طنز و مزاح: شکوۂ جوتا ایسوسی ایشن

معزز ممبر اسمبلی کو مارے گئے جوتوں کا بغور معائنہ کرنے کے بعد یہ راز منکشف ہوا کہ جوتا کمپنی کا یہ دعوی جھوٹا ثابت ہوا کہ وہ جوتے اصل چمڑے سے بنائے گئے تھے بلکہ وہ انتہائی نوکیلے اور بدنما بھی تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تقدیس نقوی

کچھ غیر رسمی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ’’ تحفظ حقوق جوتا انٹرنیشنل ایسوسی ایشن‘‘ کی جانب سے ایک انٹرنیشنل ادارے کے مقامی دفتر میں ایک شکایتی میمورنڈم موصول ہوا ہے۔ جوتا ایسوسی ایشن کی اس شکایت کی اصل وجہ حال ہی میں ہمارے جوتا نواز ملک میں وقوع پذیر ہوا وہ واقعہ ہے کہ جوعوام کے لیے اس شدید تناؤ سے بھرے ماحول میں بھی نہایت دلچسپی اور تفریح طبع کا باعث بنا اور جوتوں کے لئے باعث ذلت و خواری ثابت ہوا کہ جس میں ایک معزز ممبر پارلیمنٹ نے اپنے ہی ایک ہم پیالہ اور ہم نوالا ساتھی ممبراسمبلی کی خاطر تواضع ان بے سہارا اور بے زبان جوتوں کے توسط سے فرمائی تھی اوردونوں ممبران کے ماتھوں کے ساتھ ساتھ پوری جوتا برادری کے ما تھے پرکلنک کا ٹیکا لگا دیا تھا۔

اس میمورنڈم میں تمام عالمی جوتا برادری کی جانب سے پر زور الفاظ میں جوتوں کی ہتک عزت ’بے جااستعمال‘ بے رحمانہ استحصال اور ان پرغیر 'جوتییانہ' تشدد کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اور یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ انٹرنیشنل ادارہ عوامی بہبودی ان کی یہ شکایت یو-این-او میں جلد ازجلد لے کرجائے تاکہ ان کی آواز جوعموماً ان کے پہنے والوں کے کانوں تک ہی محدود رہتی ہے انٹرنیشنل انسانی برادری کے کانوں تک بھی پہنچے اور انسانی برادری کی جانب سے ان پرجاری تشدد کا کچھ تو فوری تدارک کیا جاسکے۔ اس شکایت کو یو این او میں پہنچائے جانے کے دیگر متوقع فوائد کے علاوہ ایک فائدہ یہ بھی نظر آرہا ہے کہ یو این جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں اکثر ایسے پیچیدہ مسائل زیر بحث آجاتے ہیں کہ جب دو فریق گتھم گتھا ہونے پرآمادہ ہونے لگتے ہیں توایسی صورت حال میں وہ لوگ کہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ہو رہے کسی ایسے مثالی واقعے کی تقلید کرتے ہوئے کوئی ایسا اقدام نہ اٹھا بیٹھیں کہ جس سے جوتوں کی بین الاقوامی سطح پر قائم ساکھ اور دھاک دونوں کو دھچکا لگے۔

ایک اطلاع کے مطابق اس انٹرنیشنل ادارے نے ’’ تحفظ حقوق جوتا انٹرنیشنل ایسوسی ایشن" کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ پہلے اس شکایت کو ہمارے ملک کی پارلیمنٹ میں لے جانے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ واقعہ ہمارے ملک میں وقوع پذیر ہوا ہے اور سماج کے اس اعلی طبقے کے دست مبارک سے عمل میں آیا ہے جس پر پورے ملک کے قانونی 'سماجی' تعلیمی اور اخلاقی ڈھانچے کا دارو مدار ہے اور جس کا ہر اقدام قابل تقلید اورمثالی تصور کیا جاتا ہے اس کے جواب میں "تحفظ حقوق جوتا انٹرنیشنل ایسوسی ایشن" کے سینئرذمہ داران نے اسے اسی بناء پررد کردیا کیونکہ اس واقعہ میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے معزز ممبران خود ہی ملزم ہیں اس لئے انھیں وہاں سے کسی فوری انصاف کی توقع نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہاں اس قسم کے واقعات سے متعلق تاریخ کے پیش نظرزیادہ سے زیادہ ان کی اس شکایت پرایک رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ جس معزز ممبر کو ان کی اس شکایت پر کمیٹی بنا کر رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی اس نے اپنی تمام عمر میں اپنے گاؤں میں اپنے جوتوں کے تئیں پیہم بے توجہی کے سبب کبھی کبھی جوتے پہنے ہوں جس کے باعث اس نے جوتوں کے کاٹنے کی پہلے ہی گرام پنچایت میں رپورٹ درج کرا رکھی ہو۔ تو اب ایسی صورت حال میں کسی جوتا کاٹے ہوئے معزز ممبر سے جوتوں کی موافقت میں کسی فیصلے کی امید رکھنا اپنے پیر کے سا ئز سے چھوٹا جوتا فٹ آجانے کی توقع کرنے کے مترادف ہوگا۔

