می ٹو لہر: ہندی صحافت میں اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی!

ہندی صحافت میں کام کرنے والی خواتین دفتری دباؤ کے علاوہ گھریلو دباؤ میں بھی ہوتی ہیں۔ ہندی صحافت کا پاور اسٹرکچر کچھ ایسا ہے کہ اگر وہ بولیں گی تو ہو سکتا ہے انھیں ملازت سے ہاتھ دھونا پڑے۔

By پرگتی سکسینہ

ہالی ووڈ کے ہاروے وائنسٹائن سے لے کر امریکی سیاست میں بریٹ کاواناہ، یہاں تک کہ نوبل انعام کو بھی جنسی استحصال کے خلاف خواتین کی چیخ نے ہلا کر رکھ دیا اور اب اس چیخ کی گونج ہندوستان میں اداکارہ تنو شری دتہ کے ذریعہ فلم انڈسٹری اور پھر صحافت تک میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ مرکزی وزیر جو پہلے صحافی رہ چکے ہیں، ان پر بھی جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ ہندی صحافت میں کام کرنے والی خواتین اب تک خاموش ہیں۔ تو کیا یہ تصور کر لیا جائے کہ ہندی صحافت میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ وہاں کے مرد حضرات خواتین یا لڑکیوں کے روبرو عزت کے ساتھ پیش آتے ہیں؟

ایسا قطعی نہیں ہے۔ ہندی صحافت سے برسوں تک جڑے رہنے کے بعد میں یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ہندی صحافت میں ماحول بدتر ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو خواتین کو جنسی تعصب سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ ان کی ذہانت اور قابلیت کو کم تر سمجھا جاتا ہے اور عموماً انھیں کلچر وغیرہ جیسی ’سافٹ بیٹس‘ دی جاتی ہیں۔ اس سے اگر پار پانے میں وہ کامیاب ہو بھی جائیں تو ترقی پانے کی دوڑ میں ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا کر ’سمجھوتہ‘ کریں گی، اور کرتی بھی ہیں۔ قسمت سے میرا سیدھا سامنا جنسی استحصال یا ظلم سے نہیں ہوا لیکن ہاں اس بات کی میں گواہ رہی ہوں کہ برسوں پہلے جب کبھی ہمارے ایک خاص کُلیگ کو خواتین کو کچھ ذلیل کرنا ہوتا تھا تو وہ زور زور سے فحش گالیوں کا استعمال کرنے لگتے تھے۔

یہ بات ایک دوست نے بھی مجھ سے شیئر کیا تھا جو ایک بڑے ہندی ٹی وی چینل میں کام کرتی تھیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ کس طرح ادارتی میٹنگوں میں مرد گالی-گلوچ کر کے بات کرتے اور اسے بات نہیں کرنے دیتے۔ ایک دن اس نے بھی شرم کا دامن چھوڑ دیا اور اسی گالی سے جواب دیتے ہوئے اپنی بات رکھی۔ تب سے گالی دینے کا یا فحش زبان استعمال کرنے کا جو شرم اس کے اندر تھا وہ ختم ہو گیا۔

یہ باتیں تو ان معاملوں کے سامنے بہت چھوٹی ہیں جو عموماً ہندی صحافت میں، خصوصاً ہندی ٹی وی صحافت میں افواہوں کے طور پر گشت کیا کرتی ہیں۔ لیکن سچ مانیے تو وہ افواہیں نہیں ہوتیں اور ان واقعات میں ٹی وی چینلوں کے سینئر ایڈیٹرس، منیجرس وغیرہ کا نام بھی لیا جاتا رہا ہے۔ ان واقعات میں یہ کہانی تو عام ہے کہ کس طرح ایک نوجوان ’انٹرن‘ یا پھر جونیئر نے سینئر ایڈیٹر کے ’ایڈوانٹیز‘ کو برداشت نہیں کیا تو قابل ہونے کے باوجود اسے نہ تو ترقی دی گئی اور نہ ہی اہم اسائنمنٹ، بلکہ ایسے حالات میں تو کچھ خواتین کو ’ڈیموٹ‘ تک کر دینے کی بات ہندی میڈیا کے اندرونی گلیاروں میں چلی۔

پھر ہندی کی خواتین صحافی کیوں خاموش ہیں؟ ظاہر طور پر ہندی صحافت میں کام کرنے والی خواتین دفتری دباؤ کے علاوہ گھریلو دباؤ میں بھی ہوتی ہیں۔ ہندی صحافت کا پاور اسٹرکچر کچھ ایسا ہے کہ اگر وہ بولیں گی تو ہو سکتا ہے انھیں ملازت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اگر فری لانسر ہیں تو مزید مشکل ہے۔ آپ کو کام ملے گا ہی نہیں۔ اور اگر یہ جنسی استحصال کی بات برسرعام ہو گئی تو خاندان میں شرمندگی بھی جھیلنی پڑ سکتی ہے۔ جب اتنا کچھ داؤ پر لگا ہو تو کیوئی کیوں بولے گا؟

انگریزی صحافت میں آنے والی خواتین اور لڑکیاں عام طور پر زیادہ خوشحال اور لبرل فیملی سے ہوتی ہیں۔ وہ کم از کم فیملی کی سطح پر پراعتماد ہوتی ہیں کہ وہاں انھیں سپورٹ ضرور حاصل ہوگا۔ ایسے میں ہندی کی صحافی جو خواتین کی خود مختاری اور مسائل نسواں پر خوب لکھتی ہیں، اکثر خود کی حالت پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اس خاموشی سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہندی صحافت میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ یہ خاموشی ان کی پریشانی کا ہی حال بیان کرتی ہے۔ اگر ہندی کی، یا پھر یوں کہیں کہ علاقائی زبانوں کی خاتون صحافیوں نے جنسی استحصال کے تجربات شیئر کرنے شروع کیے تو جیسا انگریزی میں کہتے ہیں... اس کاجل کوٹھری میں سے کئی کنکال بھربھرا کر سامنے آئیں گے جن کا سامنا کرنا میڈیا کی دنیا کے لیے مشکل ہو جائے گا۔