سال 2018: ملک کے کسان رہے پریشان حال، عام انتخابات میں دیں گے جواب

سال 2018 میں کسانوں کے مسائل ایک بڑا قومی مسئلہ بنکر سامنے آیا۔ یہ اتنا بڑا ایشو بنا کہ حکمراں بی جے پی 3 ریاستوں سے بے دخل ہو گئی۔ یہ مسائل 2019 عام انتخابات میں بھی بی جے پی کی راہ مشکل کررہے ہیں۔

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

قومی آواز تجزیہ

حال ہی میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات میں سے ہندی بیلٹ کی تین بڑی ریاستوں میں جس طرح بی جے پی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گاؤ ں کے لوگ خاص طور سے ملک کے کسان حکومت کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں ۔ کسانوں کو ان کی فصلوں کا واجب دام نہ ملنا اور اناج کی سرکاری خرید کا عمل صحیح نہ ہونا سال 2018 کا ایک بڑا قومی مسئلہ اور سیاسی مدا رہا ۔

گزشتہ ایک سال کے دوران راجدھانی دہلی میں ہی کسانوں کی پانچ بڑی احتجای ریلیاں ہوئیں ۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر میں دو بڑی کسان ریلیاں ہوئیں ۔ سال 2018 میں ہی بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے فصلوں کی لاگت کی کم از کم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) طے کرنے کے لئے ایک فارمولہ پیش کیا لیکن کسانوں کے مسائل اس سے ٹھیک نہیں ہوئے جس کی وجہ سے خوش نہیں ہوئے۔

اپوزیشن کی مختلف سیاسی پارٹیاں آج بھلے ہی الگ الگ مدوں کو لے کر اپنی آواز بلند کر رہی ہوں لیکن کسانوں کے مسائل پر وہ ایک آواز ہیں ۔ اس کی مثال 30 نومبر کو دہلی میں منعقد ہوئی کسان ریلی ہے جس میں تمام سیاسی پارٹیوں نے کسانوں کی ان کی فصل کی بہتر قیمت اور ان کے قرض معافی پر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔ اسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا تھا ’’پورے ملک میں اب جو آواز گونج رہی ہے وہ کسانوں کی ہے جو بہت پریشانی میں ہیں ‘‘۔

سوراج انڈیا کے یوگیندر یادو نے اس کسان ریلی میں کہا تھا کہ سال 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں گاؤں اور کسانوں کے مدے چھائے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا ’’ملک میں ہمیشہ زرعی شعبہ پریشانی کا شکار رہا ہے لیکن یہ کبھی انتخابات کا مرکزی مدا نہیں بنا ۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست اور کسانوں کے نئے اتحاد نے یہ یقینی بنا دیا ہے کہ زرعی شعبہ کی یہ پریشانی عام انتخابات کا مرکزی مدا رہے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں بی جے پی کی حکومت سب سے زیادہ کسان مخالف رہی ہے کیونکہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں حکومت کا کسانوں کے ساتھ انتہائی غیر ہمدردانہ رویہ رہا ہے ۔

پورے سال کئی مرتبہ سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیو وائرل ہوئے جن میں سڑکوں پر فصل اور دودھ پھینک کر کسانوں نے اپنے غصہ کا مظاہرہ کیا ۔ کسانوں کو اپنی پیداوار مجبوری کی حالت میں لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنی پڑی ہے۔

اب آنے والا سال بتائے گا کہ کسانوں کے مسائل صرف انتخابی مدا بنتے ہیں یا ان کے لئے کچھ اچھا بھی ہوگا۔ ۔ بس امید یہی ہے کہ ’یہ سال تو اچھا سال رہے‘۔

Published: 29 Dec 2018, 3:09 PM