سماجی

سر سید مسلمانوں کے لئے نشاۃ ثانیہ کی علامت اور جدید ہندوستان کے معمار تھے

ملت اسلامیہ اس وقت نہایت نازک دور سے گزر رہی ہے، ہر جانب انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ذرا سی بات کو لیکر بدنام کیا جارہا ہے، ان سب مسائل کا علاج سرسید کے پیغام میں پو شیدہ ہے۔

سر سید احمد خاں تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ایم۔ یو۔ خان (علیگ)

ہندوستان میں مسلمانوں کی تقدیر کوتعلیمی سطح پر جن لوگوں نے بدلنے کا کام کیا ان میں سب سے اہم نام سیرسیّد احمد خاں کا ہے۔ انہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے اسے رہتی دنیا تک امت مسلمہ فراموش نہیں کر سکتی کیونکہ سر سید علیہ رحمہ نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی قسمت کو سنوارا بلکہ پورے ملک کو علم کی شمع سے روشن کرنے کا کام کیا۔سرسید سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ وہ مسلمانوں کے لئے نشاۃ ثانیہ کی علامت ہیں، جدید ہندوستان کے معمار، عظیم مصلح قوم، ادیب، صحافی، دانشور، مفکر قوم، مدبر اور نہ جانے کن کن خوبیوں کے مالک تھے محض قومی خدمت اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے دنیا میں آئے تھے تو غلط نہ ہوگا۔ ہر لمحہ ان کو ایک ہی فکر تھی کہ کس طرح ملت اسلامیہ کی تعلیمی بدحالی کو دور کیا جائے تاکہ وہ جدید تعلیم کی روشنی میں اپنے مسائل کا تدارک کر سکے کیونکہ سر سید نے اپنی آنکھ سے جہالت کی زنجیروں میں قید مسلمانوں کوظلم زیادتی برداشت کرتے بے بسی کی حالت میں دیکھا تھا اوربعد میں یہی تاریخ خون سے رقم کی گئی۔

سرسید ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اپنی قوم کی حالت پر محض آنسو بہاکر رہ جاتے۔ انہیں قوم کو اس بدحالی سے نکالنے اور موجودہ حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے صرف تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار نظر آیا جس کو مسلمانوں کو عزت کی زندگی بسر کرنے اور ان کو کھویا ہوا وقاردلانے کے لئے انگریزوں کے خلاف استعمال کیا جاسکتا تھا۔ سرسید کا یہی تصور محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے قیام کا سبب بنا ۔اس دانش گاہ کے قیام سے سرسیدکا مقصد صرف قوم کو تعلیم یافتہ بناکر عزت کی زندگی بسر کرنے کے لائق بنانا نہیں تھا بلکہ قوم کو اس قابل بنانا بھی تھاکہ اس کے فرزندجہاں جائیں اپنی منفرد شناخت قائم کریں، وہ جس مقام پر ہوں وہاں ان جیسا دوسرا کوئی نہ ہو۔

سر سید کا یہ فلسفہ حیات کس قدر قوی و مضبوط تھا کہ وہ اپنی قوم کے ہر نوجوان کے ایک ہاتھ میں سائنس اور فلسفہ تو دوسرے ہاتھ میں قرآنِ پاک اور ماتھے پر لا الہ اللہ کا تاج جگمگاتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے اور اپنے اس خواب حقیقت کو انہوں نے اپنی زندگی ہی میں پورا کرکے دیکھااور آج سر سید کے انتقال کے سوبرس کی مدت کے بعد بھی ہر نو نہال امت ان کے اسی فلسفہ کی جانب نہ صرف مسلسل گامزن ہے بلکہ اپنے بزرگ محسن کو ہر گام پر خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔

