بھکمری اور کورونا کی آزمائش کے درمیان بےیار و مددگار مہاجر مزدور

اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور یہ مزدور بڑے شہروں میں راشن اور کھانے کے بغیر ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے آجروں کی جانب سے بھی کسی قسم کی مدد میسر نہیں ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

محمد عارف الدین

لاک ڈاؤن اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاشی بحران کے سبب شدید ترین متاثر طبقات مہاجر مزدور اور، یومیہ کارکنان اور عارضی ملازمین ہیں۔ یہ نہ صرف ملازمت اور کام سے محروم ہوئے ہیں بلکہ ذریعہ آمدنی کے بند ہوجانے کی وجہ سے ان کا راشن بھی بند ہوگیا ہے۔ اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور یہ مزدور بڑے شہروں میں راشن اور کھانے کے بغیر ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے آجروں کی جانب سے بھی کسی قسم کی مدد میسر نہیں ہے۔

اب جب کہ مہاجر مزدوروں کے لئے خصوصی ٹرینیں ملک کے مختلف شہروں سے روانہ ہونے لگی ہیں ایسے میں اب بھی بہت سےافراد کا مستقبل، حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے سبب غیر یقینی نظر آ رہا ہے۔

ان میں بہت سارے افراد ایسے ہیں جو اپنے وطن کے لئے پیدل روانہ ہو چکے ہیں، کچھ سائیکل پر سوار تو کچھ مال سے لدے ٹرکس کے سہارے اپنا سفر مکمل کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ دریں اثناء درجنوں مزدوروں کے مرنے کی خبریں مسلسل آر ہی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی شروعات سے لے کر اب تک غیر سرکاری اعداد کے مطابق تقریباََ 150 مہاجر مزدور بھوک اور سفر کی تاب نہ لاکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ انتہائی دردناک اور ان کی بے بسی کی عکاسی کرتی ہیں۔

بھکمری

لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد بڑے شہروں سے نقل مکانی کرنے والا مزدور طبقہ شہر کے مختلف حصوں میں قائم تعمیراتی مقامات یا عارضی پناہ گاہوں میں قیام پذیر ہے، جہاں رہائش کے انتظامات بالکل خراب ہیں۔ ان میں سے کچھ کرایہ کی عدم ادائیگی یا پھر مکان مالک کے امتیازی سلوک کے سبب اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ ان میں بہت سے فاقہ کشی کا شکار ہیں ۔

اترپردیش سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ یوگیندر اور اس کی اہلیہ سکندر آباد میں ایک عارضی پناہ گاہ میں مقیم ہیں جس میں 200 کے قریب مہاجر مزدور رہائش پزیر ہیں۔ یوگیندر ایک سال سے حیدرآباد کے ایک ریستوران میں کام کررہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد انہیں عارضی پناہ گاہ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ کچھ مقامی سماجی کارکن انہیں کھانا پانی مہیا کر رہے ہیں۔

حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یوگیندراور ان جیسے ان گنت مہاجرمزدوروں کو ضروری راشن اور کھانا مہیا کرے۔ ان اقدامات کا اٹھانا جو نہ صرف حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ پالیسی کے تناظر میں بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے سربراہ ڈیوڈ بیسلی نے خبردار کیا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے دنیا کو ’بھکمری‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’دی ہندو‘ میں شائع ہوئے ایک سروے کے مطابق 98 فی صد مہاجر مزدوروں کو مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ راشن نہیں پہونچ رہا ہے۔

بنگلورو سے تعلق رکھنے والے نونیت گیبرئیل ایک خانگی کالج چلاتے ہیں، جس کی عمارت کو انہوں نے مہاجر مزدوروں کی عارضی رہائش کے لئے مختص کردیا ہے۔ جہاں یہ ان کے لئے کھانا اور پینا فراہم کرتے ہیں وہیں ان کا ماننا ہے کہ یہ دراصل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتلایا کہ اس وقت مہاجر مزدوروں کا سب سے بڑا مسئلہ رہنمائی کی کمی ہے۔

پچھلے ہفتے نوبل انعام یافتہ ابھیجیت بنرجی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غریبوں کو کھانا کھلانے اور ان کی زندگیاں بچانے کےلئے تین تا چھ ماہ تک عارضی راشن کارڈ جاری کرے۔

وباء کا خطرہ

مہاجر مزدوروں کی حالت زار کو نظر انداز کرنے سے مہلک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کے رہائشی علاقوں کی خراب حالت کی وجہ سے یہ مزدور طبقہ وائرس کے بڑے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ان کےمکانات و گلیاں تنگ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مطلوبہ سماجی دوری اختیار کرنا ناممکن ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے یہ علاقے ہاٹ سپاٹ کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔

حیدرآباد کےایک ریستوران میں کام کرنے والا مزدور اطہر، ایک دو منزلہ عمارت میں 100 دیگر مزدوروں کے ساتھ ٹولی چوکی میں قیام پذیر ہے جہاں ایک کمرے میں 20افراد قیام کررہے ہیں ۔ ملک بھرمیں اس طرح کے تنگ علاقے ہر شہر میں موجود ہیں جو امکانی ہاٹ سپاٹ ثابت ہوسکتے ہیں ۔

