ندائے حق: ماحولیاتی تبدیلی کورونا سے زیادہ خطرناک...اسد مرزا

ماہرین کے مطابق اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں تو بہت جلد دنیا کو سوکھے کے خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ماحولیاتی تبدیلی / Getty Images
ماحولیاتی تبدیلی / Getty Images
user

اسد مرزا

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سوکھا ایک ایسا عالمی خطرہ ہے جس کی جانب عالمی برادری خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اور بہت جلد ہی یہ خطرہ دنیا کے ہر ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آسکتا ہے۔ اگر مختلف ممالک نے اس خطرے کو روکنے کے لیے اپنے زرعی اور آبی وسائل کا مؤثر طریقے سے مینجمنٹ نہیں کیا اور ماحولیاتی آلودگی کے دیگر خطرات کی طرف اپنی کوششوں کو زیادہ تیز نہیں کیا تو بہت جلد ہی ہمیں عالمی پیمانے پر سوکھے کا سامنا کرنا ہوگا۔ جس کے منفی اثرات کورونا وبا سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

آئندہ نومبر میں گلاسگو، برطانیہ میں ماحولیات پر ہونے والے COP-26 اجلاس کے دوران اس رپورٹ پر عالمی برادری کی جانب سے غوروخوض کیا جائے گا۔ یو این کی رپورٹ کے مطابق موجودہ صدی کے دوران ہی 1.5 بلین افراد سوکھے سے متاثر ہوچکے ہیں اور معاشی طور پر اس کی وجہ سے تقریباً 124 بلین ڈالر کا خسارہ ہوچکا ہے۔ سوکھے کے مختلف پہلوؤں کی معاشی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ اس تخمینے میں ابھی بھی ترقی پذیر ممالک پر اس کی معاشی اثرات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔


یو این سکریٹری جنرل کی ماحولیات اور اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے تعینات کی گئیں ان کی خاص مشیر مامی مزوتوری کے بقول سوکھا ایک عالمی وبا کے طور پر ہم پر چھا جائے گا اور اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی ٹیکا بھی موجود نہیں ہے۔ ان کے بقول آنے والے چند سالوں میں دنیا کے بیشتر حصے پانی کی قلت سے دوچار ہوجائیں گے۔ سال کے زیادہ عرصے میں پانی ضرورت سے کم ہی دستیاب ہوگا۔ پانی کی کمی کی وجہ سے سوکھے کے اثرات نمایاں ہوں گے اور زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے پیداوار میں کمی بھی واقع ہوگی۔

مزوتوری کے بقول ایک عام تاثر یہ ہے کہ سوکھا افریقہ کے صحرائی ملکوں میں ہی پڑسکتا ہے، جو کہ ایک غلط خیال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صدی کے اواخر تک دنیا کے بیشتر ملک سوائے چند ایک کو چھوڑ کر سوکھے کا شکار ہوچکے ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم جو تصویر دیکھ رہے ہیں وہ ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ انسانی مداخلت اور ماحولیات سے غفلت کے سبب سوکھے کا منفی اثر بلا واسطہ طور پر اقوامِ متحدہ کے دیگر پروگراموں پر بھی منفی اثرات نقش کر رہا ہے، جیسے کہ غربت سے عوام کو نجات دلانے والے پروگرام، کیونکہ جتنے وقت میں خطِ افلاس سے نیچے رہنے والے لوگوں کو مالی اعتبار سے کچھ مدد پہنچاتے ہیں تو وہ حقیقتاً اس سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ اگر وہ زرعی شعبے سے وابستہ ہیں تو اس پر ہونے والے منفی اثرات ہماری دیگر کاوشوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔


ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ سوکھا ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہوسکتا جوکہ بہت حد تک ایک غلط تاثر ہے۔ حال کے عرصے میں امریکہ، آسٹریلیاں اور جنوبی یورپ کے بڑے حصوں میں سوکھے کے اثرات نمایاں ہوئے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ میں اس کا معاشی اثر تقریباً 6 بلین ڈالر سالانہ اور یورپی یونین کے ملکوں پر 9 بلین یورو سالانہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کی NOAA (National Oceanic and Atmospheric Administration) کے سائنسداں اور رپورٹ تیار کرنے والے گروپ کے ماہر Rogent Pulwarty کے بقول سوکھے کا اثر زراعت کے علاوہ دیگر شعبوں جیسے کہ نقل و حمل یا ٹرانسپورٹ نظام، سیاحت اور توانائی پیدا کرنے والے اداروں پر بھی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے یورپ میں دریا ڈانبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ندی میں پانی کی مقدار کم ہونے کا اثر ان تمام شعبوں پر دیکھنے میں آیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے آبی وسائل اور فاصلۂ آب کا نظام بہتر کرنا لازمی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ماحولیات میں تبدیلی کی وجہ سے کم بارش ہونے کو زیادہ تر لوگ سوکھے میں اضافہ کی وجہ سمجھتے ہیں، لیکن رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبی وسائل کے غلط استعمال اور زیادہ کاشت کرنے اور پرانے زرعی تکنیک استعمال کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ رپورٹ میں آبی وسائل کے بہتر استعمال پر کافی زور دیا گیا ہے۔ جون کے مہینے میں ہی NASA اور NOAAکے سائنس دانوں نے ایک دوسرے خطرے کی طرف بھی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کی ہے۔ ان دونوں اداروں کی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2005سے 2019کے درمیان زمین کے توانائی کے توازن میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق زمین اپنے اندر دوگنا توانائی جذب کر رہی ہے جس کا منفی اثر ماحولیات پر ہو رہا ہے۔ توانائی کے عدم توازن کے مطابق زمین جو حدت سورج سے جذب کرتی ہے اسے واپس خلا میں تحلیل ہو جانا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس میں سے توانائی کا ایک بڑا حصہ زمین اور اس کے ارد گرد کے ماحول میں جذب ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ دراصل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے بھی زیادہ تر حدت زمین کے آس پاس ہی رہ جاتی ہے اور اس کی وجہ سے خاص طور پر Antartica میں برف پگھلنے کی وجہ سے دریاؤں اور سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہم ریاست اڑیسہ میں کرچکے ہیں، جہاں زمین کے کٹاؤ اور سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے کئی سو گاؤں کو خالی کرانا پڑا۔


