ملک کو تمام مذاہب کے لوگوں نے آزاد کرایا

آج ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، ایک جانب تو مشترکہ ثقافت ہے جسے جنگ آزادی کے شہداء نے خون سے سینچا ہے اور دوسری جانب مذہبی جنون ہے جس نے نوجوانوں کو گمراہ کر دیا ہے۔

قومی آوازبیورو

ہماری آزادی کی جنگ کی خصوصیت یہ تھی کے بیرونی حکمرانوں کی طرف سے تمام مذاہب کے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہر حربہ کے باوجود سب متحد ہوکر تحریک میں شامل رہے۔ رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان کی دوستی ہندو مسلم اتحاد کی علامت بن گئی تھی اور دنوں نے دو یا تین دن کے فرق سے جام شہادت نوش فرمایا۔ شمال مشرقی سرحدی صوبہ میں بادشاہ خان یا فرنٹیر گاندھی کی قیادت میں پٹھان مجاہدین آزادی نے عدم تشدد کی تحریک چلائی تو چندر سنگھ گڑھوالی کی قیادت میں اتراکھنڈ کے ہند سپاہیوں نے ان پر گولی چلانے کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ مجاہدین آزادی کو ملک میں ہمیشہ محبت سے نوازا گیا، چاہے وہ مہاتما گاندھی ہون، جواہرلال نہرو ہوں، بھگت سنگھ ہوں یا پھر سبھاش چندر بوس ہوں۔

سنہ 1857 میں انگریز حکومت کے خلاف جو بغاوت ہندوستان میں بھڑکی یوں تو اس سے متعدد راجاؤں نے خود کو علیحدہ کر لیا۔ لیکن جتنے بھی تھے ان سے بھی ہندو مسلم اتحاد نمایاں ہوتا تھا۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اس بغاوت کے بعد ہندو مسلم اتھاد مزید گہرا ہوا۔ بغاوت میں حصہ لینے والے متعدد راجہ اور سپاہی ہندو تھے لیکن انہوں نے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اپنا قائد مان لیا۔

معروف مورخ پروفیسر وپن چندر نے لکھا ہے، ’’1857 کی بغاوت کی طاقت ہندو مسلم اتحاد پر منحصر تھی۔ تمام باغیوں نے ایک مسلمان بادشاہ کو اپنا قائد مان لیا اور تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ مثال کے طور پر بغاوت جہاں بھی کامیاب ہوئی وہیں ہندوؤں کے عقیدے کے پیش نظر فوری طور پر گئو کشی پر روک لگا دی گئی۔ اصل میں 1857 کے واقعات سے یہ واضح ہے کہ اس وقت ہندوستان کے عوام اور سیاست بنیادی طور پر فرقہ پرستی پر مبنی نہیں تھی۔‘‘

اس بغاوت میں ایک جانب منگل پانڈے، لکشمی بائی، جھلکاری بائی، تانتیا توپے، نانا صاحب تھے تو دوسری جانب بخت خان، بیگم حضرت محل اور فیض آباد کے مولوی احمد اللہ تھے۔ دہلی میں بغاوت کی کمان ایک فوجی کمیٹی کے ہاتھ میں تھی جس کے سربراہ بخت خان تھے۔

بہادری کے بے شمار قصوں کے باوجود 1857 کا غدر ناکام رہا اور انگریزون نے راحت کی سانس لی لیکن انہیں یہ فکر بھی کھائے جا رہی تھی کہ ہندو اور مسلمانوں نے متحد ہو کر جنگ کیوں لڑی۔ لہذا فرقہ پرستی کے زہر کو تیز کرنے کی کوشش کی گئی۔

سکریٹری آف اسٹیٹ فانسس ہیملٹن نے 1888 میں کرزن کو خط لکھا اور کہا، ’’اگر ہم تعلیم یافہ ہندوستانیوں کو دو نہایت ہی مختلف نظریہ کے حامل حصوں میں تقسیم کر سکے تو اپنی صورت حال کو مضبوط بنا پائیں گے۔ ہمیں تعلیمی نصاب کی ایسی کتابیں تیار کرنی چاہیں جس سے ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ میں کھائی بڑھ جائے۔‘‘

