سماجی

مسلمانو! تم تو ایسے نہ تھے تم کو کیا ہوگیا...انیس درانی

اے میری پیاری زندہ لاشو! سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق تم تعلیم اور نوکریوں میں دلتوں سے بھی نیچے ہو، تم میں سے جو افسر بن جاتے ہیں وہ فرضی احساس برتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور تمہارے کسی کام نہیں آتے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر

انیس درانی

چلتی پھرتی لاشوں کو نیاسال مبارک ہو! کلینڈر کا پہلا چمکدار صفحہ آہستہ آہستہ اپنا رنگ روپ کھوتا ہوا آخری صفحہ پلٹتے پلٹتے بے روپا اور یرقان زدہ ہوجاتا ہے اور 31 دسمبر آتے ہی اسے اتار کر پھینک دیا جاتا ہے تاکہ نئے کلینڈر کو اس کی جگہ لٹکایا جاسکے۔ اس ایک سال میں دنیا بدل جاتی ہے۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ شہریوں کی اجتماعی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی شئے تغیر سے آشنا نہیں ہوتی کسی تبدیلی کے لئے آمادہ نہیں ہوتی کسی مثبت عمل کے لئے تیار ہونا تو درکنار ہر منفی نتائج کا دل سے استقبال کرتی ہے تو وہ اقبال کا شاہین بچہ ہے۔ جس کو علامہ اقبال نے بڑی سلاست اور روانی کے ساتھ نصیحت فرمائی تھی۔

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

مسلمان جو اب محض نام کا مسلمان ہے۔ علامہ اقبال کی اس نصیحت کی سختی سے نفی کررہا ہے۔ اسے کوئی خواہش ہی نہیں ہے کہ وہ سلطانی میں اپنا مناسب حصہ پائے اور جب خواہش ہی مفقود ہے تو کوشش کرکے اپنی طاقت کیوں ضائع کرے البتہ جب کبھی ایمان کی کوئی رمق یا جوانی کا جوش (کم بختی سے ان کی کوڑے بھرے علاقوں میں جگہ جگہ نہاری کی دیگیں نصب ہیں جو ان کے جوش جوانی کو بالکل ٹھنڈا نہیں ہونے دیتیں) زیادہ پریشان کرتا ہے تو تھوڑی بہت سنگ بازی کرکے بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں اور بالکل نارمل ہوجاتے ہیں اور اب تو بہت آسانی سے انہیں مکمل تسکین مل جاتی ہے کیونکہ اب وہ تسکین کے لئے کلی طورپر دوسرے برادران وطن سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ مقابلہ آرائی کے لئے دیوبندی، بریلوی، صوفی، اثناء عشری، اہل حدیث اور نہ جانے کون کون سی کرکٹ ٹیمیں میدان میں ہیں۔ اپنا بلّہ اپنی ٹیم۔ جے بھیم جے بھیم۔

