپ کی ذات یکتا ہے جس نے از اول تا آخر سب سے عظیم اور جامع انقلاب برپا کیا ہے، آپ کی تعلیمات ہمہ جہت اور متنوع ہیں، جن کی یہ پہلی خصوصیت ہے کہ وہ پوری انسانی زندگی کے جملہ گوشوں کا احاطہ کرتی ہیں، چنانچہ ماحولیات کے عنوان سے آپ کی سیرت کے اولین ماخذ کتاب اللہ نے آپ کی ربانی تعلیمات کو ماحولیات کے لئے مینارۂ نور قرار دیا ہے، ارشاد باری ہے’’فلما اضاءت ماحولہ‘‘ کہ جب اس نور نے اپنے ماحول (آس پاس کی چیزوں) کو روشن کردیا (البقرہ: 17)

قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’ماحول‘‘ کا لفظ صراحت کے ساتھ آیا ہے، ’’ماحولیات‘‘ اسی سے منسوب ہے، جس سے مراد ہمارے اردگرد کے عناصر حیات ہیں، جن پر ہماری زندگی کا دار و مدار ہے، فطری آب وہوا، زمین اور اس کے درختوں کا لامتناہی سلسلہ اور جنگلات جن سے زندگیاں آباد ہیں اور جنہوں نے زندگی کو توازن عطا کر رکھا ہے۔ خالق کائنات کا ارشا دہے: ’’وہی ذات ہے جس نے تمہارے فائدے کے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں (بقرہ:29)

آپ کی تعلیمات کا اولین متن ’’قرآن‘‘ ہے جو آپ کی سیرت وتعلیمات کا پہلا ماخذ ہے، اس میں مناظر قدرت اور ماحولیات کے تعلق سے تقریباً 700 (سات سو) سے زیادہ آیتیں ہیں، نمونہ کے طور پر چند آیات کا ترجمہ پیش ہے: اور (رب العالمین) نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ نصب کر دیئے اوراس زمین میں برکتیں رکھیں، نیز اس میں اس کی غذائیں (اسباب زندگی) ایک اندازۂ و قدر کے مطابق مقرر فرما دیں، چاردنوں میں یہ عام سوال کرنے والوں کے لئے (بطور جواب) یکساں ہے۔ (حم السجدہ 9-11)

دوسری جگہ ارشاد باری ہے: ’’وہی ذات ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو پائوں تلے مسخر کر دیا ہے، پس تم اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اس کے ر زق سے کھاؤ‘‘ (الملک:15) پہاڑ اور نہروں کے طویل و خوبصورت سلسلوں نے زمین کے توازن کو کس طرح قائم کر رکھا ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آی اہے ’’اور اس (اللہ) نے زمین میں پہاڑ نصب کر دیئے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگائے نہیں، دریا اور راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو‘‘ (النحل:15) ایک مقام پر یہی مضمون کچھ اس طرح ہے ’’وہی ذات ہے جس نے زمین کو وسعت بخشی ہے اور اسی نے اس زمین پر پہاڑوں اور نہروں کا نظام قائم کیا‘‘ (الرعد:3)

اس کرۂ ارض پر نظام زندگی اور ماحولیات سے متعلق قرآن کا ایک خوبصورت بیان اس طرح ہے: تسبیح بیان کیجیے اپنے اس اعلیٰ پالنہار کی جس نے (ہرچیز کی) تخلیق فرمائی، پھر اسے ٹھیک ٹھیک (متوازن) بنایا اور جس نے (ہرچیز کے لئے) ایک اندازہ وقدر متعین کیا پھر اسے راہ بتائی (الاعلیٰ:1-3)

قرآن کریم ماحولیات کے باب میں پاک وصاف آب وہوا کو حیاتیات اور زندگی کے جملہ تصورات کی بنیاد قرار دیتا ہے: ’’اور وہی ذات ہے جس نے اپنی رحمت سے ہوائیں، بھیجیں جو بارش کی خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور ہم نے آسمان سے پاک وصاف پانی اتارا تاکہ ہم بے جان زمینوں کو زندگی عطا کریں اوراس سے اپنے پیدا کردہ چوپائے اور بے شمار انسانوں کو سیراب کریں‘‘ (الفرقان: 48-49) اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کر رکھا ہے کیا وہ منکرین ایمان نہیں لائیں گے۔ (الانبیاء: 30)