غیر رسمی زرائع کے مطابق اس انٹرنیشنل ادارے کے مبینہ جاری شدہ بیان میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جوتوں کے خلاف انسانی برادری کے برسوں سے جاری اس طرح کے ظالمانہ واقعات کوئی نئے نہیں ہیں مگر یہ شکایت مذکورہ ملک میں حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے جس واقعے پر مبنی ہے وہ اپنی نوعیت کا منفرد، مختلف اور شرمناک واقعہ ہے۔ اس لئے یہ انٹرنیشنل ادارہ اس مخصوص واقعہ کا الگ سے بہت سنجیدگی اور ارجنسی میں نوٹس لے رہا ہے۔

اس میمورنڈم میں تمام انسانی برادری کے جوتا برادری کے خلاف ازل سے چلے آرہے نازیبا سلوک کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہمارے ملک میں حال ہی میں اک سیاسی اجتماع میں منعقد ہونے والے جوتم پیزاری کے جس میچ کا حوالہ دیا گیا ہے اس کی تفصیل سوشل میڈیا پر وافر تعداد میں موجود ہے۔ جس کے ناظرین جو روز بروز اب اس کی ماہرانہ اور دلیرانہ ویڈیو گرافی کی اعلی کوالٹی کے سبب اس کے شائقین میں بدلتے جا رہے ہیں جن کی تعداد اب کروڑوں سے تجاوز کرچکی ہے اور جن میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی شائقین کی بھی ہے۔ ان ویڈیو کلپس میں نظر آرہی جوتا گیری کے فنی اور تکنیکی پہلوؤں پرغور کرنے سے یا باالفاظ دیگرانجوائے کرنے سے عام جنتا کے اس یقین کومزید تقویت ملی ہے کہ ہمارا ملک اس وقت بہت مظبوط ہاتھوں میں ہے۔

اس واقعہ کی تفصیل نیشنل ٹی وی چینلوں پربھی بڑے اہتمام اور پرائم ٹائم میں ناظرین تک پہنچائی گئی۔ کچھ ٹی وی چینلوں نے تو وطن پرستی کا ثبوت دیتے ہو ئے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی مگر کچھ شرارتی ٹی وی چینلوں نے اس واقعہ میں استعمال ہوئے جوتوں کے برانڈز، سائز اور ان کے پروجیکٹائیل اینگل کو بھی زوم کر کر کے دکھایا اور ناظرین کی داد و تحسین بٹوری۔ عوام میں بے انتہا پاپولر اک ٹی وی چینل نے تو فوری طور پر ایک جوتا اینڈ لیدرایکسپرٹس کا پینل مدعو کر کے دلوں کو گرما دینے والے اس واقعہ میں خوبصورتی سے چلائے جانے والے جوتوں کے لیدر اور ان کی ساخت پرعوام کے فائدے اور بہبود کی خاطر مباحثے کروا ڈالے۔

موقعہ واردات پر موجود ایک سماجی خدمت گار کے مطابق مبینہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مثالی چستی، پھرتی اور بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کے موقع واردات سے اچانک فرار ہوجانے کے احتمال کو ختم کرنے کی نیت سے فوری اک رپورٹ درج کرلی جس کی جتنی ستائش اور ہمت افزائی کی جائے اتنی کم ہے۔ مگر یہ رپورٹ یا رپٹ ان معزز ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کے خلاف درج نہیں کی گئی تھی بلکہ ان جوتوں کیخلاف درج کی گئی تھی جو اس دلچسپ واقعے میں با زور اور باالجبر استعمال کیے گئے تھے۔ ساتھ ہی انھیں اس شخص کی بھی تلاش ہے جس نے یہ واقعہ ریکارڈ کیا تھا کیونکہ یہ سراسر کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی تصور کی جا رہی ہے اور اس کے خلاف تادیبی کاروائی مستقبل میں پیش آنے والے کسی ایسے ہی واقعہ کی پبلسٹی روکنے کے لئے اشد ضروری ہے۔ جس جلسے کی یہ ریکارڈنگ دکھائی گئی ہے وہ سو فیصد کسی کا ذاتی اور پرائیویٹ پروگرام تھا اور کسی بھی پرائیویٹ پروگرام میں جوتے چلیں یا کرسیاں کسی غیر متعلق شخص کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ یوں بھی ہرتقریب میں کچھ نہ کچھ تو چلتا ہی ہے۔ مزید یہ کہ یہ جوتم پیزار توہماری تہذیب کا اہم اور آٹوٹ حصہ ہے جس کا مظاہرہ آئے دن ہماری سماجی محفلوں، جلسوں اور تقریبات میں ہوتا رہتا ہے۔ ایسے ہی واقعات کے ذریعے ہمارے ملک کی عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی نئی تصویر کی صحیح عکاسی ہوتی ہے۔ اس لئے ایسے کسی معاملے میں کسی قسم کی دخل اندازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