معاف کیجئے میں ذکر کررہا تھا موجدین کا مگر جذبات کی شدت سے راہ بھٹک کر جے بھیم جے بھیم کرنے لگا! میرے خیال میں قارئین کے ساتھ یہ سراسر ناانصافی ہوگی اگر میں ’جے بھیم‘ کا نعرہ لگانے کا سبب بیان نہ کروں۔ 31 دسمبر 2018 کو پانچ ہزار سے زیادہ لوگ جاڑوں کی ٹھٹھرتی رات کے گھپ اندھیرے میں مہاراشٹر کے ایک گاؤں میں کھلے آسمان کے نیچے رات کے بارہ بجنے کا انتظار کررہے تھے اس تاریخی گاؤں کا نام ’’کوریگاؤں بھیما‘‘ ہے اس گاؤں کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے یہ وہ تاریخ ساز گاؤں ہے جہاں یکم جنوری 1818 کو بھارت کی طویل سیاسی تاریخ میں پہلی بار ’’دلت مہاروں کی فوجی رجمنٹوں نے پیشوا کے بہادر مراٹھوں یا کسی بھی وسطی یا اونچی ذات کے فوجیوں کو شکست فاش دی تھی۔ یہ دلت فوجی انگریزوں کی فوج کا حصہ تھے۔ صدیوں کی غلامی ہزاروں سال سے دلتوں کے خلاف جاری جانوروں جیسے سلوک نے ان میں وہ آگ روشن کردی تھی جس نے اُس وقت بھارت کی بہادر فوجوں میں ممتاز مراٹھوں کی فوج کو تہ تیغ کردیا تھا۔ گولیوں سے بھون دیا تھا۔ انگریزوں نے اس فتح کی یاد میں ایک مینار فتح تعمیر کرایا جو ’’وجے استھمبا‘‘ کے نام سے دلتوں کا مقدس مقام بن چکا ہے وہ پانچ ہزار دلت عورت مرد بچے جوان لڑکے اور لڑکیاں بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں اسی وجے استھمبا کے اردگرد الاؤ جلائے بیٹھے تھے اور رات کے بارہ بجنے کا انتظار کررہے تھے تاکہ اس تاریخی فتح کی دوسو ایک ویں سالگرہ کے جشن کا آغاز کرسکیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سات سات سو کلومیٹر سے پیدل چل کر آئے تھے۔ اپنے اہل وعیال کے ساتھ آئے تھے۔ رات کے بارہ بجے یکم جنوری 2019 ء کا آغاز ہوا۔ فضا میں جے بھیم جے بھیم کے نعرے گونجنے لگے۔ بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر کی زندہ باد ہونے لگی اس سب کا مقصد بھارت کو یہ احساس دلانا تھا کہ اب دلت جاگ اٹھا ہے۔ اے اونچی ذات والوں، اے وسطی ذات والوں تم اب ہم دلتوں کو میٹھی میٹھی باتیں کرکے گمراہ نہیں کرسکتے۔ تم کو ہمارے ساتھ اسی عزت اور احترام کے ساتھ پیش آنا پڑے گا جیسے براہمن، ٹھاکر، گپتا یا یادوؤں کے ساتھ کرتے ہو۔ ابھی میں نے رات کا تذکرہ کیا۔ اس مقام پر یکم جنوری 2019 کے روز لگ بھگ تین لاکھ دلتوں نے جمع ہوکر مراٹھوں پر اپنی فتح کے دوسوسال کا جشن منایا تھا۔ لگ بھگ مہاراشٹر کے سبھی گاؤں سے دلت اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ اونچی ذات والوں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ چنانچہ جب دلت چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں واپس لوٹ رہے تھے ان پر حملہ کیا گیا۔ ایک دلت ہلاک ہوگیا اور درجن بھر لوگ زخمی ہوئے۔ غالباً حملہ آور یہی سوچ رہے تھے کہ دلت ڈر جائیں گے اور 2019 میں دوبارہ آنے کی جرأت نہیں کریں گے۔ مگر دلت اب ایک زندہ قوم بن چکے ہیں۔ اس سال یکم جنوری 2019 کو وجے استھمبا کی زیارت کرنے کے لئے لگ بھگ چھ لاکھ سے زیادہ دلت وہاں پہنچے۔ اب انہوں نے بنا کسی تشدد کے عملی طورپر اس علاقے کے اونچی ذات والوں کو یہ جتادیا کہ تم جتنا روکو گے ہم اتنا ہی آئیں گے۔ تمہارا تشدد ہمیں ڈرا نہیں سکتا، عدم تشدد کسی بھی قسم کے تشدد سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوتا ہے۔ شاہین بچوں یہ حال تو ان کا ہے جو ہزاروں سال سے اونچی اور وسطی ذاتوں کے مظالم کے شکار رہے ہیں۔ جن کی گلے میں مٹی کی ہانڈی باندھی جاتی تھی تاکہ ان کے تھوک اور بلغم سے اونچی ذات والوں کی زمین ناپاک نہ ہو، ان کی دھوتی یا لنگوٹ کی پشت پر جھاڑوباندھی جاتی تھی تاکہ اونچی ذات والوں کی سڑکیں دلت کے چلنے سے ناپاک نہ ہوسکیں۔ بابا صاحب امبیڈکر نے دلتوں کو بیدار کیا۔ مسلمانوں کی مدد اور اپنی قابلیت سے اتنے قابل بنے کہ مہاتماگاندھی اور پنڈت نہرو سے سودے بازی کرکے ملک کے لئے ایک ایسا آئین تیار کیا جس میں دلتوں کے حقوق واضح طورپر متعین کردیئے گئے ان کے فروغ کے لئے تعلیمی اداروں اور نوکریوں میں ریزرویشن کا اہتمام کیاگیا۔ آئین میں شامل ہونے کے باوجود ان سہولیات کا ملنا آسان نہیں تھا۔ دلت اس کے لئے جدوجہد کرتے رہے وہ کتنے ہی تعلیم یافتہ ہوگئے کتنے ہی اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے مگر دلتوں کے حقوق کی لڑائی میں کبھی ڈھیل نہیں برتی۔ اس لئے دلتوں کا غلبہ دن بدن بڑھے گا۔ ان میں اپنے مشن کے لئے قربانی دینے اور ہر مشکل کا سامنا کرنے کی ہمت ہے۔