اس عظیم الشان درسگاہ کے بانی سرسید آل رحمۃ کو درسگاہ کی بنیاد رکھتے وقت یہ یقین ضرور رہا ہوگا کہ ایک نہ ایک دن یہ ادارہ وسیع پیمانے پر ملک وقوم کی خدمات انجام دے گا اور قوم و ملت کے مفلوک الحال افراد کو تعلیم کے زیور ات سے آراستہ کرکے ان کی زندگی بہتر بنائے گا اور ان کو علم کی تشنگی سے سیراب کرے گا۔ قوم نے بھی سرسید کے اس یقین پرلبیک کہا سر سید کے اس خواب کی پہلی تعبیر 1920 میں یونیورسٹی کی منظوری کی شکل میں مسلمانان ہند کو حاصل ہوئی اور اس کے بعد سرسید کے رفقاء ،اور مقلدین نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔حالانکہ اس عظیم الشان ادارہ کی ترقی و ترویج میں بہت سے محسنوں کو سیاسی چقلسوں اور ہنگاموں کا سامنا بھی کرنا پڑا خود سرسید ؒپر کفر و الحاد کے فتوے لگائے گئے یہ بھی کہا گیا کہ سیرسیدکی تحریک نوجوانوں کو تعلیم کے نام پرمذہب سے دور گمراہیت کی جانب لے جا رہی ہے اور یہ تعلیم ہندوستانیوں کو اپنی تہذیبی اقدار سے محروم کردے گی اور قوم کو ایک مصنوعی زندگی اور نمائشی اخلاق کا عادی بنادے گی۔

دور سر سیدمیں ان کی کاوشوں پر اس قدر تنقید کی گئی کہ علماء نے نہ صرف ان کے خلاف فتوے دیئے بلکہ ملت اسلامیہ کو بہکانے و رائے عامہ کو تیار کرنے کے لئے کہا گیا کہ سرسید اپنے کالج کے ذریعہ مغربی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں غرض کہ ان تمام طرح کے الزامات کا سلسلہ سر سید کے ساتھ ان کی حیات تک جاری رہا لیکن انہوں نے ملت اسلامیہ کو تعلیمی روشنی سے جہالت کی تاریکی سے باہر نکالنے کا جو عزم کیا اس کو تمام مخالفتوں کے با وجود جاری رکھ کرپورا کیا ۔ اگرملت اسلامیہ کی مخالفت کی بات کی جائے تو وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اور اس کی ایسی درجنوں تازہ مثالیں مل جائیں گی، جنہیں سامنے رکھ کر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ خلفشار نے قوم کو ہمیشہ منتشر کررکھا ہے اگر احاطہ کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ سر سید کے بیٹے جسٹس سید محمود،علی یاور جنگ،سید حامد،محمد نسیم فاروقی،محمود الرحمن جیسی عظیم شخصیات کو مخالفین کی چہ میگوئیوں اور ادارہ کی اندرونی سیاست و خلفشار نے سکون سے کام کرنے نہیں دیا۔

ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ حالات کا محاسبہ کرنے کے لئے سچیر کمیٹی ،مشرا کمیشن کا قیام عمل میں آیا۔سچر کمیٹی رپورٹ پارلیمنٹ میں سونپی گئیں اس روپورٹ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیمی سماجی و معاشی بد حالی کا بالخصوص تفصیل سے ذکر کیا گیا جس کا انکشاف ہونے کے بعد قوم و ملت کا کوئی ہمدرد اور حساس فرد چین و سکون سے نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ ملت اسلامیہ کی یہ تباہی و بربادی اور خستہ حالی ہماری قوت بصارت اور قوت سماعت سے اب تک پوشیدہ تھی۔

بانی درسگاہ اور معمار قوم سرسید کے وسیع النظر تعلیمی نظریہ کو صرف علی گڑھ کی حدوں میں مقفل ومحدود کرکے نہیں رکھاجاسکتا کیونکہ سر سید کی ذات اپنے آپ میں خود ایک تعلیمی تحریک تھی اور تحریکیں نہ تو کسی کی جاگیر ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی علاقہ متعین ہوتا ہے۔تحریکیں تو آہستہ آہستہ تمام دنیا کو اپنے احاطہ میں کرلیتی ہیں اور ہرشخص ان سے مستفیض ہوتا ہے۔

