ضرورت ہے براہیمی اولوالعزمی کی مومِن کو...

عام فہم زبان میں قربانی کی تعریف بیان کریں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قربانی اس عظیم واقعہ کی یادگار ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے معصوم بیٹے اسماعیل کو راہ خدا میں قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آفتاب احمد منیری

عیدالاضحی کا شمار اسلام کی دو اہم عہدوں میں ہوتا ہے جو ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو پورے عالم اسلام میں عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔ اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عیدین کی ابتدا ہجرت کے بعد 624ء میں ہوتی ہے۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل اہل یثرب دو عیدیں مناتے تھے جن میں وہ دنیوی کھیل تماشوں میں مشغول رہتے اور دیگر لغو کاموں کو انجام دیتے تھے۔ مدینہ آمد کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یثرب سے ان دو عیدوں کی حقیقت دریافت کی تو انھوں نے عرض کیا کہ زمانۂ قدیم سے ہم اسی طرح دو عیدیں مناتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سن کر امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر دو دن تمھیں عطا کیے ہیں۔ ایک عیدالفطر کا دن اور دوسرا عیدالاضحی کا دن۔‘‘ (ابو داؤد)

عیدالاضحی کے متعلق یہ معلوم بات ہے کہ یہ سنت ابراہیمی ہے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے ’’صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی یہ حج اور یہ قربانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ تمھارے والد حضرت ابراہیم کی سنت ہے۔‘‘ اگر ہم عام فہم زبان میں قربانی کی تعریف بیان کریں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قربانی اس عظیم واقعہ کی یادگار ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے معصوم بیٹے اسماعیل کو راہ خدا میں قربانی کے لیے پیش کر دیا تھا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی حیات مبارکہ پر اگر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ انھیں رب کریم نے قدم قدم پر آزمائشوں میں مبتلا کیا اور امام الموحدین سیدنا حضرت ابراہیم رب کی عطا سے ہر امتحان میں سرخرو ہوئے۔ حضرت ابراہیم جب عالم شباب میں پہنچے تو قوم میں رائج بت پرستی کی مخالفت کرنے پر آپ کو آتش نمرود میں ڈالا گیا۔ آپ علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ سے نکاح فرمایا اور لمبے انتظار کے بعد عالم پیری میں حضرت اسماعیل کی پیدائش عمل میں آئی۔ اس خوشی کے موقع پر سیدنا ابراہیم کو ایک اور عظیم امتحان سے گزارا گیا۔ آپ کو خدا نے حکم دیا کہ فلسطین سے مکہ کا سفر کریں اور منیٰ کے بے آب و گیاہ میدان میں حضرت ہاجرہ اور ننھے اسماعیل کو تنہا چھوڑ آئیں۔ اطاعت شعار ابراہیم نے ایسا ہی کیا...

اور جب اسماعیل بچپن کے مرحلے میں داخل ہوئے تو بیٹے کی قربانی کا حکم آ پہنچا۔ جب سیدنا حضرت ابراہیم اس آخری امتحان میں بھی سرخرو ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر انعامات کی بارش برسائی۔ آپ کی قربانی کو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے باقی رکھا گیا۔ آپ کی نسل میں نبیوں اور رسولوں کا مبارک سلسلہ جاری کیا گیا اور آپ ابوالانبیاء کہلائے۔

حضرت ابراہیم کی قربانی اور ان کی سیرت طیبہ کے اندر ہمارے لیے واضح سبق اور پیغام زندگی موجود ہے۔ حضرت ابراہیم کی سیرت طیبہ اور ان کی قربانی کا سب سے عظیم پیغام وہ جذبہ محبت ہے جو بندے کو اس کے رب سے قریب کرتی ہے اور وہ اپنے پروردگار کی محبت کو پانے کے لیے ہر وہ قربانی پیش کرتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اگر ہم سنت ابراہیمی کے اس سبق کو اپنی زندگی میں اتار لیں تو یقینی طور پر ہماری معاشرتی زندگی میں ایک خاموش انقلاب برپا ہوگا جس کے اثرات بڑے دیر پا ہوں گے۔ مثلاً سنت ابراہیمی کا سب سے بنیادی سبق یہ ہے کہ اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان کر دی جائے۔ جس کا مقصد محض رب کریم کی رضا کا حصول ہو اور جس میں ریاکاری کا شائبہ تک نہ ہو۔ اگر ہم اس سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی جھوٹی شان و شوکت سے تائب ہو کر اپنے خویش و اقارب نیز غریب مسلمانوں کو عید قرباں کی خوشیوں میں شریک کریں تو یقینا یہ قربانی ہمارے حق میں باعث نجات ثابت ہوگی۔