بھیڑ اور کم جگہ میں زیادہ لوگوں کا قیام، ماسک اور سیا نیٹیزر کی عدم دستیابی، ناقص صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور پینے کے صاف پانی کی کمی نے ان علاقوں میں رہنے والے افراد کو، کورونا وائرس اور دیگر صحت سے متعلق خطرات میں گھیر لیا ہے۔

حیدرآباد کی مشہور سماجی کارکن خالدہ پروین، جو روزانہ سیکڑوں تارکین وطن مزدوروں کو کھانا کھلاتی ہیں، نے کہا، ’’حکومت کو فوری طورپر حرکت میں آتے ہوئے تیزی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،اور مہاجر مزدوروں کو آپ اپنے حال پرنہیں چھوڑ ا جاسکتا۔‘‘

ہم معاشرے کے غریب اور پچھڑے طبقات کو نظرانداز کرکے اس وبائی بیماری کوقطعی شکست نہیں دے سکتے ،کیوں کہ ان کے علاقوں میں ایک بھی کویڈ 19کا معاملہ، ہماری اس لڑائی میں قدغن لگا سکتا ہے۔ حکومت کو لازمی طور پر اس طرح کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہئے اور غریبوں اور مزدوروں کو وباء کے خلاف جاری اپنی کوششوں میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر سمجھنا چاہئے ۔

وطن لوٹنے کی بے تابی

ملک بھر کے مہاجر مزدوروں کی ایک ہی خواہش ہےکہ کسی حال میں اپنے گھروں تک سلامتی سے لوٹ جائیں،اسی غرض سے وہ اپنی تفصیلات کے ساتھ قریبی پولیس اسٹیشنوں کے چکر لگائے جا رہے ہیں اورریاستی حکومتوں کی جانب سےفراہم کردہ ہیلپ لائن نمبروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک انہیں انتظامیہ کی جانب سے اطمینان بخش جواب اور تیقن نہیں مل رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کےساتھ ان کی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔انتہائی بے بسی کے عالم میں یہ مہاجر مزدورچِل چِلاتی گرمیوں میں سینکڑوں کلومیٹر کا پیدل سفر کرتے ہوئے اپنے آبائی ریاستوں تک پہونچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مزدور وں کا ایک جم غفیر قومی شاہراہ 44سے گزرتے ہوئے جنوبی ہندوستان سے شمال کی جانب اپنے وطن کو کوچ کررہا ہے۔ ریاست تلنگانہ کی سرحد پر واقع ضلع عادل آبادکے پولیس سپر انٹینڈینٹ وِشنو ویارئیر کے مطابق ہر دن تقریباََ 15000 لوگ تلنگانہ کی سرحد پار کرتے ہوئے جنوب سے شمال کی جانب جارہے ہیں جب کہ جنوب کی جانب آنے والے افراد کی تعداد لگ بھگ 2000 ہے۔

وِشنو ویارئیر کے مطابق "ہم سرحد سے گزرنے والے مہاجر مزدوروں کی تفصیلات لیتے ہوئے تھرمل اسکیانر کا استعمال کرکے ان کی اسکریننگ کررہے ہیں، اور ریاستی سرحد عبور کرنے کی اجازت دینے سے پہلے ان کے ہاتھوں پر مہر ثبت کررہے ہیں

تلنگانہ کے شہر کاغذنگر کے سماجی کارکن، ایم ۔اے ۔وسیم احمد کے مطابق کئی مہاجرمزدور کا غذنگر ریلوے لائن کا راستہ اختیار کررہے ہیں جو کہ ان کی زندگی کے لئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ وسیم احمد نے مزید کہا کہ اس راستہ سے جانے والے لوگوں کی حالت قابل رحم ہے، اور شہر کے کئی سماجی کارکنان انہیں کھانا، پھل اور صاف پینے کا پانی فراہم کررہے ہیں۔ عادل آباد سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک سماجی کارکن ساجد خان مہاجر مزدوروں کو راحت پہنچانے کی خاطر اپنے عمرہ کےلئے بچائی ہوئی رقم خرچ کررہے ہیں۔

ایک اور پھنسی ہوئی مزدور، رشمی نے حکومت پر ناقص منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ "اگر حکومت نے لاک ڈاؤن سے پہلے ایک یا دو دن کا نوٹس دیا ہوتا تو ہم اس کے مطابق منصوبہ بناتے

اس قسم کی افراتفری اور الجھنوں کے ساتھ، سرگوشی اور افواہوں کی وجہ سے حقیقت میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ جس سے بچنے کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے رابطہ کے نظام کو ہموار کرے اور اسے مضبوط بنائے۔

سماجی تنظیموں کی وفاق برائے کوویڈ-19کی کارکن میرا سنگھمیترا نے کہا کہ حکومت کو تارکین وطن مزدوروں کے لئے رہنما یانہ اصولوں، تفصیلات کے اندراج کاعمل، ٹرینوں کے شیڈول اور تھرمل ٹیسٹنگ کے بارے میں وضاحت فراہم کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ خوف و ہراس سے بچا جاسکے۔ سنگھمیترا نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سماجی تنظیموں اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر ان مہاجر مزدوروں کی کونسلنگ اور داد رسی کریں اور انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے کام کریں۔

Published: 17 May 2020, 8:40 PM