علماء کا یہی حال رہا تو رویت ہلال کا معاملہ بھی عدالت پہنچ جائے گا

لکھنؤ میں چاند دیکھنے کا اہتمام کرتے ہوئے علماء حضرات

جو کچھ 16 مئی کو ہوا اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے پورے ملک میں رویت ہلال کا کوئی کھیل جاری ہو۔ اس کھیل کا اثر یہ ہوا کہ ناسک میں دو بھائیوں میں سے ایک نے 17 مئی کوروزہ رکھا اور دوسرے نے نہیں رکھا۔

ملک کے بیشتر حصوں میں آج دوسرا روزہ ہے لیکن اتر پردیش، مہاراشٹر اور بہار جیسی ریاستوں کے کچھ علاقوں میں آج لوگوں نے پہلا روزہ رکھا۔ بریلی، وارانسی، رام پور، ناسک، ممبئی وغیرہ ایسے علاقے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے 17 مئی کو روزہ نہیں رکھا۔ بہار میں بھی کچھ اداروں نے 17 مئی کو یکم رمضان ہونے کا اعلان کر دیا تو کچھ نے 18 مئی کو یکم رمضان قرار دیا جس کی وجہ سے ایک تذبذب کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ پٹنہ سے تو لوگوں کے آپس میں متصادم ہونے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ہلالِ رمضان اس مرتبہ تماشہ کیوں بن گیا؟ معاف کیجئے یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے اکثر ایسا ہوتا رہا ہے۔مذہبی قائدین آخر اس معاملے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتے؟ علماء و مذہبی قائدین کا اگر یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب رویت ہلال کا معاملہ بھی طلاق ثلاثہ کی طرح عدالت پہنچ جائے گا اور پھر مذہبی تنظیمیں شریعت کا ڈھنڈورا پیٹتی رہیں گی اور عدالت میں مختلف مذاہب کے ججوں پر مبنی بنچ رمضان اور عید کی تاریخیں طے کرے گی اور پھر ہم سڑکوں پر اتریں گے کہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

غور کرنے کی بات ہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں چنئی، تمل ناڈو اور کرناٹک کی کچھ رویت ہلال کمیٹیوں کے ذریعہ چاند دیکھے جانے کی تصدیق پر مبنی خط تو وہاٹس ایپ پر تقریباً ساڑھے سات بجے سے ہی گشت کرنے لگےتھے اور پھر رویت ہلال کمیٹی امارت شرعیہ ہند کی پریس ریلیز بھی وہاٹس ایپ گروپس پر نمودار ہوئی جس میں صاف لکھا ہوا تھا کہ دہلی میں مطلع ابر آلود تھا اس لیے چاند نظر نہیں آیا لیکن آندھرا پردیش، کرناٹک اور تمل ناڈو کے مختلف مقامات سے رویت عام کی متعدد معتبر اطلاعات موصول ہوئیں ہیں اس لیے 17 مئی کو یکم رمضان ہے۔ لیکن اس کے بعد ممبئی، بھوپال اور کانپور وغیرہ کی کچھ رویت ہلال کمیٹیوں نے چاند نہ دیکھے جانے کا اعلان کر دیا اور پھر ادارۂ شرعیہ (بہار) نے بھی چاند کی شہادت نہ ملنے پر 17 مئی کو روزہ نہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔ ایسی حالت میں آخر مسلمان کرے تو کیا کرے! 16 مئی کی پوری رات کہیں یہ بحث جاری رہی کہ جنوبی ہند میں چاند دیکھے جانے سے شمالی ہند میں روزہ کیسے ہو سکتا ہے، تو کہیں یہ دلیل دی جا رہی تھی کہ ملک کے کسی بھی حصے میں چاند ہو گیا تو اس کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔ لیکن پھر یہی سوال ہے کہ علماء نے ایسی حالت کیوں پیدا ہونے دی۔ دہلی میں ہی کسی علاقے میں 8 بجے چاند کا اعلان ہوا تو کسی علاقے میں رات کے 12 بجے تک لوگ کشمکش میں مبتلا رہے۔ حتیٰ کہ جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری نے بھی 16 کی شب تقریباً ساڑھے دس بجے اعلان کیا کہ 17 مئی کو یکم رمضان ہے۔

جو کچھ 16 مئی کو ہوا اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے پورے ملک، خصوصاً شمالی ہند میں رویت ہلال کا کوئی کھیل جاری ہو۔ اس کھیل کا اثر یہ ہوا کہ ناسک میں دو بھائی میں سے ایک نے 17 مئی کو روزہ رکھا اور دوسرے نے نہیں رکھا۔ دہلی میں شاہین باغ کے ایک گھر میں خواتین اس بات سے فکر مند تھیں کہ شب قدر 29 کے مطابق پڑھیں گی یا پھر 30 کے مطابق۔ رویت ہلال کمیٹیوں کے سربراہان نے تو عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاند ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کر دیا لیکن اس سے جو مسئلہ پیدا ہوا اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں گئی۔ یہ عجلت پسندی ہی تھی جس کی وجہ سے کئی رویت ہلال کمیٹیوں نے چاند نہ ہونے کے اپنے فیصلے سے رجوع کرتے ہوئے دوبارہ اعلان جاری کیا اور 17 مئی کو روزہ رکھنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی مسجد میں تراویح تاخیر سے ہوئی، کسی جگہ سورۃ تراویح پڑھی گئی اور کئی جگہ تو 16 مئی کی شب تراویح ہوئی ہی نہیں۔

