سر سید کا مشن: مدرسہ سے یونیورسٹی تک

اس دور میں بھی مسلمانوں کی حالت اچھی نہیں تھی بلکہ آج سے زیادہ خراب تھی لیکن سر سید نے حالات کا رونا نہیں رویا بلکہ حکمت عملی اور دوراندیشی کے ساتھ اپنے مقصد میں لگے رہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سید عتیق الرحیم (استاذ منٹو سرکل)

سر سید احمد خاں کی پیدائش کو 200 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور 2020 کے سر سید ڈے پر ہم انکی 203 ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بھی 100 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہونے کی 100 سالہ تاریخ پر تو متعدد مضامین چھپتے ہیں اورجلسوں میں گفتگو بھی ہوتی ہے لیکن سر سید کی اصل محنت اور جذبہ یہ تھا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں مسلمان کامیاب ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے مدرسے کی بنیاد ڈالی اور ایسے شاندار مقصد کے تحت چلایا کہ دین بھی بچا رہے، شریعت بھی محفوظ رہے اور ہندوستان کی ترقی میں بھی مسلمانوں کا اہم رول رہے۔

سرسید کا یہی خلوص اور جذبہ تھا کہ انکا مدرسہ ترقی کرتا گیا، کالج بنا اور یونیورسٹی کا درجہ بھی حاصل کر لیا۔ خیال رہے کہ اس دور میں بھی مسلمانوں کے لئے حالات اچھے نہیں تھے بلکہ آج سے زیادہ خراب تھے لیکن سر سید نے حالات کا رونا نہیں رویا، جذبات کے سمندر میں نہیں بہے بلکہ حکمت عملی کے ساتھ دوراندیشی کے ساتھ اپنے مقصد میں لگے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ سے شروع ہوا دارہ اپنے تمام تشخص کے ساتھ ہندوستان اور پوری دنیا میں مسلمانوں کی سربلندی کا گواہ ہے۔ سر سید نے مدرستہ العلوم کا بیچ لگایا، محمدن اینگلو اورینٹل کالج اس کا پودہ بنا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک تناور درخت کی شکل میں موجود ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی جائے۔

سر سید کا زہن اپنی کلیت میں امتزاجی بھی تھا اور صورتحال کے انتشار میں بھی اپنی قوت آخذہ کے طفیل نتائج اور اثرات کی نوعیت پر حاوی بھی، چنانچہ 1864 میں انہوں نے سائنٹیفک سوسائٹی کے قیام اور اسکے لائحہ عمل کا خاکہ اصولی اور نظریاتی تفصیل پر مبنی رکھنے پر اکتفاء کیا تھا جس کا عملی ثبوت محض ۱۰ سال کے عرصے میں اس طرح پیش کرنا شروع کر دیا تھا کہ پہلے سائنٹیفک سوسائٹی کے نام سے انگریزی علوم بالخصوص سائنس کی کتابوں کے تراجم اور لیبایٹری میں زراعت اور روزمرہ کی دوسری تجرباتی کاوشیں روبہ عمل آیئں اور 1875 آتے آتے مدرستہ العلوم کا با قاعدہ قیام عمل میں آگیا۔

سر سید نے اپنی تعلیمی تحریک کا جو عملی آغاز مدرسہ قائم کر کے کیا تھا اس کے محرکات و عوامل کے ساتھ ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے ساتھ وابسطہ مسائل درپیش تھے، لیکن مدرسہ ان مراحل سے گزر کر آج ہمارے سامنے ایس ٹی ایس (سیدنا طاہر سیف الدین اسکول) کی شکل میں موجود ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا یہ اسکول جو منٹو سرکل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کی تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے پیش رو ایم اے او کالج سے بھی زیادہ پرانی ہے، کیونکہ ایم اے او کالج کے آغاز کا سرچشمہ یہی اسکول تھا۔

