دختر رسول حضرت فاطمہ زہراؐ کی شہادت

آپ کا اسم گرامی فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سیدة النساء العلمین، راضیة، مرضیة، شافعة، صدیقہ، طاہرہ، زکیہ، خیر النساء اور بتول ہیں۔ آپ کی مشہور کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

رسول اکرمؐ کی دختر گرامی اور حضرت علی علیہ السلام کی شریک حیات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مسلمان عورتوں کے لئے ایک جامع اور مکمل نمونہ تھیں اور خود رسول اکرمؐ نے آپ کو سیدة نساء العالمین قرار دیا ہے۔ آپ کی زندگی بہت مختصر لیکن عظیم اخلاقی اور معنوی درس کی حامل تھی۔ یہ عظیم خاتون اسلام کے ابتدائی دورکے مختلف مراحل میں رسول اکرمؐ اورحضرت علی کے ساتھ رہیں۔ آپ نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین جیسے صالح فرزندوں کی تربیت کی، جو رسول اکرم کے قول کے مطابق جوانان جنت کے سردار ہیں۔

آپ کا اسم گرامی فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سیدة النساء العلمین، راضیة، مرضیة، شافعة، صدیقہ، طاہرہ، زکیہ، خیر النساء اور بتول ہیں۔ آپ کی مشہور کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیہا ہے، یعنی اپنے باپ کی ماں، یہ لقب اس بات کا ترجمان ہے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاہتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں۔ پیغمبر اسلامؐ نے آپ کو ام ابیہا کا لقب اس لئے دیا کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ہیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لہٰذا اس لقب (ام ابیہا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدا بھی ہے۔ کیونکہ یہ آپ ہی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ امامت اور ولایت نے رشد پایا، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خداؐ کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا۔

حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت بعثت کے پانچویں سال 20 جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ہوئی۔ جناب سیّدہ کو اپنے بچپن میں بہت سے ناگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کی عمر میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا، اب باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسولؐ کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھیں۔ کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان دیکھتیں تو کبھی سنتیں کہ مشرکوں نے بابا کے سر پر کوڑا ڈال دیا۔ کبھی سنتیں کہ دشمن بابا کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ ڈریں نہ سہمیں نہ ہی گھبرائیں بلکہ اس ننھی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی مددگار بنی رہیں۔

حضرت فاطمہ اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ کی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں جود و سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوہر حضرت علی کے لیے ایک دلسوز، مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں۔ آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ آپ نے شادی سے پہلے کی 9 سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور4 سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کیے اور شادی کے بعد کے دوسرے 9 سال اپنے شوہر حضرت علی مرتضیٰ کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گزارے۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت، گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گزرتا تھا۔ فاطمہ اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا نے شادی کے بعد جس نظام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں، جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔ یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہ لیکن نہ تو کبھی تیوریوں پر بل پڑے اور نہ کبھی اپنے شوہر سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار رسولِ خداؐ سے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسولؐ نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا کے نام سے مشہور ہے۔ 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمد اللہ اور 33 مرتبہ سبحان اللہ۔

حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئیں کہ کنیز کی خواہش ترک کر دی۔ بعد میں رسولؐ نے بلا طلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضّہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ اپنی کنیز فضّہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاو نہیں کرتی تھیں بلکہ ان کے ساتھ دوست جیسا سلوک کرتی تھیں۔ وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضّہ سے کراتیں۔ اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں۔ بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل ہے۔ اس تقسیم کار کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ نے مکمل طریقہ پر دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔ لہٰذا حضرت فاطمہ زہرا نے کبھی میدان جنگ میں قدم نہیں رکھا لیکن جب کبھی پیغمبرؐ میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھوتیں تھیں اور جب علی خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ اسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چہار دیواری میں رہ کے کرتی ہیں۔ ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہرآئیں اور وہ تھا مباہلے کا موقع۔ کیونکہ یہ ایک پرامن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔ یعنی صرف مباہلہ کا میدان ایسا تھا جہاں سیدہ عالم خدا کے حکم سے برقع و چادر میں نہاں ہو کر اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔

حضرت فاطمہ زہرا کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسولؐ فاطمہ زہرا سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے۔ اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ ان کے پاس آتی تھیں تو آپؐ تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔ رسولؐ کا یہ برتاو فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا۔ افسوس ہے کہ وہ فاطمہ جن کی تعظیم کو رسول کھڑے ہوجاتے تھے، رسول کے جانے کے بعد اہل زمانہ کا رخ ان کی طرف سے پھر گیا۔

سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسول خداؐ کی وفات کے 3 مہینے بعد 3 جمادی الثانی سن 11 ہجری قمری میں وفات پائی۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا۔ حضرت علی نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔ صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی، مقداد و عمار جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ آپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجد رسولؐ کا جز بن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا۔ مدینہ منورہ میں اس مبارک روضہ کو 8 شوال 1344 ہجری قمری میں دوسرے مقابر اہل بیت علیہ السّلام کے ساتھ منہدم کر دیا گیا۔