قوم پرستی: نیا جال لائے پرانے شکاری... اسد مرزا

موجودہ کووڈ-19 بحران کے دوران بعض طاقتیں قوم پرستی کی پرانی تشریحات کو نافذ کرنے کی جدوجہد میں مبتلا ہیں، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ قوم پرستی اس وائرس کا ایک تشویش ناک سائیڈ افیکٹ ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اسد مرزا

ایک طرف دنیا کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے تو دوسری جانب چند عالمی تخریبی اور تفرقہ پسند ذہنیت رکھنے والی تنظیمیں اورعناصر اپنے دیرینہ مقاصد کی تکمیل میں سرگرم عمل ہیں۔ اس دوران وہ اپنے منفی اور تخریبی ایجنڈے کو منظم اور مستحکم کرکے آگے بڑھانے میں کامیاب نظر آ رہی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اس وبا کا خاتمہ ہوگا تو یہ دنیا کووڈ سے پہلے کی اپنے سابقہ حالت میں شاید ہی پوری طرح واپس لوٹ سکے۔ اس غیر معمولی بحران نے قوم و ملک کے تنگ نظر تصور کی واپسی کو تقویت فراہم کی ہے۔

حالانکہ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ اس وبا کی نوعیت عالمی ہے اور اس سلسلے میں انسانیت نوازی کے اقدامات بھی ہو رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود بالعموم اس معاملے پر قومی سرحدوں، ملکی ترجیحات اور علاقائی کمیونٹیز کے پس منظر میں ہی زیادہ بات چیت ہوتی رہی ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ قوم پرستی اس وائرس کا ایک تشویش ناک سائیڈ افیکٹ بھی ہے۔ اس سلسلے میں وہ قومی سرحدوں کو بند کیے جانے یا بعض رہنماوں کی طرف سے دیگر ملکوں کو مورد الزام ٹھہرانے کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ اور برازیل کی بولسو نارو انتظامیہ دونوں نے ہی کورونا وائرس کے لیے چین کو مورد الزام ٹھہرا کر ایک تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔

اس نئی تشریح میں سقم یہ ہے کہ اس میں قوم پرستی کو بہت ہی تنگ نظری اور انتہائی منفی انداز میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم، بالخصوص بحران کے دور میں، قوم کی اہمیت اور طاقت کو زیادہ بامعنی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں قوم پرستی کے زیادہ وسیع تر مفہوم کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔

قو م پرستی کیا ہے؟

قوم پرستی کی دو تشریحات ہیں۔ ایک تو انتہائی شدت پسند اور دوسری بقدرے اعتدال پسند۔ شدت پسند عناصر کے مطابق قوم پرستی کے آگے کسی کی بھی اپنی انفرادی شناخت نہیں رہ جاتی ہے۔ جب کہ اعتدال پسند تشریح کے مطابق کسی بھی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اس کے شہریوں کی ترقی قوم پرستی کا ایک اہم جز بن جاتی ہے۔ جب کہ انتہاپسند عناصر اپنی رائے سب پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

تاہم موجودہ وبا کے دوران زیادہ تر ممالک کا ردعمل ملک اور قوم کی پرانی تشریحات پر ہی مبنی رہا۔ بیشتر تر میڈیا رپورٹنگ بھی علاقائی سطح کے بجائے ملکی سطح پر مرکوز رہیں۔ دیگر یہ کہ زیادہ تر ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کر دیں اور دنیا کے مختلف حصوں سے اپنے شہریوں کو واپس لانے کا عمل شروع کر دیا۔ بجائے اس کے کہ ان حالات کے دوران عالمی پیمانے پر راحت رسانی کا کام کیا جاتا زیادہ تر ملکوں نے انفرادی رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان فیصلوں سے بیشتر ملکوں کی حکومتوں کا اپنے شہریوں پر کنٹرول میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی قوم پرستی کی پرانی تشریح کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔

تاہم اصلی خدشہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب تمام ممالک عالمی اشتراک کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنے اپنے ملکوں کو ترجیح دینا شروع کر دیں۔ اس طرح کی صورت حال میں دو ملکوں کے درمیان جنگ کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اور اپنے شہریوں کی راحت رسانی کے بجائے بیشتر حکومتیں قوم پرستی کا نام لے کر خود کو زیادہ مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ اس کا ایک منفی پہلو یہ ہوگا کہ گزشتہ 70 سال کے دوران جو عالمی معاہدے اور تنظیمیں عمل میں آئی ہیں وہ سب ناکارہ ہوکر رہ جائیں گی۔ جیسا کہ مختلف ممالک نے قوم پرستی کی پرانی تشریح کو فروغ دیا ہے تو اس کی وجہ سے عام شہری اپنی آزادی اور اظہار رائے بھی کھو سکتے ہیں۔

ہندوستان کے ’نام نہاد قوم پرست‘

ہندوستان میں نام نہاد قوم پرست ایک عرصے سے عوام، سماج اور سماجی نفسیات میں اپنی جڑیں جمانے کی زبردست کوششیں کر رہے تھے اور کووڈ بحران نے انہیں غیر متوقع موقع فراہم کر دیا۔ ایک طرف جہاں ہر شخص کورونا وائرس کی وبا سے پریشان تھا وہیں یہ نام نہاد قوم پرست پس پردہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے مختلف اداروں اور میڈیا کا بے جا استعمال بھی کیا۔ اور ان سب کے ذریعہ 5 اگست کو ایودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوگئے۔ جسے انہوں نے ہندووں کی عظمت رفتہ کی واپسی کے آغاز سے تعبیر کیا ہے۔

لیکن یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس طرح کی قوم پرستی بالآخر سماج کو تقسیم کر کے ہی رہتی ہے۔ یہ ہر طرح کے جدید سیاسی، منطقی اور معروضی خیالات کو مسترد کرتی ہے اور کسی مخصوص تہذیب یا گروپ کے شاندار ماضی کو واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔ مزید برآں اس کے نتیجے میں سماج اور سیاسی بیانیے پر جو منفی اور وسیع تر مضمرات مرتب ہوں گے انہیں ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ چونکہ اب انتہائی قوم پرستی کو حکومت کی بھی حمایت حاصل ہے اس لیے یہ نام نہاد قوم پرست ہندوستان کی دھرتی پر اپنے نظریات اور خیالات کو نافذ کرنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ملیا میٹ کر دیں گے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے قوانین اور ضابطے نافذ کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یورپ کی طرح ہندوستان میں قوم پرستی اپنے انتہائی شدت پسند نظریے میں قوم اور ملک کے تئیں صرف وفاداری کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایک مخصوص مذہب، اس کے اعتقادات اور اس کی اساطیروں کے تئیں دلی وابستگی حتی کہ دینی جذبے کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ اس پوری صورت حال کا سب سے افسوسناک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ نام نہاد تعلیم یافتہ افراد بھی انتہائی قوم پرستی کی اس ’موہنی مورت‘ کے جال میں پھنس گئے ہیں۔

(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہ چکے ہیں)

Published: 9 Aug 2020, 5:11 PM
next