سر سید نے بھی سر چشمہ علم سر زمین علی گڑھ سے جاری کیا تھا ان کا خواب تھا کہ اس علم کے چشمہ کے سوتے دور دور تک پھو ٹیں اور آنے والی ہزاروں لاکھوں نسلیں اس سرچشمہ علم سے سیراب ہوکر دنیا کے گوشہ گوشہ میں تعلیم کے پیغام کو عام کریں۔لیکن افسوس بنگال ،بہار،مدھیہ پردیش اور اسی طرح ملک کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے جہالت زدہ ،ناخواندہ اور مفلس مسلمانوں کی تشنگی کو بجھانے کا خاطر خواہ انتظام نہ ہوسکا اور لاکھوںمسلم نوجوان خواہش رکھنے کے باوجود ناخواندگی اور بد حالی کی زندگی گزارنے کو مجبور ہوگئے۔کیونکہ ان مظلوم مسلمانوں کی بد حالی کا انکشاف سچر کمیٹی کی رپورٹ سے قبل ملک گیر سطح پر کبھی ہوا ہی نہیں تھا مثال کے طور پر صرف مغربی بنگال کے مسلمانوں کی خستہ حالی کا ہی جائزہ لے لیجئے ملک کو آزاد ہوئے 65 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک وہاں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے نہ کوئی کالج ہے اور نہ ہی میڈیکل کالج،انجینیرنگ کالج،ڈینٹل کالج موجود ہے۔

سر کاری اعدادو شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی28 فیصد ہے لیکن سر کاری نوکریوں میں مسلمانوں کی شمولیت صرف ڈیڑھ فیصد ہے مغربی بنگال کے قصبات اور گاؤں کا دورہ کریں گے تو آپ پر خود بخود یہ راز فاش ہوجائے گا کہ وہاں بسنے ولے کثیر تعداد عوام کے پاس ضروریات زندگی کی اشیاءکی بے پناہ قلت ہے جسم ڈھانپنے کے لئے مکمل لباس نہیں اور پیٹ بھر کھانے کو روٹی نہیں تو آپ ایسی قوم و طبقہ کے لوگوں سے کیسے امید کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے نو نہالوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوسرے صوبوں میں بھیجیں گے اس کی مثال اس بھو کے شخص کی طرح ہے جس کی ایک جانب کاغذو قلم دوات ہو اور دوسری جانب کھانے کے لئے نان رکھا ہو تو ظاہر بات ہے کہ کسی بھو کے شخص کے لئے کھانے کی اہمیت ہے اس کو کاغذ ،قلم ،دوات سے کیا سرو کار وہ تواپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کھانے کی طرف ہی لپکے گا ۔ایسی خستہ حال زندگی گزارنے کے باوجود بھی وہاں کے لوگ اپنے دین و مذہب پر قائم ہیں یہ کیا کم بڑی بات ہے ۔

مغربی بنگال کے لوگوں کے لئے روز گار کے وسائل کی بات کریں تو جمعرات کے روز لاکھوں کی تعداد میں غریب مسلمان جن میں خواتین،بوڑھے اور بچے شامل ہیں اپنے پیٹ کو بھرنے کے لئے بھیک مانگنے کے لئے کلکتہ کا رخ کرتے ہیں ۔ہر جمعرات کو آپ یہ نظارہ کولکاتہ کے مسلم محلوں ،مسجدوں اور ہو ٹلوں کے سامنے آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔سر سید نے اپنے تعلیمی مشن کی ابتداء قوم کی بد حالی کو دیکھ کر ہی کی تھی ان کا کہناتھا کہ قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ تعلیم (اعلی تعلیم)سے روشناس نہیں ہوگی سر سید کی اس تحریک کے پہلے حقدار مفلوک الحال مسلمان ہی ہیں۔

