سماجی

سر سید نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے باہر نکالنے کی سخت جدو جہد کی

سر سید کو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے اور انہوں نے اس کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

محمد خان مصباح الدین عالیاوی

سر سید احمد خاں کی ولادت 17؍اکتوبر1817ء کو دہلی کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ جس کا تعلق مغلیہ خاندان سے کافی اچھا تھا، آباؤ اجداد شاہجہاں کے عہد میں ہرات سے ہندوستان آئے تھے۔شاه غلام علی نقش بندی مجددیدی دہلوی نے ’’احمد‘‘نام رکھا اور بڑے ہونے کے بعد ابتدائی تعلیم بھی دی۔ سر سید کی ابتدائی تعلیم وتربیت خالص مذہبی اور روحانی ماحول میں ہوئی، کیوں کہ ان کے والد اور دیگر افراد خانہ کو دہلی کے دو اہم علمی وروحانی مراکز خانقاہ نقش بندیہ اور خانوادۂ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے گہری عقیدت اور والہانہ تعلق تھا۔ دستور زمانہ کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا فرید الدین احمد خان سے بھی حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم میں آپ نے قرآن پاک ناظرہ پڑھا اور عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے حساب، طب اور تاریخ میں بھی مہارت حاصل کی۔
سر سید کا تعلق اس خاندان سے تھا، جو صدیوں سے علم و حکمت، فلسفہ و روحانیت اور مریدی کا مرکز رہا۔ سر سید بے پناہ دنیاوی فضائل و کمالات کی شخصیت تھے۔ ہم ان کی کن کن خوبیوں کایہاں ذکر کریں۔ ان کے علمی افکار، اعمال کا پیمانہ جماعتی، گروہی تعصب سے پاک تھا۔ ان کا ظرف، انتہائی اعلی اور ذہنی سطح انتہائی بلند و ارفع تھی۔ علم و فن، فلسفہ و معارف، کا عکس ان کی باتوں میں عیاں تھی متعدد زبانوں پر دسترس، کتنی ہی اہم باتیں سر سید کی شخصیت میں شامل تھیں۔ گویا متعدد کمالات ایک انسانی ڈھانچہ میں اتار دیا گیا ہو۔ سر سید کو سمجھنے کے لئے کافی وقت درکار ہے۔

منزل بہ منزل!

ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنے خالو مولوی خلیل اللہ سے عدالتی کام سیکھا۔ پھر 1837ء میں آگرہ میں کمشنر کے دفتر میں بطور نائب منشی کے فرائض سنبھالنے لگے۔ 1841ء اور 1842ء میں میں پوری اور 1842ء اور 1846ء تک فتح پور سیکری میں سرکاری خدمات سر انجام دیں۔ محنت اور ایمانداری سے ترقی کرتے ہوئے 1846ء میں دہلی میں صدر امین مقرر ہوئے۔ دہلی میں قیام کے دوران میں آپ نے اپنی مشہور کتاب "آثارالصنادید” 1847ء میں لکھی۔ 1857ء میں آپ کا تبادلہ ضلع بجنور ہو گیا۔ ضلع بجنور میں قیام کے دوران آپ نے اپنی کتاب ’’سرکشی ضلع بجنور‘‘ لکھی۔ جنگ آزادی ہند 1857ء کے دوران آپ بجنور میں قیام پزیر تھے۔ اس کٹھن وقت میں آپ نے بہت سے انگریز مردوں، عورتوں اوربچوں کی جانیں بچاکر انسانیت کاثبوت دیا۔ آپ نے یہ کام انسانی ہمدردی کیلئے کیا۔ جنگ آزادی ہند 1857ء کے بعد آپ کو آپ کی خدمات کے عوض انعام دینے کیلئے ایک جاگیر کی پیشکش ہوئی جسے آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

1857ء میں آپ کو ترقی دے کر صدر الصدور بنا دیا گیا اور آپ کی تعیناتی مراد آباد کر دی گئی۔ 1862ء میں آپ کا تبادلہ غازی پور ہو گیا اور پھر 1867ء میں آپ بنارس میں تعینات ہوئے۔

1877ء میں آپ کو امپریل کونسل کارکن نامزد کیا گیا۔ 1888ء میں آپ کو سر کا خطاب دیا گیا اور 1889ء میں انگلستان کی یونیورسٹی اڈنبرا نے آپ کو ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ اور1864ء میں غازی پور میں سائنسی سوسائٹی قائم کی۔