ان اداروں کے نمائندوں نے مبینہ طور سے پریس بریفنگ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ معزز ممبران کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کرنے کے بجائے جوتوں کے خلاف کاروائی کرنے کے پیچھے آخر کیا حکمت عملی کارفرما تھی بتایا کہ اولاً کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے خلاف ایسے وقت میں کوئی کاروائی کرنا تضیع اوقات ہوگی جبکہ وہ پارلیمنٹ میں اب چند مہینوں کے ہی مہمان ہیں اور اگر وہ آنے والے الیکشن میں دوبارہ چن لیے گئے تو یہ عوام کی دریا دلی تصور کی جائے گی کہ جس کا مظاہرہ ہمیشہ سے وہ ہر الیکشن میں کرتی آئی ہے۔ ممکن ہے کہ اگلی حکومت میں انھیں کسی وزارت کا قلمدان ہی سونپ دیا جائے تواس صورت میں انتقاماً اس ادارے پر جو بے بھاؤ جوتوں کی بارش ہوگی اس کا کون حساب رکھے گا۔ دوئم امن عامہ کو خطرہ ان معزز ممبران سے نہیں ہے بلکہ ان جوتوں سے ہے جو اب جگہ جگہ اسلحہ کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وہ متعلقہ اور متاثرہ ممبراسمبلی جو اس واقع میں سب سے زیادہ جوتوں کے تشدد کا نشانہ بنے ہیں انھوں نے اب یہ سوگندہ کھائی ہے کہ کیونکہ ان کی اسمبلی کا ٹرم ابھی باقی ہے وہ اسمبلی میں ایک ایسا قانون بنوانے کی پوری کوشش کریں گے کہ جس کے تحت جوتا پہننے کے لئے لائسنس بنوانا ضروری قرار دیا جائے گا۔ تاکہ لوگ اس طرح کھلے عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنا سکیں جس طرح انھیں بنایا گیا ہے۔ ان فاضل ممبراسمبلی نے قانون نافذ کرنے والے ادارے میں جوتوں کے خلاف ان کے بے وقت استعمال کی شکایت ہی درج نہیں کرائی بلکہ اس بات کی بھی شکایت درج کرائی ہے کہ جو جوتے ممبر پارلیمنٹ نے ان کے اوپر چلائے تھے وہ ان کے منصب اسمبلی کے شایان شان نہیں تھے۔ یہ جوتے نہایت گھٹیا درجے کے تھے جو ان کی شان کے خلاف تھے اور ان کی تضحیک و تذلیل کا اصل سبب بنے۔ مارے گئے جوتوں کا بغور معائنہ کرنے کے بعد یہ راز منکشف ہوا کہ نہ صرف اس جوتا کمپنی کا یہ دعوہ جھوٹا ثابت ہوا کہ وہ جوتے اصل چمڑے سے بنائے گئے تھے بلکہ وہ انتہائی نوکیلے اور بدنما بھی نکلے۔ اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارہ بہت جلد اس جوتا کمپنی کے خلاف بھی قانونی کاروائی کرنے کے لئے سوچ رہا ہے کہ جس نے چمڑے کے نام پر دوسرے کی چمڑی ادھیڑ نے کا بندوبست کیا تھا۔

ادھر انٹرنیشنل ادارے میں جو میمورنڈم جمع کیا گیا ہے اس کی تفصیل حاصل ہونے پر اس واقعہ میں ملوث حضرات اور تمام انسانی برادری پر یہ فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