مسلم یونیورسٹی کے ملاپورم اور مر شد آباد میں نئے مراکز قائم کر نے کا فیصلہ مسلم یو نیورسٹی کی تاریخ میں ایک انقلابی اور قابل ستائش قدم تھا کیوں کہ ان کے ذریعہ سر سید کی خوابوں کی تعمیل ہوگی اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سر سید نے بھی مفلوک الحال مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے مختلف مقامات جیسے بریلی،اٹاوہ،بدایوں غرض کے بہت سے مقامات پر اسکولوں اور کالجوں کا قیام کیا تھا تاکہ ہماری قوم کے زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کرکے معاشرے سے جہالت کی تاریکی کومٹا سکیں تاکہ ہمارے معاشرے میں علم کی شمع روشن ہوجائے۔لیکن مسلم یونیورسٹی کے ملا پورم اور مر شد آباد میں کھولے گئے تعلیمی مراکز کو لیکر اعتراض جتا نے والے چند حضرات کی یہ دلیل ہے کہ اگر مسلم یونیورسٹی کے مراکز دوسرے صوبوں میں کھو لے جائیں گے تو جو بچے باہر سے آکر یہاں کی تہذیب و ثقافت سیکھتے ہیں اس کا خاتمہ ہوجائیگا۔

لیکن ان معترض حضرات نے کبھی اس جانب غور و خوض نہیں کیا کہ ہماری قوم ان مراکز میں تعلیم حاصل کرے گی تو وہ جہالت کے اندھیرے سے نکل کر ایک بہتر اور تہذیب یافتہ زندگی گزارنے میں کامیاب ہو گی معترض حضرات کو مسلم یونیورسٹی کے ان خصوصی مراکز کے قیام پر اعتراض کرنے کے بجائے اس جانب توجہ دینی چاہئے کہ آخر و ہ کون سے اقدا مات کئے جائیں جو مسلم نوجوانوں کے لئے بہتر اور موثر ثابت ہوں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آزادی کے بعد سے ہی آئے دن دشمنوں کے عتاب کا شکار ہوتی رہی ہے مختلف کورسوں اور درجات میں طلباء و طالبات کے لئے محدود نشستیں اور دوسری جانب آزادی کے بعد سے مسلمانوں کی آبادی تقریبا 35 کروڑ پہنچ چکی ہے ایسے تعلیمی مراکز کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے ۔اگر ایسے میں مسلم یونیورسٹی کے مراکز دوسرے صوبوں میں قائم کرکے قوم و ملت کے فرزندان کو زیادہ سے زیادہ تعلیم کے مواقع فراہم کرائے جانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ملک کا مسلم نوجوان ترقی کی راہ پر تیزی کے ساتھ گامز ن ہو سکے ۔ نہایت فخر اور خوشی کا موقع ہے کہ ہماری قوم و ملت کے ایسے نونہال تعلیم کے زیور سے بہرہ ور ہوں گے جو سہولیات فراہم نہ ہونے کے سبب علم حاصل کرنے کے لئے دور دراز علاقوں کا سفر نہیں کرسکتے تھے یہ تو سر سید کے تعلیم مشن کو فروغ دینے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

جو لوگ مرشد آباد اور ملا پورم میں مسلم یونیورسٹی کے مراکز کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں وہ سر سید کے تعلیمی مشن کے حامی ہیں یا مخالف یہ ذرا مشکل فیصلہ ہے جو انہیں خود دل پرہاتھ رکھ کر لینا ہے در اصل یہ لوگ علم کی تشنگی سے واقف ہی نہیں ہیں جس طرح ایک شکم سیر انسان بھوک کی تکلیف کے احساس نہیں سمجھ سکتا اسی طرح ایک تعلیم یافتہ شخص جہالت کے کرب کو کیسے سمجھ سکتا ہے یہ ایک مبہم اور غیر مستند سا جواز ہے کہ دوسرے صوبوں میں یونیورسٹی کے مراکز کے قیام سے اس عظیم الشان درسگاہ کا تشخص خطرے میں پڑ جائیگا لیکن کیا کبھی اس جانب مثبت طریقہ سے بھی غوروفکر کیاہے کہ ملا پورم اور مرشدآباد میں اس عظیم الشان ادارے کے مراکز قائم ہونے سے ہماری قوم و ملت کے کتنے نو نہال پسماندگی سے نکل کر دوسرے ترقی یافتہ مذاہب کے لوگوں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں گے اور یہی نونہال آگے جاکر ملک کا مستقبل ہوں گے اور ملک کی باگ ڈورانشاءاللہ ان ہی کے ہاتھوں میں ہوگی۔