ہم برسہا برس سے عید قرباں کے سیاق میں یہ آیت قرآنی سنتے آ رہے ہیں کہ (ترجمہ) ’’اللہ تک تمھاری قربانیوں کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا بلکہ تمھارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔‘‘ (سورہ حج، آیت 36) لیکن مسلم معاشرہ کا حال یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ کون کس قدر عمدہ اور مہنگا جانور خریدتا ہے تاکہ دوست و احباب اور آس پڑوس کے لوگوں پر رعب و دبدبہ قائم ہو سکے۔ غور فرمائیے، کیا اپنے اس عمل کے ذریعہ ہم سنت ابراہیمی کو زندہ کریں گے؟ عیدالاضحی کے موقع پر مسلمانوں کے امراء طبقے کے یہاں عید کی تیاریوں سے متعلق ساز و سامان نیز لباس اور زیب و زینت کے سامان کی جو نمائش ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اس لیے کہ اپنے اس عمل کے ذریعہ ہم ان غریب مسلم خاندانوں کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں جو مالی فراوانی نہ ہونے کے سبب قربانی کی سنت ادا نہیں کر پاتے۔ قرآن حکیم نے ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے (ترجمہ) ’’فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل: 27)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق کی فراوانی عطا کی ہے تو اس کی ایسی نمائش نہ کریں کہ دین رحمت اسلام کا نظام عدل دنیا کے سامنے رسوا ہو جائے اور غریبوں کی بے بسی نیز ان کے آنسو ہماری عاقبت برباد کر ڈالے۔

سیرت ابراہیمی اور عید قرباں کی سنت کے آئینے میں اگر مسلمانوں کی معاشرتی زندگی کا جائزہ لیں تو یقینی طور پر سر ندامت سے جھک جائے گا۔ مسلمانوں کی نصف سے زیادہ آبادی نے زکوٰۃ جیسے مقدس طریقے کا انکار کر کے پہلے ہی غریب و نادار مسلمانوں کی زندگی تباہ کر رکھی ہے۔ اب اگر عیدالفطر اور عید قرباں جیسی مبارک ساعتوں میں بھی امت کا صاحب مال طبقہ حقوق العباد کے تقاضوں کا خون کرتا ہوا نظر آئے گا تو آخر ہمیں فلاح کیسے نصیب ہوگی اور ہم ایک زندہ قوم کس طرح کہے جانے کے حقدار ہوں گے۔

عیدالاضحی کی قربانی مالدار لوگوں پر واجب ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ قربانی کے گوشت کا ایک حصہ غربا و مساکین کے درمیان تقسیم کیا جائے، دوسرا حصہ اپنے رشتہ داروں پر اور تیسرا حصہ خود استعمال کیا جائے۔ آج کے روشن خیال مسلمانوں نے قربانی کے گوشت کو فریج میں جمع کر کے قربانی کی اس سنت کا بھی مذاق بنا ڈالا ہے۔ قابل مبارک ہیں وہ لوگ جنھوں نے حسب توفیق قربانی کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اپنی قربانی میں اپنے غریب بھائیوں کو بھی شریک کر کے انھیں احساس محرومیت سے بچایا ہے۔ ورنہ ہمارا یہ حال ہے کہ ہم سنت ابراہیمی کو پس پشت ڈال کر اپنی دعوتوں میں صاحب حیثیت لوگوں کو بلاتے ہیں اور اپنے در دولت پر غریب لوگوں کو پھٹکنے بھی نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے اور انھیں سنت ابراہیمی کی روح کو سمجھنے کی توفیق بخشے۔

عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں

کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل

(کالم نگار آفتاب احمد منیری جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ہیں)
Published: 12 Aug 2019, 8:10 AM