کراس نے جنرل ڈفرن کو 1887 میں مبارک باد کے لہجہ میں کہا، ’’مذہبی احساسات کی تقسیم سے ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے اور ہندوستانی تعلیم اور نصاب کی کتابوں پر تمہاری جانچ کمیٹی کے سبب کچھ اچھا نتیجہ نکلنے کی امید ہے۔‘‘ بہ الفاظ دیگر یہ کہ بھڑکانے اور تقسیم کرنے والی نساب کی کتابیں چھاپی جائیں۔

انگریز اپنے مقصد میں کامیاب تو ہوئے لیکن اس کے باوجود جنگ آزادی میں تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگ حصہ لیتے رہے اور شہید ہوتے رہے۔

ہندوؤں کی جانب سے لالہ لاجپت رائے، مہاتما گاندھی، لوک مانیہ تلک، موتی لال نہرو، سردار پٹیل، جواہرلال نہرو، چدمبرم پلے، سبھاش چندر بوس، کھدی رام بوس، لالہ ہردیال، چترنجن داس، چندرشیکھر آزاد و دیگر کے نام یاد آتے ہیں تو مسلمانوں کی جانب سے مولانا آزاد، حسرت موہانی، خان عبدالغفار خان، اشفاق اللہ خان، سیف الدین کچلو،آصف علی وغیرہ یاد آتے ہیں۔ پارسیوں میں ڈاکٹر دادا بھائی نوروزی اور بھیکاجی کا نام سبھی کو معلوم ہے، ادھر عیسائیوں میں اینی بیسنٹ اور اے او ہیوم کا نام آتا ہے۔ ناگالینڈ کی رانی گڈالو بھی آزادی کی جنگ میں شامل ہوئی اور انہوں نے اپنی زدگی آسام کی جیل میں گزار دی۔ سکھوں میں سردار اجیت سنگھ، بھگت سنگھ، کرتار سنگھ سرابھا، سوہن سنگھ بھکانا اور دیگر مجاہدین آزادی کو بھلا کون فراموس کر دیتے۔

آزادی کا فائدہ سب سے کمزور طبقات تک بھی پہنچا اور اس کے لئے جن سماجی شخصیات نے کام کیا ان میں ڈاکٹر امبیڈکر اور جیوتی باپھولے کے نام سر فرہرست ہیں۔ آدیواسی طبقات نے بھی کافی بہادری سے انگریزی حکمرانی کے خلاف جنگ لڑی تھی، برسا منڈا جیسے شہیدوں کے نام ہمیشہ یاد رہیں گے۔

جنگ آزادی کی تحریک میں اتحاد لانے کے ارادے سے مسلمانوں نے ایک مرتبہ آریہ سماج کے رہنما سوامی شردھا نند کو مدعو کیا اور کہا کہ وہ دہلی کی جامع مسجد سے تقریر کریں۔ آزاد ہند فوج کے تین ہیرو شاہنواز، گردیال ڈھلوں اور پریم سہگل پر مقدمہ چلا تو ہندو مسلم سکھ کی ایک نئی علامت منظر عام پر آئی۔

جنگ آزادی کی تحریک کے دوران جہاں مذہبی ہم آہنگی کی کئی مثالیں سامنے آئیں وہیں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کی مفاد پرستی بھی اجاگر ہوتی رہی۔ وپن پال لکھتے ہیں، ’’دلچسپ بات ہے کہ ہندو اور مسلم فرقہ پرستوں نے کانگریس کی مخالفت میں مسلم لیگ اور دوسری فرقہ پرست تنظیموں کی صوبائی حکومت سازی میں مدد دی۔ برطانوی حکومت کی حمایت کرنا تمام فرقہ پرست تنظیموں کی خصوصیت تھی۔‘‘

آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سے ایک جانب تو مشترکہ ثقافت کا راستہ ہے جسے جنگ آزادی کے شہیدوں نے اپنے خون سے سینچا ہے اور دوسرا فرقہ پرستی اور مذہبی جنون کا راستہ ہے جس سے نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ آج دوسروں کے مذہبی مقامات پر ہتھوڑے چلانا بہادری میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں پہلے راستے پر ہی چلنا ہے اور گمراہ لوگوں کو دوسرے راستے سے واپس لاکر پہلے راستہ پر لے جانا ہے، وہ راستہ جو مشترکہ ثقافت اور شہادت کا راستہ ہے۔