ملک اور صوبہ کی سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی تعداد نہ کے برابر ہے اس میں اضافہ ہوگا اور ایک دن ایسا آئے گا کہ قوم کا کوئی نونہال نا خواندگی کی زندگی گزارنے کو مجبور نہیں ہوگا انشاء اللہ اور اس طرح مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت اور وقار دوبارہ حاصل کر نے میں کامیاب ہوجائیں گے۔سر سید نے علی گڑھ میں جب اس ادارے کی بنیاد ڈالی تھی اس وقت یہاں تہذیب و تمدن اور اقدار نام کی شاید ہی رہی ہواور نہ ہی اس نظریہ کے تحت انہوں نے اس ادارہ کو قائم کیا تھا لیکن رفتہ رفتہ یہاں تہذیب و ثقافت خود بخودعمل میں آتی گئی اور وہی ادارے کا سب سے خوبصورت پہلو ابھر کر سامنے آیا اور بالآخر اس کا نصیب بھی بن گیا۔ کسی بھی ملک یا صوبہ سے جو بھی طالب علم یہاں علم حاصل کرنے کی غرض سے آیا وہ یہاں کی تہذیب و اقدار کو اپنا تا گیا۔

تاریخ شاہد ہے کہ ایم اے او کالج سے مسلم یونیورسٹی تک اس ادارے کے فرزند جہاں بھی گئے انہوں نے نہ صرف علی گڑھ بلکہ ملک کا پرچم بلند کیا ان میں ملک کے نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کا نام دور حاضر میں مثالی طور پر سر فہرست رکھا جا سکتا ہے ۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جس میں دانش گاہِ سید کے فرزندان نے وہ وقار و افتخار حاصل نہ کیاہوجو کسی دیگر ادارہ کا نصیب نہ بن سکا۔تہذیب و تمدن ،ثقافت وروایات کی نشرو اشاعت کی کوئی عملی شکل نہیں ہوتی۔بنگالی،ملیالم،مراٹھی،تمل ،تیلگو،اڑیہ زبانوں والے افراد کے صوبوں یا شہروں تک سر سید کا پیغام پہنچانے کی مخالفت سر سید تحریک اور ان کے مشن سے انحراف ہے۔جب ان کی تحریک عام ہوگی اور بچے تعلیم یافتہ ہونگے تو تہذیب خود بخود ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جا ئے گی۔

مغربی بنگال میں موجود مرشدآباد نوابین کا شہر رہا ہے جن کا کلچر ،تہذیب و تمدن کسی طرح بھی نوابین اودھ سے کم نہیں ہے غرض کہ تہذیب و ثقافت کو ڈھال بناکرمراکز کے قیام کی مخالفت کرنا انصاف پسند فعل نہیں ہے۔سر سید اور ان کے مشن سے محبت رکھنے والوں کو چاہئے کہ وہ سر سید کی تقلید کرتے ہوئے قوم کو جہالت کے اندھیرے سے نکالنے کے لئے دوسرے صوبوں تمل ، تیلگو،مہاراشٹر،بہار، پنجاب،بنگال و کرناٹک جیسے صوبوں میں مزید تعلیمی مراکز قائم کیےجائیں تاکہ سر سید کے تعلیمی مشن کو فروغ حاصل ہو سکے اور اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیں تاکہ مورخ انہیں سر سید کا سچا ہمدرد اور علی گڑھ تحریک کا سپاہی لکھنے کو مجبور ہو جائیں۔ ملت اسلامیہ اس وقت نہایت نازک دور سے گزررہی ہے اور ہر جانب ان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ایک ذراسی بات کو لیکر انھیں طرح طرح سے بدنام کیا جارہا ہے ان سب مسائل کا علاج سرسید کے پیغام میں پو شیدہ ہے دین کے ساتھ ساتھ علوم دنیا کا حصول ہماری قوم کے بہت سے امراض دور کرسکتا ہے ہر اس جگہ جہاں ہماری قوم وملت کے افراد وسائل نہ ہونے کے سبب جہالت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