اس عجیب صورت حال پر جب ’قومی آواز‘ نے مسجد فتح پوری کے شاہی امام مفتی مکرم سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’شرعی اعتبار سے اگر کسی علاقے میں مذہبی رہنما نے چاند نہ دیکھے جانے کا اعلان کر دیا اور علاقے کے مسلمانوں نے 17 مئی کو روزہ نہیں رکھا تو انھیں قضا روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ محسوس کر رہے ہیں کہ چاند دیکھے جانے کا اعلان آپ تک وقت پر نہیں پہنچا اور روزہ چھوٹ گیا ہے تو قضا کر لیں۔ مفتی مکرم نے تو اس طرح مسلمانوں کے مسئلہ کا شرعی حل بتا دیا، لیکن کیا اس سے انکار ممکن ہے کہ ایک شہر میں چاند کے دو اعلانات سے مسلمانوں میں خلفشار پیدا نہیں ہوگا۔ اس خلفشار سے بچنے کے لیے اگر مذہبی قائدین نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو ایک بار پھر شرعی معاملات کا فیصلہ عدالتوں سے ہونے لگے گا۔ پھر کچھ علماء یہ کہیں گے کہ شریعت میں عدالت کی مداخلت مناسب نہیں، اور کچھ یہ کہیں گے کہ سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے تو چاند کی تاریخ کا پتہ کرنے کے لیے فلکیاتی سائنس کا استعمال کیوں نہ کیا جائے۔

ناظم امارت شرعیہ، پھلواری شریف مولانا انیس الرحمٰن قاسمی سے جب ’قومی آواز‘ نے موجودہ صورت حال کے بارے میں بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ جنوبی ہند میں چاند دیکھے جانے سے شمالی ہند میں اس پر عمل کیا جانا کس طرح مناسب ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ’’گزشتہ 70 برسوں میں 3 جگہ اعلان کمیٹیوں کی میٹنگ ہوئی جس میں یہی فیصلہ لیا گیا کہ پورے ملک کا ایک مطلع ہوگا اور کہیں بھی چاند دیکھے جانے کی شرعی تصدیق ہوگی تو اس کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ کیرالہ اور چنئی کے کچھ ساحلی علاقوں کو اس سے الگ رکھا گیا کیونکہ وہ سعودی عرب سے قریب ہیں اور وہاں چاند پہلے نظر آ جاتا ہے۔

مولانا انیس الرحمن قاسمی نے تو اپنی بات رکھ دی لیکن ادارہ شرعیہ، پٹنہ سے تعلق رکھنے والے معروف مولانا غلام رسول بلیاوی نے واضح لفظوں میں اسے شریعت کی مخالفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی علاقے کا مطلع ابر آلود ہو تو آس پاس کے علاقوں میں چاند دیکھے جانے کی شرعی شہادت کو قبول کیا جا سکتا ہے لیکن قریب کی ریاستوں میں مطلع صاف ہونے کے باوجود چاند نہیں دیکھا جاتا ہے اور پھر جنوب کی ریاستوں میں چاند دیکھ لیا جاتا ہے تو شرعی اعتبار سے ہم پورے ملک میں چاند ہونے کا اعلان نہیں کر سکتے۔ غلام رسول بلیاوی نے ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قبیلے کے لوگ آئے تھے، ایک نے کہا تھا کہ انھوں نے عید کی نماز پڑھ لی اور دوسرے نے کہا تھا کہ وہ روزہ سے ہیں۔ اس موقع پر اللہ کے رسول نے دونوں کو صحیح قرار دیا تھا کیونکہ جس علاقے کے لوگوں نے عید کا چاند دیکھ لیا اس کے لیے عید ہے اور جس نے نہیں دیکھا اس کے لیے نہیں۔ غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش، اتر پردیش، جھارکھنڈ، بہار، مہاراشٹر کہیں بھی چاند نہیں دیکھا گیا اور کوئی شہادت نہیں ملی پھر یکم رمضان 17 مئی کو کیسے مان لیا جائے۔ کچھ اسی طرح کی تاویل ان سبھی علماء نے بھی پیش کی ہے جنھوں نے 18 مئی یعنی آج سے روزہ رکھنے کا اعلان کیا۔

یہ وہ وقت ہے جب مسلم قائدین ہوش کے ناخن لیں تاکہ مسلمانوں میں انتشار پیدا نہ ہو۔ رمضان ہو یا عید، اس میں اتحاد اور اجتماعیت کا مظاہرہ ہونا چاہیے جس کے لیے ضروری ہے کہ رویت ہلال پر نہ کوئی سیاست ہو اور نہ ہی اس کو کھیل تماشہ بنایا جائے۔ بہتر تو یہی ہے کہ کوئی ایسی مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہو جو شریعت کے مطابق رویت کا اعلان کرے اور سبھی اس سے متفق ہوں۔ رمضان اور عید کے موقع پر اگر اتحاد پارہ پارہ ہوتا رہا تو مذہبی قائدین سے لوگوں کا اعتبار بھی ختم ہوگا اور شریعت پر لوگ انگلیاں بھی اٹھائیں گے۔ ویسے بھی دشمنانِ اسلام کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں ہے، بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہم رویت ہلال جیسی معمولی چیز پر بھی انھیں طنز کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، وہاٹس ایپ گروپ پر جس طرح ہلالِ رمضان کا مذاق بن رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مسلمان خود ایک دوسرے کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیا علماء ان چیزوں سے بے خبر ہیں! اگر نہیں تو پھر کچھ کرتے کیوں نہیں!

سب سے زیادہ مقبول