1:۔ اس ملک میں حال ہی میں کچھ سیاسی اجتماعات کے دوران وقوع پذیر کچھ بے انتہا نازیبا اورغیر مودبانہ واقعات میں جوتا برادری کے کچھ معزز اور صاحب حیثیت جوتوں کو ورغلا، بہلا اورپھسلا کر چند افراد کی آپسی ذاتی چپقلش میں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور انھیں نہتھا اور بے یارو مددگار سمجھ کر اپنے جارحانہ اقدام کا الہ کار بنایا گیا جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔

2:۔ گو کہ ازل سے انسانوں کے پیروں تلے روندے جانے پراس انجمن نے کسی انسان سے کبھی اپنی ناقدری اور تذلیل کی کسی نیشنل یا انٹرنیشنل فورم پر شکایت درج نہیں کرائی مگر اب یہ ظالم انسان ہمیں پیروں سے نکلا کر ہاتھوں کے ہاتھوں مزید ذلیل و خوار کرنے کی گھناؤنی اور ’غیر جوتانہ‘ حرکت کرنے کا مرتکب ہو رہا ہے جس کا اگر بر وقت ازالہ نہ کیا گیا تو ہماری جوتا برادری کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا اور وہ پیر کے رہیں گے نہ ہاتھ کے۔

3:۔ یہ انجمن اس انٹرنیشنل ادارے سے اس امر میں مدد کی طلبگار ہے کہ ہم جوتوں کو ہمارے آصل مقام پیروں ہی میں رہنے دیا جائے اور کسی بھی اضطراری کیفیت میں ہمیں ہاتھوں میں لیکر ذلیل و خوار نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ اپیل بھی کرتی ہے کہ ہمیں نہ تو کھانے کے لئے استعمال کیا جائے، نہ ہی ہمیں دال بانٹنے کے لئے استعمال کرنے کی سازش کی جائے اور نہ ہی ہمارا ہار بناکر کسی کی عزت افزائی کرنے کے لئے اس کے گلے میں ڈالا جائے۔

4:۔ جب سے ملک میں ذمہ دار اور صاحب اقتدار حضرات کے ہاتھوں اس قسم کے جوتا گیری کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تب سے چھوٹی جوتیوں اور چپلوں نے سرعام نکلنا بند کر دیا ہے اور ان کے شب و روز خوف و ہراس کی کیفیت میں گزر رہے ہیں۔ لہذا ان مستورات جوتا برادری کو فوری مناسب تحفظ فراہم کرایا جائے۔ کیونکہ اگر انھوں نے کاٹنا شروع کردیا تو انسان سماج میں کہیں پاؤں دکھانے تک کے قابل نہ رہے گا۔

اس میمورنڈم کی کاپیاں مقامی اخبارات کے دفاتر میں موصول ہونے پر ملزم ممبران کی پارٹی کے ترجمان سے اس واقعہ کے بارے میں ان کا موقف جاننے کے لئے رجوع کیا گیا۔ پارٹی ترجمان نے حسب عادت مختصراً یہ بیان میڈیا کے سامنے دیا۔

’’اس واقعہ کی جانبدار پبلسٹی میں اپوزیشن کا پورا پوارا ہاتھ ہے اور وہ ہماری پارٹی کی اچھی امیج بگاڑنے کی لاحاصل کوشش کر رہی ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس واقعہ کی اصل حقیقت بس صرف اتنی ہے کہ پارٹی کے ایک پروگرام کے دوران ایک سینئر ممبر کے پیروں میں ان کا جوتا کاٹ رہا تھا جو انھوں نے پیر سے نکال کر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اک دوسرے ساتھی معزز ممبر جن کو جوتوں کے بارے میں بہت زیادہ علم اور تجربہ ہے کی طرف جوتا چیک کروانے کی غرض سے اچھال دیا تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ الیکشن سے پہلے ہی ان کا جوتا کیوں کاٹنے لگا ہے۔ بس اتنی سی بات کا یہ لوگ بتنگڑ بنا رہے ہی‘‘۔

اس تسلی بخش بیان کوسن کر تمام صحافیوں نے سکون کی سانس لی خصوصاً ان صحافیوں نے جن کی آج کل اپنی سانسوں پران کا خود کا اختیار نہیں رہا ہے اور ترجمان کو یقین دلایا کہ ہم آئندہ بھی آپ کے بیانات پر اس بیان کی طرح ہی یقین کرتے رہیں گے جتنا گزشتہ کئی برسوں سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر ایک سرپھرے صحافی نے اٹھ کر کہا کہ ہم نے تو سنا ہے:

’’بس اتنی بات پہ اس نے شہر جلا ڈالا

کہ باب شہر پہ تختی نہ اس کے نام کی تھی‘‘

Published: 31 Mar 2019, 9:10 PM