یہ کمال تھا سرسید کی اس فکر کا جس میں تعلیم سے زیادہ تربیت پر زور دیا گیا تھااور یہی وجہ تھی کہ ایک دور میں یہاں کے اساتذہ تہذیب و تمدن کا سرچشمہ اور طلباسعادت مندی کے ساتھ علم و ہنر کی زندہ مثا ل تصور کئے جاتے تھے۔دیگر افرادان کی شائستگی سے سبق لیا کرتے تھے اور ان کی سعادت مندی کی مثالیں پیش کی جاتی تھیں۔آج ہم یکسر بھول چکے ہیں کہ سرسید نے اس دانش گاہ کے قیام کے لئے کس قدر مصیبتوں کا سامنا کیا۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے کس طرح قطرہ قطرہ جمع کرکے سمندر بنایا ۔ اپنی تمام ضروریات، تمام عیش و آرام کوخیر باد کہہ کر ملت کی فلاح کے لئے اس مدینۃالعلم کوقائم کرنے میں انہیں کیسے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور یہ سب انہوں نے صرف اور صرف قوم کے لئے کیا تھا۔ اس قوم کے لئے جس کا درد ان کے دل میں دھڑکنوں کے ساتھ بسا ہوا تھا ۔سرسیّد قوم کے اندر ایک ایسا جذبہ بیدار کرنا چاہتے تھے جس کے ذریعہ قوم میں حقوق کو حاصل کرنے کی طاقت اورصلاحیت پیدا ہوجائے بقول سر سید ’’ہندوستان کی ایسی تعلیم چاہتاہوں کے اس کے ذریعے اُن کے حقوق حاصل ہونے کی قدرت ہوجائے ، اگر گورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق اب تک ہم کو نہیں دیے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہوتو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیزہے کہ خواہ مخواہ طوعاً کرہاً ہم کو دلا دے گی۔

غرض کہ سر سید آل رحمہ اپنی قوم کے تئیں ہمشہ نہایت فکر مند رہتے تھے ہر لمحہ انہیں ملت اسلامیہ کے فرزندوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ترقی کی راہ پر لے جا کر کھڑا کرنے کی فکر لاحق رہتی تھی تاکہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں قدم سے قدم ملا کر شان کے ساتھ چل سکیں۔سر سید نے مسلمانوں کو جدید و اعلیٰ تعلیم سے روشناس کرانے و ملت میں اس کے فروغ کے لئے ملک کے متعدد علاقوں میں اسکول کھولنے و سوساٹیاں بنانے کا کام کیا وہ جہاں بھی رہے انہوں نے مسلمانوں میں جدید تعلیم کو فروغ دیا کیوں کہ سر سید چاہتے تھے ملک بھر کا ہر مسلم نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرے تاکہ تر قی کا جو راستہ جدید تعلیم (سائنس و ٹیکنا لوجی) سے ہوکر گزرتا ہے اس کو مسلمانوں میں عام کیا جائے۔سر سید کی ان تمام کاوشوں اور مثبت عمل کے سبب اگر یہ کہا جائے کہ مرشدآباد اور ملا پورم میں واقع مسلم یونیورسٹی کے تعلیمی مراکز سر سید کے سارے ہندوستان میں تعلیمی مشن کو فروغ دینے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے تو غلظ نہ ہوگا۔ سر سید جب ملک کے ہر فرد کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتے تھے اس لئے ان کا مشن اس وقت تک قطعی پورا نہ ہوگا جب تک کہ ملک کا ہر مسلم نوجوان تعلیم یافتہ ہوکرترقی کی منازل طے نہیں کر لیتا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ جن علاقوں میں تعلیمی اداروں کا فقدان ہے وہاں مثبت اقدامات کئے جائیں اور دور دراز کے علاقوں میں نا خواندگی کی زندگی بسر کرنے والے مسلم افراد کو تعلیم دے کر سر سید کے تعلیمی مشن کو فروغ دینے کی سخت ضرورت ہے۔