دریں اثنا ماحولیاتی کارکنوں کے لیے فتح سے تعبیر کیے جانے والی ایک پیش رفت میں بلجیئم کی ایک عدالت نے ایک تاریخ ساز فیصلہ میں کہا ہے کہ بیلجئین حکومت کا ماحولیات کے منفی اثرات کے تئیں غفلت برتنا حقوق انسانی کی پامالی کے مترادف ہے۔ کیونکہ حکومت اپنے عوام کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا مہیا کرانے میں ناکام رہی ہے۔ بیلجئیم کی طرح ہی نیدرلینڈس، فرانس، اور جرمنی کی عدالتوں نے بھی اپنے ممالک کی حکومتوں کی نکتہ چینی کی ہے کیونکہ وہ اپنے عوام کو ماحولیاتی خطرات سے بچانے میں ناکام رہی ہیں۔ بیلجئیم ان ملکوں میں سے ہے جہاں صنعتی انقلاب کی آہٹ سب سے پہلے سنی گئی تھی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح وہ بھی سن 2030 کے اپنے گیس اخراج کے اہداف کو پانے میں ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ سب مستقبل میں ہمیں درپیش ہونے والی مشکلات کی نشانیاں ہیں اور ان سب کی کلیدی وجہ ماحولیات میں رونما ہونے والی منفی اور مضر تبدیلیاں ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ سب تیزی سے فروغ پانے والے صنعتی نظام کی بدولت پیش آیا ہے۔ جس پیمانے پر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے یہاں صنعتی نظام اور کارخانوں کو فروغ دیا اس کا منفی اثر بہت جلد دیکھنے میں آرہا ہے۔ اور اس کے لیے کسی حد تک ہمارے سیاست دان بھی ذمے دار ہیں۔ صنعتی ممالک یا یوں کہیے کہ آج کے ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیات میں بڑھتی تیزی اور اس کے منفی اثرات کی وجہ سے اپنے زیادہ تر کارخانے اور صنعتیں چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں منتقل کردی تھیں۔ لیکن حال ہی میں کورونا وبا کی وجہ سے جب یورپ اور امریکہ میں موجود زیادہ تر کارخانوں کو چین سے خام مصنوعات کی فراہمی میں دقتیں پیش آئیں اور اس کا اثر عالمی Supply Chains پر ہوا تو اب ایک مرتبہ پھر ان صنعتوں کو دوبارہ یورپ اور امریکہ میں منتقل کرنے پر غوروخوض ہو رہا ہے لیکن امید یہی ہے کہ اب ایسا ہونا آسان نہیں ہوگا۔


آج کے دور میں مغربی ممالک نے ماحولیات کے تئیں کچھ ہوشمندانہ حکمت عملی وضع کی ہیں جن کی بدولت یورپ یا امریکہ دھواں اگلنے والے کارخانوں کو اپنے یہاں دوبارہ قائم کرنے میں بہت زیادہ احتیاط برتیں گے۔ دیگر یہ کہ جیسا کہ ماحولیاتی تنظیموں اور کارکنان کا کہنا ہے کہ جب تک ترقی یافتہ ممالک ماحولیات کے تئیں کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کریں گے تب تک دنیا خطرے سے درپیش رہے گی۔ مغربی ممالک نے سن 2015 کے COP-26کے پیرس اجلاس کے دوران ماحولیات سے جنگ لڑنے کے لیے 100 بلین ڈالر خرچ کرنے کا ایک عالمی معاہدہ کیا تھا جس پر 196 ملکوں نے دستخط کیے تھے لیکن ابھی تک یعنی 6 سال بعد بھی یہ رقم جمع اور خرچ نہیں ہوپائی ہے اور ماحولیاتی خطرہ اپنی جگہ بنا ہوا ہے۔

مجموعی طور پر دنیا کو آج جن خطرات کا سامنا ہے وہ ایک حد تک کاروباری اداروں اور سیاست دانوں کی سانٹھ گانٹھ کی وجہ سے بھی رونما ہو رہے ہیں۔ جب ان خطرات سے لڑنے کے لیے حکمت عملی وضع کرکے اس پر عمل کرنا تھا، تب بھی غفلت برتی گئی اور آج جب وقت کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے تب بھی ماحولیاتی خطرات سے بچنے اور اپنے عوام کو صاف ستھری ہوا اور پانی دستیاب کرانے میں زیادہ تر حکومتیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