سپریم کورٹ نے دیا مودی حکومت کو حکم، بزرگوں کی پنشن بڑھانے کا راستہ صاف

سپریم کورٹ نے ملک کے لاکھوں عمر رشیدہ شہریوں کو راحت دیتے ہوئے’اندرا گاندھی قومیعمررشیدہ پنشن اسکیم‘ کے تحت دی جانے والی پنشن میں اضافہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ امید ہے کہ11سال بعد اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

قومی آوازبیورو

بھارت ڈوگرا

بزرگوں کی پنشن میں اضافہ کی ضرورت بہت وقت سے محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ اس وقت اس منصوبے کے تحت جو پنشن دی جارہی ہے، وہ بہت ہی کم ہے، سال 2007 میں 60 سے 79 سال کی عمر کے لئے اس منصوبے کے تحت ماہانہ پنشن کی رقم صرف 200 روپے رکھی گئی تھی، اس وقت بھی یہ رقم بہت معمولی مانی گئی تھی، جبکہ 80 سال سے زیادہ کی عمر کے لئے یہی پنشن 500 روپے ماہانہ رکھی گئی تھی، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو چلتے 11 سال ہو گئے ہیں اور مرکزی حکومت نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔ اب تو سال 2007 میں طے کئے گئے 200 روپے کی قیمت مہنگائی کی وجہ سے صرف 92 روپے ہی رہ گئی ہے۔

فی الحال اس منصوبہ کے تحت 200 روپے سے کچھ زیادہ پنشن مل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر ریاستی حکومتیں اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے اس میں کچھ اپنا حصہ بھی شامل کر دیتی ہیں، جوکہ کافی نہیں ہے، مرکزی حکومت کو بھی اس رقم میں ٹھیک اضافہ ضرور کرنا چاہیے۔

اس منصفانہ مانگ کو لے کر سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی جس کے بعد اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ اضافہ ضرور کرنا چاہیے اور ریاستی حکومتوں کو بھی اپنا تعاون دینا چاہیے، اب چونکہ مرکزی حکومت جو اضافہ کرے گی وہ 11 سال بعد ہوگا، تو امید یہی کی جارہی کہ بزرگوں کی پنشن میں یہ اضافہ ٹھیک ٹھاک ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ وقت پہلے دہلی میں پنشن کونسل نامی ’جن سنگٹھن‘ نے اسی مطالبے کو لے کر ایک بڑا مظاہرہ کیا تھا، جس میں ملک کے دور دراز سے آئے عمر رشیدہ شہریوں نے حصہ لیا تھا، اس میں کونسل نے کم از کم 3000 روپے کی پنشن دینے کی مانگ کی تھی اور اسے مہنگائی کے انڈیکس سے جوڑنے کے لئے کہا گیا تھا تاکہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ اس میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے، یہ ایک انصاف پر مبنی مطالبہ تھا، اب سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد مرکزی حکومت کو اسے جلد قبول کر لینا چاہیے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک اولڈ ایج ہوم یعنی بزرگوں کے رہنے کی جگہ کا بندوبست ضرور ہونا چاہے، بے بس عمر رشیدہ شہریوں کے لئے ابھی ملک میں ایسا نظام بہت کم ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کے بزرگ شہریوں کے لئے اس طرح کی کوشش ہونی چاہیے تاکہ انہیں اپنی بزرگی کا احساس نہ ہوسکے اور اپنی زندگی سکون و اطمینان سے گزار سکیں۔ لیکن فی الحال اس وقت جو ایک سب سے زیادہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، وہ پنشن میں نمایاں اضافہ کا ہے، لہذا مرکزی حکومت کو اب بغیر کوئی دیر کیے اندرا گاندھی عمر رشیدہ پنشن کے تحت 3000 روپے فی ماہ تک اضافے اور اسے مہنگائی کے انڈیکس سے جوڑنے کی مانگ کو قبول کر لینا چاہیے، کیونکہ پہلے ہی اس میں کافی دیر ہو چکی ہے۔