اے میری پیاری زندہ لاشوں سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آج تم تعلیم اور نوکریوں میں دلتوں سے بھی نیچے ہو تمہارے میں سے جو افسر بن جاتے ہیں وہ ایک فرضی احساس برتری کا شکار ہوجاتے ہیں وہ نہ تمہارے کام آتے ہیں اور نہ مدد کرتے ہیں۔ کچھ مستقبل میں ترقی کی راہ مسدود نہ کردی جائے اس ڈر سے بھی مسلمانوں کی مدد نہیں کرتے۔ تمہارے اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے اور ان میں ملی احساس پیدا کرنے کے بجائے اپنے ذیلی کام دھندوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ چنانچہ تمہاری ابتدائی تعلیم کا نظام ’’ناکارہ‘‘ طالب علم پیدا کررہا ہے۔ تمہارے مدارس دین کی سمجھ اور فروغ دینے والے طلباء کی جگہ ایسے کٹھ ملاّ پیدا کررہے ہیں جو مسلکی اختلافات کی بنا پر دوسروں کو مسجدوں میں گھس کر مارنے کو عین ثواب سمجھتے ہیں، کسی کے شرک وکفر کا فیصلہ جو اللہ تعالیٰ یوم حشر میں خود کرے گا اسے ان نیم خواندہ عالموں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ آہ! آج مسلمان عورتوں سے بھی زیادہ بے ہمت ہوگیا ہے۔ا بھی کیرالہ کی خواتین نے بلا امتیاز مذہب وملت سبری مالا مندر میں سپریم کورٹ کے فیصلے مطابق آزادانہ داخلے کے لئے مندر کے دروازے کھولنے کے لئے سارے کیرالہ میں ایک انسانی زنجیر بناکر احتجاج کیا جس میں لگ بھگ 35لاکھ خواتین ہاتھ سے ہاتھ پکڑ کر کھڑی رہیں (بھاجپا اور ہندومنالی اس مندر میں عورتوں کے داخلے کے خلاف ہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا اور کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سب عورتوں کو مندر میں جانے دیا جائے۔ بھاجپا اپنی دھرم کی گندی سیاست کھیل رہی ہے اور سپریم کورٹ کے اس حکم کو نہ ماننے والوں کے ساتھ پشت پر کھڑی ہے) عورتوں کے اس طرح کے احتجاج سے کیرالہ کی حکومت کو بڑی تقویت ملی ہے جو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرنا چاہتی ہے۔ کیا مسلمان نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں نے کوئی انسانی زنجیر بناکر اس جرم کے خلاف احتجاج کیا۔ مسلم نوجوانوں کے اس ظالمانہ قتل کی پاداش میں 16پی اے سی کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے وہ بھی 34سال کے بعد ہمیں اس سے سبق لینا چاہئے۔ یہ فتح ملک کے قانون کی فتح ہے۔ لیکن کیا گزشتہ 34سالوں میں ہم نے ان ملزموں کو سزا دلانے کے لئے کوئی تحریک چھیڑی۔ آج جس طرح گزشتہ دس سالوں سے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی میں ماخوذ کیاجارہا ہے کیا ہم نے اس کے خلاف کوئی رائے عامہ بنائی۔ جب بعض مسلم تنظیموں کی مدد سے کئی سال جیلوں میں کاٹ کر وہ رہا ہوجاتے ہیں تو کیا ان بے گناہوں کی سچائی اور زندگی میں پچھڑ جانے کی پاداش کا معاوضہ دلانے کی کوشش کی گئی۔ ہم سب اپنے آپ میں سست ہیں نہ ہم خود بیدار ہوتے ہیں اور نہ کسی کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے سیاسی لیڈر ہمارے مسلمان ممبران پارلیمنٹ واسمبلی جب منتخب ہوجاتے ہیں تو اس قدر سیکولر ہوجاتے ہیں کہ کسی دوسرے فرقے میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ میں ابھی اخبار پڑھ کر راجستھان کی وزیر ممتا بھوپیش کے بارے میں سوچ رہا تھا اس جواں عمر خاتون نے وزیر مملکت برائے خواتین وفروغ اطفال کا حلف لیتے ہی کہاکہ’’ میری پہلی ترجیح اپنی ذات والوں کے کام کے لئے ہوگی۔‘‘ وہ وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کی کابینہ میں اکیلی خاتون ہیں اور ان کا تعلق اسی دلت سماج سے ہے جس کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا تھا۔ وہ الور میں ایک جلسہ سے خطاب کررہی تھیں انہوں نے کہاکہ ’’جب بھی ہماری ضرورت ہوگی تو میں پیٹھ نہیں دکھاؤںگی۔ میں آپ کو اس بات کا یقین دلانا چاہتی ہوں کیونکہ میرا پہلا فرض میری ذات کے لئے۔ اس کے بعد ہمارے سماج کے لئے اور اس بعد پوری سوسائٹی کے لئے۔ محترمہ عوامی شکایت کی سنوائی۔ اقلیتی امور اور وقف کی بھی وزیر ہیں۔ کیا ہمارے معزز لیڈران اس خاتون کے خطاب پر غورکریں گے۔ مجھے یاد ہے کہ 80کے دہے میں مسلم دانشوروں کی ایک میٹنگ تین مورتی ہاؤس میں بلائی گئی تھی۔ وزیراعظم راجیوگاندھی اس کے مہمان خصوصی تھے۔ میرے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’مسلم لیڈروں کو وزیر بنایا ہی اس لئے جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی شکایتوں کا ازالہ کریں۔ ہمارے پاس ان کے مسائل لے کر آئیں مگر مسلم وزیر اپنی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں نباہ رہے ہیں۔ کاش ہماری قیادت اور ہمارے مسلمان بھائی اپنے حالات اور مسائل کا تجزیہ کریں اور اس سے قبل مایوس اور بددلی کا شکار ہوکر ہماری نئی نسل تشدد پر آمادہ ہوجائے ہمیں اس عظیم عددی قوت کا رخ عدم تشدد کی طرف پھیر دینا چاہئے۔ آج تشدد اور جوابی تشدد میں مسائل کا حل ناممکن ہے لیکن ہم گاندھی جی اس ملک میں عدم تشدد کے سہارے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ عدم تشدد کے ساتھ خود اعتمادی اور خدا اعتمادی دنیا بدل سکتی ہے۔

سنگ کو چھوڑ کے تم نے کبھی سوچا ہی نہیں

اپنی ہستی میں خدا کو کبھی ڈھونڈا ہی نہیں

Published: 13 Jan 2019, 10:09 AM