سماجی

اے خدا، کاش شاہ فیصل نے یو پی ایس سی امتحان میں ٹاپ نہ کیا ہوتا

شاہ فیصل کے استعفی کی وجہ مسلمانوں کا درد بالکل نہیں ہے کیونکہ ایسا کر کے انہوں نے مسلمانوں کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ ان کے اس قدم سے سخت گیر ہندو طاقتوں کے ہاتھ بھی مضبوط ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

جب 2010 میں کشمیر کے شاہ فیصل نے یو پی ایس سی امتحانات میں ٹاپ کیا تھا تو وہ مسلم نوجوانوں میں ایک امید کی کرن کی شکل میں سامنے آئے تھے اور اس کے بعد نہ صرف کشمیری نوجوانوں میں سول سروسز کی جانب رغبت میں اضافہ ہوا تھا بلکہ پورے ملک کے مسلم نوجوانوں میں اس کے تئیں ایک کشش پیدا ہوئی تھی ۔ مسلمانوں کے لئے درد رکھنے والے لوگ اس پیش رفت کو انتہائی مثبت تصور کر رہے تھے کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر یہ چلن اور شوق مسلمانوں میں پیدا ہو گیا تو اس سے اس قوم میں ایک انقلابی تبدیلی آئے گی ۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑی پیش رفت اس لئے بھی تھی کیونکہ یو پی ایس سی امتحان پاس کرنا خود اپنے آپ میں ایک بڑی چیز ہے اور اس میں اگر کوئی ٹاپ کرے تو وہ کامیابی تو بہت ہی بڑی ہو جاتی ہے، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ آپ کر سکتے(Yes We Can) ہیں لیکن اب آٹھ سال بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ۔

ویسے تو بہت دنوں سے اس بات کی قیاس آرائیاں تھیں کہ شاہ فیصل آئی اے ایس سے استعفی دینے جا رہے ہیں اور اس کے بعد وہ سیاست میں ہاتھ آزما نے والے ہیں ۔ حال ہی میں جب وہ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں تھے تو انہوں نے اس طرح کے ٹویٹ کئے تھے جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ وہ آئی اے ایس کی نوکری چھورنے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے استعفی کی وجہ وادی میں لگاتار ہو رہے تشد د کو بتایا اور اسی وجہ سے شاید کشمیر کے لوگوں کو ان کے استعفی پر کوئی حیرانی بھی نہیں ہوئی ہوگی ۔ ہارورڈ میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے کئی مرتبہ سوشل میڈیا پر مرکزی حکومت اور ہندوتو ا قوتوں کی تنقید کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ یہ طاقتیں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں ۔ مسلمانوں کا اتنا درد کہ انہوں نے ایسی سرکاری نوکری پر لات مار دی جہاں رہ کر وہ انصاف کے لئے زیادہ موثر انداز میں لڑ سکتے تھے۔

شاہ فیصل نے استعفی دینے کا جو فیصلہ لیا ہے اس کی وجہ مسلمانوں کا درد بالکل نہیں ہے کیونکہ ایسا کر کے انہوں نے کم از کم تین طرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور سخت گیر ہندو طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں ۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اب مسلم نوجوانوں میں یہ پیغام جائے گا کہ آئی اے ایس افسر بن نے میں کچھ نہیں رکھا ، وہ کہیں گے کہ دیکھا نہ شاہ فیصل نے چھوڑ دیا۔ دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلم آئی اے ایس افسران کو سب کی نظر میں شک کے گھیرے میں لاکر کھڑا کر دیا اور ان کے لئے کام کرنا مشکل کر دیا کیونکہ ان کے جونئیر اب ان پر اعتماد نہیں کریں گے اور کہیں گے ... دیکھا نہ فیصل صرف مسلمانوں کی فکر کرتا تھا ملک کی نہیں ۔ تیسرا نقصان یہ ہوگا کہ وادی کے نوجوانوں اور ملک کے نوجوانوں میں موجود کھائی مزید بڑھ جائے گی۔

شاہ فیصل کی مختصر سی زندگی پر نظر ڈال کر صاف اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے تعلق سے بہت فوکسڈ ہیں اور صرف آگے بڑھنا ان کا مقصد حیات ہے ۔ ڈاکٹر بننے کے بعد ان کو محسوس ہوا کہ اس سے صرف پیسہ تو کمایا جا سکتا ہے مگر سماج میں کوئی بڑا مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا تو انہوں نے یو پی ایس سی کا امتحان دیا تاکہ وہ ڈی ایم اور حکومت میں سکریٹری وغیرہ بن جائیں تاکہ ان کے آگے دربار لگے ۔ لیکن جب انہوں نے یہ محسوس کیا کہ افسر بننے سے بھی وہ بات حاصل نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہاں بھی سیاست داں کو جواب دینا ہوتا ہے، تو اب انہوں نے افسری کو بھی لات مار دی اور سیاست میں ہاتھ آزمانے کے بارے میں سوچا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے قریب ہوتے نظر آ رہے شاہ فیصل نے اپنے ذاتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک شاطر سیاست داں کی طرح غریب اور معصوم مسلمانوں کو اپنا چارا بنایا ہے۔

شاہ فیصل اپنے اگلے امتحان میں بھی کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ انہوں نے اس امتحان میں داخلہ کے لئے پہلا امتحان پاس کر لیا ہے اور وہ کشمیری نوجوانوں کے ہمدرد بن کر ابھرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ لیکن شاہ فیصل نے پورے سماج، خاص طور سے اس طبقہ کو جس میں ان کی پیدائش ہوئی ہے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے ۔ یہ ایک بڑا نقصان ہے جس کی تلافی مستقبل قریب میں نظر نہیں آ رہی اور اب دل سے بے ساختہ یہی نکلتا ہے کہ کاش شاہ فیصل نے یو پی ایس سی کےا متحان میں ٹاپ نہ کیا ہوتا تو شائد یہ نقصان بچ جاتا اور ملک میں کچھ امید کی کرن باقی رہتی ۔شاہ فیصل نے مسلمانوں اور کشمیریوں کا رونا رو کر ملک اور مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