ان کی زندگی کے احوال کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا دور 1817 تا 1837 ہے جو ان کے بچپن جوانی اور تعلیم کا دور ہے جس دور میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔

دوسرا دور 1838 تا 1857 کا احاطہ کرتا ہے۔ اس دور میں سرسید کی بہت سی مشہور تصانیف منظرعام پر آئیں۔ اس دوران انھوں نے نوکری، دیگر ادبی خدمات انجام دیں۔ تیسرا دور 1877 تک محیط ہے۔ اس دور میں انھوں نے قوم کے مابین اتحاد و اتفاق میل جول اور بھائی چارے پر زور دیا ہے، اس دور میں انھوں نے لندن کا سفر کیا اور وہاں کی یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام سے بہت متاثر ہوئے، اور انھوں نے لندن ہی میں اپنے ذہن میں ‘ایک خاکہ بنا لیا تھا کہ ہندوستان میں ایک عظیم یونیورسٹی مسلمانوں کے لیے قائم کریں گے۔

علی گڑھ تحریک!

سرسید نے اس تحریک کا آغاز جنگ آزادی سے ایک طرح سے پہلے سے ہی کر دیا تھا۔ غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ لیکن جنگ آزادی نے سرسید کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے اور ان ہی واقعات نے علی گڑھ تحریک کو بارآور کرنے میں بڑی مدد دی۔ لیکن یہ پیش قدمی اضطراری نہ تھی بلکہ اس کے پس پشت بہت سے عوامل کارفرما تھے۔1857 کی جنگ آزادی میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی شکست ہوگئی، اور مکمل طور سے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔

1857 کی جنگ آزادی سے ہندوستانی مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان سب سے زیادہ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی اس جنگ میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور انگریزوں کا ماننا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں، اس جنگ آزادی کے ردِّعمل میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ خسارہ ہوا۔ غدر 1857 نے حکومت کو ہندوستانیوں خاص کر مسلمانوں سے حد سے زیادہ برہم کردیا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی زندگی اس ملک میں دشوار ہوگئی۔ کتنے مسلمانوں کو غدر کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی کتنے کے گھروں کو اجاڑ دیا گیا۔ ان کی جائیدادیں اور ان کی املاک کو ان سے نہایت بے دردی سے چھین لی گئی ان پر روزی روزگار کے تمام راستے بند کردئیے گئے مسلمان زمینداروں، تعلقہ داروں اور اس قوم کے سربرآوردہ اشخاص کی عزت و آبرو سبھی کچھ برباد کردی گئی، غریب مسلمانوں کے چھوٹے موٹے پیشے اور کاروبار کو تباہ کردیا گیا جس سے صنعت گر، اور ہنرمند مسلمانوں کی بھی روزی ماری گئی۔ اس طرح مسلمانوں کے اندر معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی ہر اعتبار سے بدحالی پیدا ہوگئی۔

سرسیداحمد خان نے 1857 کی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس نازک دور نے سرسید کو ذہنی کشمکش اور عجیب پریشانی میں مبتلا کردیا تھا۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے برطانوی نظر سے مسلمانوں کے خلاف قائم کو دور کرنے کی پیہم کوشش کی اور مسلمانوں کی فوز و فلاح کے لیے مشکل سے مشکل کام کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور وہ اپنے اس عظیم مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ اس تحریک کےکئی پہلوئوں میں نئے علوم کا حصول، مذہب کی تفہیم، سماجی اصلاح اور زبان و ادب کی ترقی اور سربلندی شامل ہیں۔ جبکہ رشید احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ اس تحریک کے مقاصد میں مذہب، اردو ہندو مسلم تعلقات، انگریز اور انگریزی حکومت، انگریزی زبان، مغرب کا اثر اور تقاضے وغیرہ چند پہلو شامل ہیں۔ سرسید احمد خاں برصغیر میں مسلم نشاتِ ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ انہوں نے مسلمانوں میں بیداری علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ انیسویں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انھیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی آپ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔ ” سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان ” سائیس، خانساماں ، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ … سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جِدوجُہد کرتے رہے اور اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