سماجی

مودی حکومت میں مسلسل بڑھ رہی بھکمری: جی ایچ آئی

حالانکہ گلوبل ہنگر انڈیکس۔ 2018 کی تازہ درجہ بندی میں پاکستان، ہندوستان سے نیچے ہے اور ا سے 106 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

نئی دہلی: ملک کے ہرشخص تک غذا پہنچا نے کا دعویٰ کرنے والی مرکز کی مودی حکومت میں ہندوستان کی تصویر پر ایک اور 'داغ‘ لگا ہے۔ سال 2018 کے ’گلوبل ہنگرانڈیکس‘ نے بھکمری کو دور کرنے کی ہندوستان کی کوششوں کو تگڑا جھٹکا د یتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وقت میں ہندوستان کی درجہ بندی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ 119 ممالک کی فہرست میں ہندوستان 103 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان گزشتہ گلوبل ہنگر انڈیکس میں 100 ویں نمبر پر تھا۔ غو ر طلب ہے کہ سال 2014 میں مرکز میں وزیراعظم نریندرمودی کی زیر قیادت حکومت کے قیام کے بعد سے گلوبل ہنگرانڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی میں مسلسل گراوٹ آئی ہے۔

سال 2014 میں ہندوستان اس فہرست میں جہاں 55 ویں نمبر پر تھا تو وہیں 2015 میں 80 ویں، سال 2016 میں 97 ویں اور گزشتہ سال 100 ویں پا ئیدان پرآگیا۔ مگرحالیہ دنوں میں مرکز کی بی جے پی حکومت کی جانب سے تقریباً ہرروز روزگار، غذا اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ببانگ دہل کئے جارہے دعووں کے درمیان رواں سال ہندوستان کی پوزیشن گلوبل ہنگرانڈیکس کی درجہ بندی میں 3 پائیدان مزید گرگئی ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس (جی ایچ آئی) کی شروعات سال 2006 میں بین الاقوامی خوراک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے کی تھی۔ ویلٹ ہنگر لائف نام کے ایک جرمن ادارے نے 2006 میں پہلی بار گلوبل ہنگر انڈیکس جاری کیا تھا۔ اس بار یعنی 2018 کی فہرست اس کا13 واں ایڈیشن ہے۔ اس فہرست میں دنیا کے تمام ممالک میں کھا نے پینے کی صورتحال کا تفصیلی بیورا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لوگوں کو کس طرح کی اشیائے خورد ونوش مل رہی ہیں۔ اس کا معیار اور مقدار کتنا ہے اور اس میں کیا خامیاں ہیں۔ جی ایچ آئی درجہ بندی ہرسال اکتوبر میں جاری کی جاتی ہے۔

ہندوستان غربت اور بھوک کو دور کرکے ترقی پذیر ممالک کی قطارمیں شامل ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگا رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے لئے مختلف طرح کی کئی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں، پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں اور اسی کے مطابق ترقیاتی کام کئے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ’2018 کثیر جہتی عالمی غریبی فہرست‘ کی مانیں تو مالی سال 2005-06 سے 2015-16 کے درمیان ایک دہائی میں ہندوستان میں 27 کروڑ افراد خط افلا س سے باہر نکل گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس میں امریکی صد ر ڈونا لڈ ٹرمپ نے اس کے لئے ہندوستان کی تعریفوں کے پل باندھے تھے۔ لاکھوں لوگوں کو خط افلاس سے باہر نکالنے کی خبروں پر انہوں نے مودی حکومت کی خوب پیٹھ تھپتھپائی تھی۔ لیکن گلوبل ہنگر انڈ یکس نے تمام دعووں اور اعدا د و شمار پرسنگین سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

گلوبل ہنگر انڈیکس- 2018 میں ہندوستان کی حالت نیپال اور بنگلہ دیش جیسے چھوٹے پڑوسی ممالک سے بھی خراب ہے۔ اس سال جی ایچ آئی میں بیلا روس سب سے اوپر ہے۔ تو وہیں ہندوستان کے ہمسایہ چین 25 ویں، بنگلہ دیش کو 86 ویں، نیپال کو 72 ویں، سری لنکا کو67 ویں اور میانمار کو 68 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ حالانکہ اس درجہ بندی میں پاکستا ن، ہندوستان سے نیچے ہے اور اسے 106 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ہند وستان کی درجہ بندی میں ہر سال گراوٹ

2014 میں 55واں نمبر

2015 میں 80 واں نمبر

2016 میں97 واں نمبر

2017 میں 100 واں نمبر

2018 میں 103 واں نمبر

جی ایچ آئی-2018 میں ہندستان کے ہمسایہ ممالک کی حالت

چین 25 ویں نمبرپر

سری لنکا 67 ویں نمبر پر

میانمار 68 ویں نمبرپر

نیپال 72 ویں نمبرپر

بنگلہ دیش 86 ویں نمبرپر

ملائیشیا 57 ویں نمبر پر

تھائی لینڈ 44 ویں نمبرپر

پاکستان 106 ویں نمبرپر