سرسید کی تعلیمی تحریک کے ابتدائی مرحلوں کا ذکر کرنے سے قبل چند تاریخی پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 1857 میں ہندستان کی جنگ آزادی کے شروع ہونے سے چند مہینے قبل ہی تین مختلف پریسیڈینسیوں میں تین یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آچکا تھا یعنی کلکتہ یونیورسٹی، ممبئی یونیورسٹی اور مدراس یونیورسٹی۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں حالانکہ تدریسی نہیں تھی اور صرف امتحان لینے اور ڈگریاں دینے کے فرائض انجام دیتی تھیں۔ محمدن اینگلو اورینٹل کالج بھی ابتداء میں کلکتہ یونیورسٹی ہی سے وابستہ رہا۔ سر سید مانتے تھے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تمام تر ناکامیوں،محرومیوں اور نا امیدوں کی وجہ جدید علوم سے دوری ہے اور ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ یہ تعلیم اس وقت تک عام نہیں کی جا سکتی ہے جب تک کہ اس کی تدریس مقامی زبانوں میں نہ کی جائے۔

جہاں تک سر سید کے پہلے دو معروضات کا تعلق ہے اس وقت کی نو آبادیاتی سرکار اور انگریزی معاشرت کے پروردہ ابھرتے ہوئے مڈل کلاس کو انہیں باور کرانے میں کوئی عار نہ تھا لیکن یہ بات کہ جدید علوم کی تعلیم اور تدریس اردو میں ہو اس کو حکومت اور اسکے پروردہ خواص سے باور کرانے کے لئے سر سید کو اپنی انتہائی کوششوں کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہندوستانیوں کی یہ بھی ایک بڑی بد قسمتی ہے کہ سر سید اپنے تعلیمی مشن کے اس مرکزی مقصد کو مختلف سیا سی اور سماجی وجوہ کی بناء پر حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے تھے جس کے منفی نتائج کا ہمارا ملک آج تک سامنا کر رہا ہے۔ آج بھی ہمارے ملک میں ایک بھی مقامی زبان اتنی ترقی یافتہ نہیں ہے کہ اس کے زریعہ اعلی تعلیم خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم و تدریس کا انتظام کیا جا سکے اسی وجہ سے ہمارا ملک ہی ان چند بد قسمت ممالک میں سے ایک ہے جس میں اعلی تعلیم و تدریس کے لئے ایک قطعی نامانوس غیر ملکی زبان کا سہارا لیا جاتا ہے، ورنہ دنیا کے بیشتر ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، چین، روس یہاں تک کہ کوریا اور تائیوان جیسے چھوٹے ممالک تک اپنی زبان میں درس و تدریس و تحقیق کے ساتھ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔

سر سید کے مشن تعلیم کی بنیاد دینی تعلیم تھی اور انکا اہم مقصد بھی یہی تھا کہ اس ادارے سے جو طلباء فارغ ہوں انے ایک ہاتھ میں سائنس و فلسفہ اور دوسرے ہاتھ میں قرآن مجید اور پیشانی پر لا الہ اللہ کا تاج ہو۔ ساری زندگی سر سید نے اسی مقصد کے تحت محنت و مشقت کی انکے زریعہ قائم کیا گیا مدرسہ ترقی کرتے ہوئے انکی زندگی میں ہی ایم اے او کالج بنا اور یہی کالج منٹو سرکل اسکول میں تبدیل ہوا۔ 28 مارچ 1898 کو سر سید کا انتقال ہو گیا لیکن سر سید کے بعد سید محمود اور اس کے بعد محسن الملک نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا۔

اسکول نے اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سرزمین متعدد سیاسی، فکری اور فنکار شخصیات سے نوازا، جن میں سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، شاعر احمد علی، ہندوستانی سنیما کے شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر، افسانہ نگار راجاراؤ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کھیل کے میدان میں بھی ہندوستان کی سربراہی کی، جن میں ظفر اقبال (ہاکی کیپٹن )، لالا امر ناتھ (کرکٹ کپتان) قابل ذکر ہیں۔ اسکے علادہ بھی متعدد شعبوں میں اسکول و یونیورسٹی کا روشن کرنے میں عرفان حبیب (مشہور مورخ)، اخلاق الرحمان قدوائی، سید ضیاء الرحمن، طلعت محمود نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔

next