اسی طرح پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے تحفظ کے مختلف پہلوؤں کا بالاستیعاب احاطہ کیا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماحولیاتی تحفظ اسلامی تعلیمات کا ایک اہم باب ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے ایک مومن پر ماحول کی حفاظت کے لئے زندگی کے اہم گوشوں میں متعدد فرائض عائد کر دیئے ہیں جو اسلامی نقطہ نظر سے جملہ قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق ایک ایمان والے کے مثبت طرز عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جن وسائل حیات کا استعمال ہم اس زمین پر کرتے ہیں، نبی آخرالزماں کی تعلیمات میں اس کا طریقہ استعمال اور انہیں برتنے کا انداز بڑے اعتدال و توازن اور کفایت شعاری کے ساتھ ملتا ہے، چنانچہ پانی سے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سے کوئی ناپاک شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے‘‘ (مسلم شریف) تاکہ وہ پانی دوسروں کے لئے ناقابل استعمال نہ بن جائے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے زیادہ پانی خرچ کیا اس نے برا کیا اور ظلم کیا (سنن نسائی، مسنداحمد، ابن ماجہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی وضو میں ایک مد (625گرام) آدھا لیٹر سے کچھ زیادہ پانی استعمال فرماتے (ابوداؤد:92)

اسی طرح آپ نے پانی میں پیشاب کرنے سے سخت ممانعت فرمائی، سعد ابن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جب یہ وضو کر رہے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ(پانی)کی بربادی کیسی ہے؟ توحضرت سعد نے کہا کہ وضو میں بھی کوئی ضیاع ہے؟ تو پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں اگرچہ یہ (ضیاع) بہتے ہوئے دریا پر بھی ہو‘‘ (ابن ماجہ) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں پر پاکی و طہارت کے ذریعہ آب وہوا کی حفاظت لازم فرمائی ہے اور تمام منفی رویوں سے اجتناب کا حکم دیا ہے، لہذا آپ کی تعلیم ہے کہ اگرکسی علاقہ میں بیماری پھیل جائے توکوئی وہاں داخل نہ ہو اورنہ ہی وہاں سے کوئی شخص بیماری لے کر پاکیزہ اور صحت مند ماحول کا رخ کرے۔ (بخاری، مسلم)

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر مدینہ کے لئے صحت بخش آب وہوا کی دعاء فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحولیاتی تحفظ کے لئے درخت لگانے اور اس کی کاشت کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’اگر کوئی درخت لگاتا ہے تو اس سے جوحصہ بھی انسان یا کوئی پرندہ یا کوئی جانور کھالے تو وہ اس کے لئے صدقہ کے مانند ہے‘‘ (بخاری) شجرکاری کی غیرمعمولی اہمیت کا اندازہ اس روایت سے بھی ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگرتم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہے اور قیامت قائم ہو جائے تب بھی وہ پودا ضرور لگائیں‘‘ (مسند احمد)

دوسری جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے درخت اور جنگلات کی کٹائی سے روکا ہے، ارشاد ہے: ’’جو شخص اللہ کے جواز کے بغیر کوئی درخت کاٹتا ہے توہ عمل اسے دوزخ کی آگ میں بھیج دے گا‘‘ (ابودائود) چونکہ جنگلات کی کٹائی سے ہونے والی تباہی مٹی کے کٹاؤ کا سبب بنتی ہے اور متعدد حیاتیاتی تنوع کو ہلاک کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت جنگ میں بھی درختوں اور فصلوں کو تباہ کرنے سے منع فرمایا ہے، تاریخ اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے جنوب میں ’’ہما‘‘ نامی ایک خوبصورت چراگاہ قائم فرمائی تھی اور اس کے چار میل کے فاصلے پر شکار کرنے اور دریا کے بارہ میل کے فاصلہ پر درختوں کو تباہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔

اسلام میں حدود حرم میں کسی نباتاتی پودے اور کسی پرندے اور جانور کے شکار کرنے کی ممانعت بھی ماحولیاتی تحفظ کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ ہے، وہ علاقے کسی مثالی خطے سے کم نہیں ہیں، مزید برآں یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی پرندے یا جانور کو ناحق اور بے فائدہ مارنے سے شدت کے ساتھ روکا ہے، اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا انتظام فرمایا ہے۔ اگرماحولیات کو آج سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے تووہ وسائل فطرت کا بے جا اورغیرمعتدل استعمال ہے، ہرچیز یہاں ایک اندازے کے مطابق ہے، اس کی کھپت میں بھی اعتدال وموزونیت کا لحاظ ضروری ہے، افراط وتفریط، فضول خرچی اور اشیاء کے بے جا استعمال نے ہمارے نظام ہائے زندگی اور ذرائع حیات کو تصور سے کہیں زیادہ ضرر پہنچایا ہے، لاکھوں برس کی قدیم زمین، قوت زندگی سے مالامال اس کا پرانا گہوارہ اور تروتازگی سے بھرپور اس کی پھیلی ہوئی تاحد آسمان فضاؤں کی پہنائی قدرتی وسائل حیات اور فطری اسباب زندگی کی ایسی مرقع ہے جہاں حکم خالق سے ہرآن زندگی اوراسباب زندگی کی تجدید ہوتی رہتی ہے، وہاں انسانوں کے روپ میں آنے جانے والے مسافر کو اگر طریقہ حیات اور وسائل زندگی کو صحیح برتنے کا سبق لینا ہو تووہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا بنظرعمیق مطالعہ کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ صدیوں پہلے اپنے پیروکاروں کو اسباب زندگی اور قدرتی وسائل کے استعمال کرنے کی تعلیم کتنے محتاط انداز میں ان کے تحفظ کا پورا خیال رکھتے ہوئے، فضول خرچی سے مکمل طور پر اجتناب اور کامل اعتدال کے ساتھ دی ہے، جو بالیقین ماحولیاتی تحفظ اور وسائل قدرت کے موزون ومعتدل استعمال کے لئے ایک ابدی اصول اور دستورکی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا جانشین بنایا، تاکہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتوں (وسائل حیات) میں تمہاری آزمائش کرے۔ (انعام:165) کھاؤ پیو (مگر) فضول خرچی مت کرو، بلاشبہ اللہ حد سے زیادہ خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (اعراف:31) ایک جگہ قرآن میں آیا ہے کہ: فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی (کے مانند) ہیں۔( اسراء: 27)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دنیا میں تم ایک اجنبی اورمسافر کی طرح رہو(بخاری:6416) یعنی جس طرح مسافر ریلوے اور ایرویز کے سامان کو اصول ہی کے تحت استعمال کرسکتا ہے، ضابطہ کے خلاف اس کے کسی نظام سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا، انسان کو بھی اس زمین پر فطرت کے اصول سے متصادم کام کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

مگرآج کے وقت میں موجودہ مختلف انواع و اقسام کے پلانٹس کی تنصیب نے اوزون کی پرت کو چھلنی کر دیا ہے، ان سے ہمہ وقت نکلنے والی فلک بوس آگ کی لہروں نے قدرتی فضا کی سطحوں کو بھیانک نقصانات پہنچائے ہیں، اسی طرح اے سی، ریفریجریٹر (فریز) مشین وغیرہ کی کثرت استعمال، اور ان سے خارج ہونے والے مہلک گیس نے ہماری صاف ستھری فضائوں میں زہر گھول دیا ہے، درختوں میں تشویشناک کمی اور جنگلات کے عدم تحفظ نے ہواؤں سے صحت بخش اثرات ختم کر دیئے ہیں، دریاؤں کی سوکھتی ہوئی چھوٹی بڑی شاخیں ماحولیات کی بربادی کاماتم کر رہی ہیں۔

قصبات اور چھوٹے بڑے تمام شہروں کی سطح زمین سیمنٹیڈ اور پختہ ہوگئیں، نتیجۃً پانی کا لیئرنیچے جا رہا ہے اور نو آبادیات کی بست کشاد نے پہاڑوں کے طویل سلسلے کو زمین دوز کرکے فطرت اور توازن سے چھیڑ چھاڑ کیا ہے، کیمیکل کے پراگندہ نالوں نے غیرمعمولی طور پر نہروں اور دریاؤں کو آلودہ کیا ہے، مشینوں اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوؤں کی کثافت نے پاکیزہ ہواں کی لطافت کو حد درجہ متاثر کیا ہے، ماحولیاتی تحفظ کے عظیم علم بردار ممالک نے ایٹمی تنصیبات کے ذریعہ پوری عالمی برادری کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، ایسے حالات میں محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ تعلیمات کو بروئے کار لاکر قدرتی وسائل کے استعمال میں اعتدال، زمین میں توازن اور ماحولیات کو تحفظ عطا کیا جاسکتا ہے اور وسائل فطرت سے مالامال دنیا کو گلوبل وارمنگ سے بچایا جاسکتا ہے۔

Published: 30 Oct 2020, 8:11 AM
next